Wed, September 16, 2026

پاکستان نے غزہ میں جاری جنگ کو انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ قرار دیدیا

 پاکستان نے غزہ میں جاری جنگ کو انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ قرار دیدیا

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے غزہ میں جاری جنگ کو انسانیت کے ضمیر پر ایک بدنما داغ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں اب تک 55 ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں ہزاروں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور عبادت گاہوں تک کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ قحط کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔ امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے عملے پر بھی حملے ہو رہے ہیں، جو واضح طور پر انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اب خاموشی ترک کر کے عملی اقدامات کیے جائیں، کیونکہ اقوام متحدہ کا نظام، بالخصوص سلامتی کونسل، آزمائش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ قابض طاقتیں خود کو مظلوم ظاہر کر رہی ہیں، جبکہ اصل میں وہ قانون توڑنے والی ہیں۔

پاکستان نے جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کی مکمل حمایت کا اظہار کیا، جس میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی، اور اسرائیل کو اس کی قانونی ذمہ داریوں کی یاد دہانی شامل ہے۔ سفیر نے زور دیا کہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جائے تاکہ وہاں امداد باآسانی پہنچ سکے۔

آخر میں، انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان آئندہ ہفتوں میں فلسطین سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کا منتظر ہے، جس کی مشترکہ قیادت فرانس اور سعودی عرب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس موقع کو پائیدار امن اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

ٹیگز: