Wed, September 16, 2026

ہر موجِ ہوا کی سانس رکتی!

ہر موجِ ہوا کی سانس رکتی!

دنیا مسلسل ٹرمپ کے نت نئے بیانات اور اقدامات کے رولر کوسٹر (چکرا ڈالنے والے جھولے کے) اثرات کی زدمیں ہے۔ اکتوبر2023ءمیں امریکی تھپکی سے، ہتھیاروں،طیاروں، ڈالروں کی اسرائیل کو بلا تعطل ۱ڑھائی سال فراہمی نے غزہ کو کھنڈر اور ملبوں، قبرستانوں میں بدل ڈالا۔ پوری دنیا سوائے مظاہروں ، بیانات،برا بھلاکہنے، مجرم قرار دینے، برائے نام امداد(اونٹ کے منہ میں زیرہ) کے کچھ نہ کر سکی۔ 81سالہ نسیان کے مریض بائیڈن کے بعد خبطی، سودائی رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ڈونلڈ ٹرمپ (جو صیہونی ایجنٹ ، آلہ¿ کار بھی تھا) گلوب ویلج کی کرسی¿ صدارت پر آن بیٹھا۔ نسیان اس کا بھی کچھ کم نہ تھا۔ کہاوت ہے کہ گیدڑ کی کم بختی آئے تو شہر کو بھاگا جائے۔ یعنی برے دن آتے ہیں تو تدبیریں بھی الٹی سوجھتی ہیں۔ سو باوجودیکہ امریکی تاریخ خود اپنے اندر اسباق رکھتی ہے مگر ٹرمپ پھولا بیٹھا ہے۔ ویت نام کی کہانی پرانی سہی مگر افغانستان کا شدید چرکہ، ہزیمت کھربوں ڈالر تباہ کرکے بڑے بے آبرو ہو کر اس کوچے سے نکلنا بھی یاد نہ رہا؟ امریکی فوج تابوت اٹھائے، معذور، نفسیاتی مریض، خودکشی کرتی پسپائی پر مجبور کر دی گئی ۔ عراق میں عملاً منہ پر جوتا کھا کر صدر بش نے وہاں سے نکلنے میں امریکہ کی عافیت جانی! 
غزہ بھی کوئی فتوحات کی کہانی نہیں ہے۔ اہل غزہ، نہتے، دنیا بھر میں تنہا، مزاحمت اور استقامت کی مبہوت کن مثال بن کر ملکوں، ملکوں نظام بدل ڈالنے کی جرا¿ت، حرارت دنیا کے ہر زندہ ضمیر کو دے گئے۔ پورا گلوب مسلسل تھرارہا ہے۔ 8درجے کا زلزلہ، قدموں تلے لرزا رہا ہے۔ چلیے ایک ننھا سا ڈھائی تین ماہ کا بچہ دیکھیے۔ شاید آپ کو پیمانہ¿ استقامت سمجھ آجائے۔ اس کے باپ نے یہ جڑواں بہن بھائی سامنے لٹا کر محبت بھری تنبیہہ کی۔سنو غور سے! آج سے تمھیں دن میں تین فیڈر ملیں گے اور رات میں دو، باری باری دونوں سے مخاطب ہے۔ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ دودھ کا ایک ڈبہ 23ڈالر کا آتا ہے۔ کچھ خیال کرو! بیٹا اس پر ننھا سا کھلکھلاتا ، چہچہاتے خوبصورت قہقہے لگا رہا ہے۔ باپ جتنی مرتبہ اسے مخاطب کرتا ہے اس کی خوبصورت آوازدنیا بھر کا مذاق اڑاتی، خوشدلی سے، ہنساتی بھی ہے ، رلاتی بھی ! باپ کہتا ہے: ارے لڑکے کچھ خیال کرو۔ میں سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔ تم ہنس رہے ہو۔ کل سے یہی سب ملے گا۔ بیٹی سے کہتا ہے۔ اور محترمہ! تم خاموش ہو؟ رحم کرو ہمارے حال پر۔ بہت ہو گیا بس؟ اللہ انھیں برکتوں سے بھردے (آمین) یہ منظر ہنساتا، رلاتا ہے۔ محبت، اخوت، دعائیںابلتی ہیں! اس باپ کے پچھلے بچے شہید ہو جانے پر اللہ نے یہ خوبصورت موتیوں کی جوڑی عطا کر دی۔ غزہ ان شاءاللہ زندہ و پائندہ رہے گا۔ مخبوط الحواس، بے رحم، ظالم دنیا کے بیچ۔ ’فلسطین ایکشن‘ برطانوی تنظیم (پابندی زدہ، فلسطین نواز) کے زندہ ضمیر نوجوان بھوک ہڑتال کے 60دنوں میں جان گنوا دینے کے خطرے میں ہیں۔ اللہ انھیں سلامتی اور ایمان دے۔ یہ دنیا میں انقلاب کی نوید ہیں۔ (آمین)
غزہ میں جنگ بندی امریکہ، اسرائیل کے ہانپ جانے کی بنا پر ہے! ناقابلِ تصور حد تک پیسہ برباد کرکے، اسرائیلی فوج پاگل معذور، ختم کروا کر تھک ہار چکے تھے۔ سوچا کہ اب دھمکانے کے دوسرے محاذوں کی طرف چلو۔ یہ باقی ماندہ کام خود مسلمانوں سے کرواﺅ۔ سو شرم الشیخ میں سارے شیوخ کو اکٹھا کرکے امریکہ، اسرائیل کی سربراہی میں فلسطینیوں کو نہتا کرنے، دنیا کا دھیان بٹانے اور غزہ جیسے تیسے خالی کروانے کا کام ان مسلم ممالک کے حوالے کر دیا۔ اسرائیل، لبنان و شام کو چل دیا۔ شام چونکہ ملحمة الکبریٰ (احادیث میں مذکور بڑی بھاری عالمی جنگ جسے عیسائی، یہودی ’آرمیگاڈان‘ کہتے ہیں) کا مرکز ہو گا۔ سو یہاں سر پھرے یا راسخ العقیدہ اسلام مسلمانوں کو پنپنے نہ دیا جائے اسی لیے یہاں جولانی جیسا حکمران ہو۔ اور پھر باقی خبر لینے کو اس دوران فرانس، برطانیہ، امریکہ، اردن سبھی نے بہانہ بازی سے پے در پے 70جگہ بمباریاں کیں۔ لبنان میں ایک ہی دن میں 80سے زائد (عورتیں، بچے سمیت) مار ڈالے۔ غزہ میں بھی ’جنگ بندی‘ کے90 دن میں 1193خلاف ورزیاں اسرائیل نے کیں۔ دیوانے مناظر ہیں یہ!
امریکہ اندرونی طور پر ’ICE‘ کے غیر قانونی تارکین وطن پکڑنے کی تلاش میں ایک خاتون کے قتل کے بعد زلزلہ براندام ہے۔ شہر شہر بدترین مظاہرے ہیں ۔ ایک بینر امریکی حقیقت بیان کرتا ہے:’ایک چوری شدہ زمین پر کوئی بھی غیرقانونی نہیں۔‘ یعنی ریڈ انڈین جو اصلی امریکی باشندے تھے ان کی آبادیوں کو ہلاک کرکے زبردستی (فلسطین پر اسرائیل کی طرح) قبضہ جما کر اب تم (امریکی حکمران) کسی کو بھی غیر قانونی کہنے کا حق نہیں رکھتے۔ ICEاہلکار اسرائیل سے تربیت پا کر عین انہی جیسے متکبر اور جابر ہیں۔ ایک عورت کو اپنی امریکی شناخت ثابت کرنے کو کہا تو ڈپٹ کر بولی کہ میں اصلی امریکی رہائشی ہوں(Native) ۔ تم یہاں سے نکل جاﺅ، یہ میرا ملک ہے! لینے کے دینے پڑ گئے۔ ICEمنجمد ہو گئی!
ٹرمپ کی آئے روز مداخلتیں کرنے اور کروانے کی داستان نے ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کو مکمل (Disorder)یعنی افراتفری، بدنظمی، درہم برہم کر دینے کے سوا کچھ نہ دیا۔ دنیا انتشار اور ہڑبونگ کا شکار ہے، اس ہڑبونگیے صدر اور اس کی انتظامیہ کے ہاتھوں۔ وینزویلا میں جو پاکھنڈ مچایا۔ اسرائیل کی کارکردگی اب گویا ’نیونارمل‘ ہے۔ نیتن یاہو، ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ’لڑو جیسے چاہو‘ نصب العین (Motto) لے کر دنیا پر چڑھ دوڑے ہیں۔ وینزویلا پر قبضہ جمانے کے لیے، تیل کے سارے کنویں، مٹکے چرانے کو جن منشیات کا بہانہ گھڑا تھا لگتا ہے وہ ان سبھی ٹرمپیوں نے خوب استعمال کی ہیں۔ ان کے نشے میں مخمور اب سبھی کو دھمکا رہے ہیں۔ امریکہ، کیوبا، میکسیکو، کولمبیا کے بھی در پے ہے۔ کیوبا سے کہا (طنزاً) کہ مار کو روبیو اب کیوبا کا صدر ہو گا!اور امریکی سیکرٹری دفاع ہیگستھ نے کہا: امریکہ اپنی مرضی ارادے کا اظہار کہیں بھی کسی بھی وقت (کسی بھی شکل میں) کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے شروع میں کینیڈا کو بھی ضم کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔ پھر رک گیا۔ پھر گرین لینڈ ہتھیانے کی خواہش ظاہر کرکے اسے مو¿خر کر دیا۔
اب پھر گرین لینڈ کا دورہ پڑا ہے۔ جس پر ڈنمارک اور خود گرین لینڈ والے بھی شدید سیخ پا ہیں۔ گرین لینڈ کی پانچوں پارٹیوں نے کہا ہے کہ وہ امریکی نہیں بننا چاہتے۔ (کل کلاں برفانی گرین لینڈ پر ICEوالے آ چڑھیں گے؟) ایک خاتون شدید ناراض ہے کہ ٹرمپ ہمارے خلاف یہ نفسیاتی جنگ بند کرے۔ یہ ہماری معدنیات سے اپنے قرضے اتارنا چاہتا ہے۔ ڈنمارک نے صاف جواب دے دیا ہے کہ ہم اپنا دفاع کریں گے۔ ایسا اقدام نیٹو کے خاتمے پر منتج ہو گا۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ ایران کو دھمکانے کی تھی۔ اب ٹرمپ بار بار ایران میں مداخلت کا عندیہ ظاہر کر رہاہے کہ :’میرے پاس بہترین متبادل اختیار موجود ہے۔ امریکی فوج اور انتظامیہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اپوزیشن سے رابطہ ہے‘۔ جواباً ایرانی سپیکر پارلیمنٹ نے امریکی فوج اور اس کی بحری قوت کو جائز نشانہ قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق جتایا۔
ٹرمپ خود بھی نوبل امن انعام کا حق رکھنے کا دعویٰ کرتا رہا۔ ادھر ہم بھی ہر کچھ دن بعد نعرئہ ہائے بابائے امن، گلوبل چوہدری صاحب کے لیے لگادیتے تھے۔ اب تو دنیا بھر کے عوام و خواص اس پر دانت ہی ’پیس‘ (Peace)رہے ہیں! انگریزی میں بھی یہ Peaceکی بجائے Piece، دنیا کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کا متمنی ہے۔ پھر رئیل اسٹیٹ ایجنٹ ان ٹکڑوں کو بیچ کر 81سال کی عمر میں نجانے کیا کمائے گا؟
امریکی تھانیداری چین اور روس سے تعلقات میں بھی بگاڑ لا رہی ہے۔ حالیہ یو این سیکورٹی کونسل اجلاس میں چین، روس اور امریکی اتحادیوں نے امریکہ کا ساتھ نہ دیا۔ مگر امریکہ اپنی متکبرانہ نشے میں.... بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی، کیفیت میں رہا۔ پوری دنیا کی نفرت اور ناراضگی کا نشانہ بنا ٹرمپ! نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں کہہ گزرا کہ: ’مجھے بین الاقوامی قانون درکار نہیں۔ امریکی صدر کی حیثیت سے میرے لیے طاقت کے استعمال میں واحد بندش یا رکاوٹ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے ۔‘ اخلاقیات؟ ایپسٹین سیکنڈل، غزہ کے ملبوں تلے دبی لاشیں، خاندان، کھنڈرات۔ معصوم بچوں کے سروں میں ماری گولیاں؟ رہا دماغ تو .... گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل!چپ ہی بھلی! سبھی کے دماغ خراب کر ڈالے جو بھی قریب گیا۔ اس وقت دنیا کے مرکز میں واقع مشرقِ وسطیٰ میں کچھ ٹرمپ اور کچھ اپنوں کے ہاتھوں جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ یمن پر شدید الجھاﺅ (سعودی عرب اور امارات مابین) کیا رنگ لائے گا؟ اللہ خیر کرے!
ہر موجِ ہوا کی سانس رکتی
ہر ذرے کا دل دھڑک رہا ہے

ٹیگز: