Wed, September 16, 2026

آزاد کشمیر عوامی معاہدہ: 17 بڑے مطالبات پر عملدرآمد مکمل، کابینہ کا حجم 20 وزراء تک محدود

آزاد کشمیر عوامی معاہدہ: 17 بڑے مطالبات پر عملدرآمد مکمل، کابینہ کا حجم 20 وزراء تک محدود

اسلام آباد :وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام نے اسلام آباد میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے آزاد کشمیر عوامی معاہدے پر ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ کیے گئے 37 میں سے 17 اہم مطالبات پر مکمل عملدرآمد کر لیا ہے۔
    کابینہ میں کمی: عوامی مطالبے پر کابینہ کا حجم کم کر کے صرف 20 وزراء تک محدود کر دیا گیا ہے۔
    ملازمین کی بحالی: احتجاجی تحریک کے دوران معطل کیے گئے تمام ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے۔
    مقدمات کی واپسی: مظاہرین کے خلاف درج 177 ایف آئی آرز (FIRs) واپس لے لی گئی ہیں۔
    احتسابی نظام: نیب قوانین کے تحت آزاد کشمیر میں سخت اور شفاف احتسابی نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔
    شہداء پیکیج: ستمبر 2025 کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد کے ورثاء کو 120 ملین روپے سے زائد کی ادائیگیاں اور سرکاری نوکریاں فراہم کر دی گئی ہیں۔
    ٹیکس اصلاحات: پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات نافذ کر دی گئی ہیں۔    ترقیاتی فنڈز: 10 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ فنڈز پر کام تیزی سے جاری ہے۔ مظفرآباد اور کوٹلی میں 2 نئے تعلیمی بورڈز کی منظوری۔ دانش اسکولوں کی تعداد 5 کر دی گئی اور دانش یونیورسٹی کے قیام کا اعلان۔    صحت: 9.9 ارب روپے کے 3 بڑے منصوبے منظور۔ تمام اضلاع میں MRI اور CT Scan مشینوں کی تنصیب مکمل۔
    پانی و بجلی: 10 اضلاع میں سے 5 میں پانی کی فراہمی کے منصوبے مکمل۔ بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کی اسکیم آخری مراحل میں ہے۔    میرپور ایئرپورٹ: ایئرپورٹ کی فزیبلٹی رپورٹ آخری مرحلے میں داخل۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جائیداد کے حقوق کی پالیسی اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں اصلاحات جلد کابینہ میں پیش کی جائیں گی، جبکہ بقیہ مطالبات پر بھی کام جاری ہے۔

ٹیگز: