Wed, September 16, 2026

ریاستی رٹ اور عوامی مطالبات: آزاد کشمیر میں مفاہمت سے پابندی تک کا سفر

ریاستی رٹ اور عوامی مطالبات: آزاد کشمیر میں مفاہمت سے پابندی تک کا سفر


آزاد جموں و کشمیر (AJK) کی حالیہ سیاسی اور سماجی تاریخ میں ستمبر 2023 کا مہینہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا جب عوامی مطالبات کے گرد گھومتی ایک نئی تحریک نے جنم لیا۔”جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ (JAAC) نے آٹے پر سبسڈی، بجلی کے نرخوں میں کمی اور مراعات یافتہ طبقے کی مراعات کے خاتمے جیسے تین بنیادی معاشی مطالبات کے ساتھ جنم لیا۔ یہ تحریک مئی 2024 میں شدید احتجاج، شٹ ڈا¶ن اور پرتشدد تصادم کی شکل اختیار کر گئی جس نے ریاست کے امن و امان کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا۔ تاہم اکتوبر 2025 میں حکومت آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پایا جس کا مقصد عوامی فلاح، گڈ گورننس اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا تھا۔
اسی تناظر میں جون 2026 کی تازہ ترین ”پروگریس رپورٹ“ کے مطابق حکومت آزاد کشمیر نے اس معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں نمایاں اور خاطر خواہ کامیابی حاصل کی ہے۔ جائزہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کل 44 مطالبات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن میں سے 24 مطالبات کو مکمل طور پر نافذ العمل کیا جا چکا ہے جبکہ 16 مطالبات جزوی طور پر مکمل یا زیر غور ہیں۔ صرف 4 مطالبات ایسے ہیں جو تعطل کا شکار ہیں یا موجودہ حالات میں قابلِ عمل نہیں پائے گئے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے عزم کو نبھاتے ہوئے بڑی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔تاہم حکومت کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کی سب سے بڑی مثالیں امن و امان کی بحالی اور مظاہرین کے حقوق کا تحفظ ہے۔ معاہدے کے تحت احتجاج کے دوران درج ہونے والی 177 ایف آئی آرز (FIRs) کو واپس لے لیا گیا ہے جبکہ صرف 15 ایسے کیسز باقی رکھے گئے ہیں جو قتل جیسے سنگین جرائم سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ تمام معطل ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی پر نظرثانی کر کے اسے نافذ کر دیا گیا ہے۔
سیاسی اور انتظامی سطح پر کابینہ کے ارکان کی تعداد کو محدود کر کے صرف 20 وزراءتک لا کھڑا کیا گیا ہے جو کہ حکومتی اخراجات میں کمی اور اشرافیہ کے استحقاق کو کم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ بلدیاتی ایکٹ کی منظوری اور فنڈز کی منتقلی کا عمل بھی جاری ہے جس سے نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہوں گے۔تعلیمی اور سماجی شعبوں میں بھی غیر معمولی پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے اور دو اضافی تعلیمی بورڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اسکولوں اور کالجوں کے لیے 5 کلو واٹ (5KW) لوڈ کے چارجز کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہیلتھ کارڈ کا کامیاب نفاذ کیا گیا اور گندم کی سپلائی کے م¶ثر اقدامات کیے گئے۔ احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے خاندانوں کو بھاری معاوضہ ادا کیا گیا جس میں 7 جاں بحق افراد کے لواحقین کو 70 ملین روپے اور 48 زخمیوں کو 48 ملین روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی۔اس کے علاوہ کئی بڑے منصوبوں اور مطالبات پر بھی اہم ترین پیش رفت کی گئی ہے۔
دوسری جانب بد قسمتی سے جہاں ایک طرف حکومت نے عوامی مطالبات کو تسلیم کرنے میں فراخ دلی دکھائی وہیں مئی اور جون 2026 میں جے اے اے سی کی جانب سے دوبارہ احتجاج اور مارچ کی کالز نے ریاست کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔ جے اے اے سی نے 11 مئی 2026 کو مزید 8 مطالبات سامنے رکھ دیے۔ امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سخت فیصلہ لیتے ہوئے 5 جون 2026 کو ”جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ کو قانوناً کالعدم قرار دے دیا۔تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اب وفاقی اور ریاستی سکیورٹی اداروں نے اس کی مالی معاونت یعنی” فنڈنگ“کو روکنے کے لیے ایک سخت اور جامع ترین قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ چونکہ اس کمیٹی نے اپنی ہٹ دھرمی کو روا رکھتے ہوئے ہر بار حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے تاہم حکومت اب اس کالعدم تنظیم کی فنڈنگ کی جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اب اس تنظیم یا اس کے شناخت شدہ رہنما¶ں کو مالی سہولت کاری، چندہ یا عطیہ فراہم کرنا ایک سنگین جرم تصور کیا جائے گا جس پر قانون کے مطابق سخت گرفت ہوگی۔
علاوہ ازیں حکومتی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جے اے اے سی کے رہنما¶ں اور اس سے منسلک مشتبہ اکا¶نٹس میں رقوم بھیجنے والوں کی مکمل ”منی ٹریل“ کو ٹریک کیا جا رہا ہے۔ بینک ٹرانسفرز، موبائل والٹس (جیسے ایزی پیسہ، جیز کیش) اور دیگر تمام ڈیجیٹل بینکنگ کے ذرائع سے ہونے والی مشکوک ٹرانزیکشنز پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔اس ضمن میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی فرد یا گروپ کسی دوسرے نام، مہم یا سماجی عنوان کے تحت بھی اس کالعدم تنظیم کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے بھی دہشت گردی اور قانون شکنی کی دفعات کے تحت سخت ترین کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تمام مالی ریکارڈ، بینک اکا¶نٹس کی تفصیلات اور ڈیجیٹل رسیدیں قانون کے مطابق محفوظ کی جا رہی ہیں تاکہ عدالتوں میں ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔ اس کارروائی کا دائرہ کار صرف ملک کے اندر تک محدود نہیں ہے بلکہ اندرونِ ملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی مشکوک ترسیلاتِ زر (Remittances) کی بھی سخت قانونی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر کا یہ دوہرا رخ ایک طرف تو گڈ گورننس اور عوامی بہبود کے جذبے کا عکاس ہے، جہاں اس نے 44 میں سے اکثریتی مطالبات کو تسلیم کر کے نافذ کیا، معاوضے دیے، اور ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔ لیکن دوسری طرف ریاست کی رٹ قائم رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ جب ایک تنظیم امنِ عامہ کے لیے خطرہ بن جائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے متوازی نظام کھڑا کرنے کی کوشش کرے تو اس پر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے پابندی اور اس کی فنڈنگ کے ذرائع کا خاتمہ قانونی ضرورت بن جاتا ہے۔لہذا عوام کے لیے اب یہ واضح ہدایت ہے کہ وہ کسی بھی جذباتی مہم کا حصہ بن کر اس کالعدم تنظیم یا اس کے رہنما¶ں کے اکا¶نٹس میں رقم منتقل کرنے سے گریز کریں کیونکہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے اس دور میں قانون کی گرفت سے بچنا ناممکن ہوگا۔ ترقی اور امن دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ریاستی قوانین کا احترام ہی آزاد کشمیر کو خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھ سکتا ہے۔

ٹیگز: