لاریب کتاب میں ارشاد ہے :اور ان کے مقابلے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق قوت اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی تعاون کواس قرآنی اصول کے ایک عصری انتظامی و دفاعی اظہار کے طور پر دیکھا جا نا چا ہیے، آیت کا پیغام یہ نہیں کہ مسلمان ہر وقت جنگ کی تیاری میں رہیں، بلکہ یہ ہے کہ اتنے کمزور نہ ہوں کہ دشمن آسانی سے حملہ کر سکے۔
عالمِ اسلام کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی ایسے لمحات آئے ہیں، جب تین اہم اسلامی ممالک ایک ایسے دفاعی معاہدے پر متفق ہو جائیں، جو محض علامتی نہ ہو بلکہ عملی طور پر اجتماعی سلامتی کا خاکہ پیش کرے۔ مکہ مکرمہ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے مابین طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ اسی نوعیت کا ایک تاریخ ساز اقدام ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی سفارتی اور سٹریٹیجک حلقوں کی توجہ حاصل کی ہے۔وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت ردِعمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ملک اور خطے کے دفاع میں تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ یہ بیان محض سفارتی رسمی کلمات نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی کا اعلان ہے، جو پاکستان کی خارجہ اور دفاعی حکمتِ عملی کے نئے رخ کی نشاندہی کرتا ہے۔یہاں یہ نکتہ خاص طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ منصوبہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا مقصد کسی پر جارحیت کرنا یا کسی دوسری ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ خالصتاً اپنا اور خطے کا دفاع یقینی بنانا ہے۔ تینوں ممالک نے واضح کیا ہے کہ یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا بنیادی محور اجتماعی سلامتی، باہمی تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کا فروغ ہے، نہ کہ کسی خطے یا ملک کے خلاف صف بندی۔
مکہ دفاعی معاہدہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مابین ہونے والی سربراہی ملاقات کے نتیجے میں طے پایا۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کو تقویت مل سکے۔اس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت ایک باقاعدہ ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اسلامی اتحاد کا سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا ،جو تینوں ممالک کے فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ دفاعی تعاون کو مربوط رکھنے کا مرکز ہوگا۔ ترکیہ اور عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کو پہلے تین سالہ دور کے لیے اس سیکریٹریٹ کی سربراہی سونپی جائے گی، جس کے بعد یہ ذمہ داری بالترتیب سعودی عرب اور ترکیہ کو منتقل ہو گی۔ یہ امر پاکستان کی سفارتی اور عسکری ساکھ پر عالمِ اسلام کے اعتماد کا واضح مظہر ہے۔اسی طرح فیصلہ سازی کے عمل کو موثر بنانے کے لیے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور سربراہانِ افواج پر مشتمل ایک اعلی سطحی کونسل تشکیل دی جائے گی، جس کا سال میں کم از کم دو مرتبہ اجلاس متوقع ہے۔ یہ ادارہ جاتی نظم و ضبط اس بات کی ضمانت ہے کہ معاہدہ محض کاغذی دستاویز نہیں رہے گا بلکہ اس پر مسلسل عملدرآمد ہوتا رہے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس معاہدے کو ایک بڑا، جرات مندانہ اور انتہائی اہم قدم قرار دیا۔ ان کے بقول یہ معاہدہ مشرقِ وسطی کے ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی قربت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک عالمی طاقت کی جانب سے اس نوعیت کے حوصلہ افزا بیان کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی اسے تزویراتی توازن کے تناظر میں اہمیت دی جا رہی ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کی اس قیادت کو بھی سراہا جس نے، ان کے الفاظ میں، جنوبی ایشیا میں جوہری تباہی رونما ہونے سے روکنے اور لاکھوں جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے دیرپا امن کو خطے کی اقوام کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے سب سے اہم بنیادی شرط قرار دیا۔ یہ بیانیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت علاقائی کشیدگی کو کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازعات حل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کئی جہتوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔ اول، یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی سفارت کاری کو نئی جہت عطا کرتا ہے، جس سے وہ نہ صرف اپنے روایتی حلیف سعودی عرب بلکہ ترکیہ کے ساتھ بھی ادارہ جاتی سطح پر دفاعی تعلقات کو مستحکم کر سکے گا۔ دوم، سیکریٹریٹ کی پہلی سربراہی حاصل کرنا پاکستان کے لیے ایک اعزاز کے ساتھ ساتھ بھاری ذمہ داری بھی ہے، کیونکہ ابتدائی تین برسوں میں ادارے کا ڈھانچہ، اصول و ضوابط اور کارکردگی کے معیارات وضع کرنا پاکستان کی سفارتی اور عسکری قیادت کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ سوم، یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی بالواسطہ فوائد کا حامل ہو سکتا ہے۔ دفاعی تعاون اکثر تجارتی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ دونوں پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور دفاعی سطح پر بڑھتا ہوا اعتماد اس عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ چہارم، اس معاہدے کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا کے حساس سیاسی و سکیورٹی ماحول میں تین اہم اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ اجتماعی دفاعی وابستگی کا اعلان ایک مضبوط پیغام ہے کہ مسلم دنیا اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو سکتی ہے اور یہ کہ ایسا اتحاد کسی جارحانہ عزائم کے بجائے دفاعی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔
بلاشبہ کسی بھی کثیرالجہتی معاہدے کی طرح مکہ دفاعی معاہدے کو بھی عملی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تینوں ممالک کے مختلف علاقائی ترجیحات، بین الاقوامی تعلقات اور سلامتی کے خدشات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا آسان کام نہیں۔ نیز ایسے کثیر جہتی دفاعی اتحادوں کی کامیابی کا انحصار مستقل سیاسی عزم، شفاف ادارہ جاتی کارکردگی اور بروقت فیصلہ سازی پر ہوتا ہے۔ اگر سیکریٹریٹ اور اعلی سطحی کونسل موثر انداز میں کام کرتے رہے، تو یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ممالک بلکہ وسیع تر اسلامی دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ بن سکتا ہے۔اگر دیکھا جائے تومجموعی طور پر مکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم علامتی اور عملی پیش رفت ہے ،جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین برادرانہ تعلقات کو ایک نئی، زیادہ منظم اور دیرپا بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس امر کی وضاحت بار بار کی جانی چاہیے کہ یہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ محض دفاعی نوعیت کا اتحاد ہے، جس کا مقصد تینوں ممالک اور خطے کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ نہ صرف اپنی دفاعی سفارت کاری کو مستحکم کرنے کا موقع ہے بلکہ عالمِ اسلام میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر اپنا کردار مزید نمایاں کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر تینوں ممالک نے سیاسی بصیرت اور ادارہ جاتی نظم کے ساتھ اس معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھا، تو یہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔