کراچی پاکستان کا معاشی حب، سب سے بڑا صنعتی و تجارتی مرکز اور ملکی معیشت کے لیے ریونیو پیدا کرنے والا اہم ترین شہر ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جس شہر سے وفاقی اور صوبائی خزانے کو اربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، وہی شہر بنیادی شہری سہولتوں کے حوالے سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔ ہر گزرتا دن کراچی کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے اور شہری یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ آخر کراچی کا ٹیکس کراچی پر خرچ ہونے کا وقت کب آئے گا؟کراچی کے مختلف علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شہر کا ایک بڑا حصہ بنیادی انفراسٹرکچر سے محروم ہوچکا ہے۔ ایک سروے کے مطابق کراچی کے تقریباً 60 فیصد علاقے بدترین انفراسٹرکچر کا شکار ہیں۔ ان علاقوں میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے، کئی مقامات پر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ گلیاں اور رابطہ سڑکیں شہریوں کے لیے مستقل اذیت بن چکی ہیں۔ اسٹریٹ لائٹس کا نظام بھی کئی علاقوں میں تقریباً ختم ہوچکا ہے، جس کے باعث رات کے اوقات میں شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔شہر کا سب سے سنگین مسئلہ سیوریج کا نظام ہے۔ متعدد علاقوں میں گٹر ابلتے رہتے ہیں، گندا پانی سڑکوں اور گلیوں میں جمع رہتا ہے اور کئی مقامات پر شہریوں کو اسی آلودہ ماحول سے گزر کر اپنے گھروں، دفاتر، کاروباری مراکز ، تعلیمی اداروں اور مساجد تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام نے کراچی کی بہت سی گلیوں کو غلاظت کا گڑھ بنا دیا ہے۔ بارش کے دوران صورتحال مزید سنگین ہوجاتی ہے اور معمولی بارش بھی کئی علاقوں میں شہری زندگی کو مفلوج کردیتی ہے۔صفائی کے ناقص انتظامات اور گندے پانی کی موجودگی کے باعث شہری مختلف بیماریوں کے خطرات سے دوچار ہیں۔ نت نئے جراثیم اور آلودگی شہریوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ جلدی امراض سمیت مختلف بیماریاں شہر کے متعدد علاقوں میں عام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر کسی شہر میں صفائی، نکاسی آب، پینے کے صاف پانی اور بنیادی صحت کے مسائل مستقل موجود رہیں تو اسے معمول کی شہری صورتحال قرار نہیں دیا جاسکتا۔کراچی کی ماحولیاتی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی، ٹریفک کا دبا¶، صنعتی سرگرمیاں، کچرے کے ڈھیر اور سبزے میں کمی نے شہر کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماحولیاتی بے سکونی نے شہریوں کو ایک علیحدہ مصیبت سے دوچار کر رکھا ہے۔ خصوصاً بزرگ شہریوں کے لیے آلودہ ماحول اور مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پچاس سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے شہر میں پھیلے مختلف امراض اور ماحولیاتی مسائل کو برداشت کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔حکومتی سطح پر وقتاً فوقتاً شجرکاری مہمات کا اعلان کیا جاتا ہے، تقریبات منعقد ہوتی ہیں، پودے لگانے کی تصاویر سامنے آتی ہیں، لیکن ان پودوں کی دیکھ بھال، ان کی حفاظت اور شہر کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مستقل اور مربوط پالیسی نظر نہیں آتی۔ محض نمائشی یا عارضی شجرکاری مہمات اس وقت تک م¶ثر ثابت نہیں ہوسکتیں جب تک شہر میں بڑے پیمانے پر درخت لگانے، موجودہ سبزہ محفوظ رکھنے اور ان کی مسلسل نگہداشت کا قابلِ عمل نظام قائم نہ کیا جائے۔یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کراچی ملک کا ایک بڑا ریونیو انجن ہے۔ یہاں صنعتیں، بندرگاہیں، تجارتی مراکز، کاروباری ادارے، مارکیٹیں، بینکنگ اور مالیاتی سرگرمیاں ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لاکھوں شہری مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس فائلرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، کاروباری طبقہ قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس شہر کے شہریوں کو ان کے ٹیکس کے مقابلے میں بنیادی شہری سہولتیں کیوں نہیں ملتیں؟ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے لیے ایک واضح، شفاف اور قابلِ عمل مالیاتی فارمولا بنایا جائے۔ اگر کراچی ملک کے لیے مسلسل ریونیو پیدا کررہا ہے تو کم از کم ایک ماہ کا کراچی سے حاصل ہونے والا ریونیو شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ اس رقم سے سڑکوں کی ازسرنو تعمیر، سیوریج لائنوں کی مرمت، برساتی نالوں کی بہتری، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی، کچرے کے مستقل نظام، پبلک اسپیسز اور شجرکاری کے منصوبے شروع کیے جاسکتے ہیں۔کراچی کے شہری صدیوں پرانے طرز کے راستوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو دیکھنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دنیا کے بڑے معاشی شہروں میں جدید انفراسٹرکچر، بہتر ٹرانسپورٹ، صاف سڑکیں، منظم سیوریج اور محفوظ شہری ماحول بنیادی ضرورت سمجھے جاتے ہیں۔ کراچی کے ساتھ بھی یہی اصول اپنایا جانا چاہیے۔ شہر کو خیرات نہیں بلکہ اس کا جائز حصہ اور مستقل ترقیاتی ترجیح درکار ہے۔کراچی کی تعمیر و ترقی صرف کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ وفاق، صوبائی حکومت، بلدیاتی اداروں، متعلقہ محکموں، صنعت و تجارت اور شہریوں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاہم سب سے پہلے اختیارات، وسائل اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے تاکہ ایک ادارہ دوسرے کو ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہ کرسکے۔کراچی کو فوری طور پر ایک جامع اربن ری ہیبلیٹیشن پلان کی ضرورت ہے، جس میں اگلے پانچ سے دس سال کے لیے سڑکوں، سیوریج، پانی، صفائی، اسٹریٹ لائٹس، گرین بیلٹس اور شہری صحت کے منصوبے شامل ہوں۔ اس منصوبے کی نگرانی کے لیے شفاف نظام قائم کیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ کراچی سے حاصل ہونے والے ٹیکس اور دیگر محصولات میں سے شہر پر کتنی رقم خرچ کی جارہی ہے۔ یہ وقت سیاسی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا ہے۔ کراچی کے شہری ٹیکس دیتے ہیں، ملکی معیشت چلاتے ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ ان کا حق ہے کہ انہیں صاف، محفوظ اور بہتر شہر فراہم کیا جائے۔ اگر کراچی ملک کا ریونیو انجن ہے تو اس انجن کو چلانے والے شہریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کراچی کا ٹیکس صرف کہیں اور خرچ ہوتا رہے گا یا کراچی کے مستقبل، اس کے انفراسٹرکچر اور اس کے شہریوں پر بھی خرچ ہوگا۔ کراچی کو اس کے ٹیکس کا جائز حصہ دینے کا وقت اب آچکا ہے، کیونکہ ایک مضبوط کراچی ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔