اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے پیش نظر بڑے پیمانے پر اسکریننگ مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت 12 سال سے زائد عمر کے افراد کی اسکریننگ لازمی بنانے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری مراکز میں ہیپاٹائٹس سی کی مفت اسکریننگ جاری ہے، جبکہ نجی ہسپتالوں کو بھی اسکریننگ کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کی بروقت تشخیص ممکن ہو۔
وفاقی وزیر کے مطابق اسلام آباد میں اسکریننگ کے لیے 17 پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں اور اس سہولت کو ملک کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہیں، اس لیے بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی اسکریننگ بھی لازمی ہوگی، جبکہ اسکریننگ کے ریکارڈ کو نادرا کے ڈیٹا سے منسلک کرنے پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت تشخیص کے بعد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مفت اسکریننگ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں اور ہیپاٹائٹس سی کی بروقت تشخیص کے لیے اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔