اسلام آباد : آج دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ حکومت 2030 تک ایک کروڑ 65 لاکھ افراد کی ہیپاٹائٹس کی سکریننگ کرے گی اور جن لوگوں کی رپورٹ مثبت آئے گی، ان کا علاج حکومت مفت کرے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ ہیپاٹائٹس پاکستان میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ اس بیماری کو بروقت نہیں پہچان پاتے اور جگر کو نقصان پہنچنے کے بعد علاج مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے ایک ٹھوس اور منظم حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی شرح کافی زیادہ ہے اور بہت سے لوگ علاج کے بغیر ہی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بیماری کو ختم کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا ہے جس کے ذریعے لوگوں کو آگاہی دی جائے گی، بیماری کی تشخیص کی جائے گی اور علاج مفت فراہم کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی کہا کہ ہیپاٹائٹس ایک خطرناک بیماری ہے جو آہستہ آہستہ جگر کو نقصان پہنچاتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ہیپاٹائٹس کی ویکسین، مفت ٹیسٹ اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں اور لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں شعور بڑھانے کے لیے مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں، ویکسین لگوائیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں۔