Wed, September 16, 2026

عدالت کا پولیس کو حمیرا اصغر قتل کیس میں مقدمہ درج کرنے کا حکم

عدالت کا پولیس کو حمیرا اصغر قتل کیس میں مقدمہ درج کرنے کا حکم

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے  حمیرا اصغر کی پراسرار موت  کیس میں پولیس کو دفعہ 154 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت  دی

کراچی:  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ نے  حمیرا اصغر کی پراسرار موت   کیس میں پولیس کو دفعہ 154 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت  دی۔

عدالت میں دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ حمیرا اصغر کے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں اور پولیس قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر مقدمہ درج کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں تو فوراً مقدمہ درج کیا جائے۔

پولیس نے گزشتہ سماعت میں عدالت کو رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں بتایا گیا کہ پوسٹمارٹم رپورٹ مکمل ہوچکی ہے اور حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔ پولیس نے واش روم اور کمرے سے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی، مگر ان کا فون فروری 2025 تک استعمال ہوتا رہا۔ فون کھلا تھا اور میک اپ آرٹسٹ کا فون بند تھا جبکہ واٹس ایپ ڈی پی بھی حذف کر دی گئی تھی۔ درخواست میں میک اپ آرٹسٹ، حمیرا کے بھائی اور دیگر کو شامل تفتیش کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔

تفتیشی افسر نے کہا تھا کہ ثبوت ملنے پر خود مقدمہ درج کیا جائے گا۔ درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بنایا گیا ہے۔