زندگی جینے کا نام ہے… خوش رہنے کا نام ہے۔ تمام غموں، دکھوں کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے خوش رہنا اور آپ نے خود ہی خوش نہیں رہنا… دوسروں کو بھی خوش رکھنا ہے۔ آپ خوش زمانہ خوش… دوست خوش تو ماحول کی فضاء میں خوش… انسان کو زندہ رہنا ہے اور زندہ رہنے کے لئے آپ کو ان لوگوں سے پرہیز کرنا ہوگا جو آپ کو خوش ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے… اب آپ کو پہلے ایک واقعہ سناتا چلوں تاکہ آپ میری بات کو سمجھ سکیں کہ انسان کے لئے خوشی کتنی ضروری ہے۔
ایک ایونٹ میں، جہاں مشہور شخصیات موجود تھیں، ایک بزرگ شخص لاٹھی کے سہارے سٹیج پر تشریف لائے اور اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔
میزبان نے پوچھا: ’’کیا آپ اب بھی اکثر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں؟‘‘
بزرگ نے کہا: ’’ہاں، میں اکثر جاتا ہوں!‘‘
میزبان نے پوچھا: ’’کیوں؟‘‘
بزرگ نے کہا: ’’مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے، تبھی تو ڈاکٹر زندہ رہ سکتا ہے!‘‘
سامعین نے بزرگ کی مزاحیہ بات پر تالیاں بجائیں۔
میزبان نے دوبارہ پوچھا: ’’کیا آپ اس کے بعد فارماسسٹ کے پاس بھی جاتے ہیں؟‘‘
بزرگ نے جواب دیا: ’’یقینا، کیونکہ فارماسسٹ کو بھی تو جینا ہے!‘‘
اس پر حاضرین نے اور زیادہ تالیاں بجائیں۔
پھر میزبان نے پوچھا: ’’تو کیا آپ فارماسسٹ کی دی ہوئی دوائیاں بھی کھاتے ہیں؟‘‘
بزرگ نے کہا: ’’نہیں! میں اکثر انہیں پھینک دیتا ہوں کیونکہ مجھے بھی تو جینا ہے!‘‘
اس پر سامعین زور زور سے ہنسنے لگے۔
آخر میں میزبان نے کہا: ’’اس انٹرویو میں آنے کا شکریہ!‘‘
بزرگ نے جواب دیا:
’’خوشی ہوئی! مجھے معلوم ہے کہ آپ کو بھی جینا ہے!‘‘
اس پر سامعین دیر تک ہنستے اور خوشی سے تالیاں بجاتے رہے۔
میزبان نے ایک اور سوال کیا: ’’کیا آپ اکثر اپنے واٹس ایپ گروپ میں سرگرم رہتے ہیں؟‘‘
بزرگ نے جواب دیا: ’’جی ہاں، میں کبھی کبھار پیغامات بھیجتا رہتا ہوں کیونکہ میں بھی جینا چاہتا ہوں! اگر ایسا نہ کروں تو سب سمجھیں گے کہ میں مر گیا ہوں اور گروپ ایڈمن مجھے گروپ سے نکال دے گا!‘‘
کہا جاتا ہے کہ یہ مذاق دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آیا، کیونکہ سب کو جینا ہے!
لوگوں کو بتاتے رہیں کہ آپ زندہ ہیں، خوش ہیں اور صحت مند ہیں۔
میرے خیال میں گھٹن کے اس ماحول میں ہم نے خود کو بہت سے مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی کہ ٹینشن آپ کو دوسری بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ سب سے بڑی ٹینشن آپ کا زندگی کے ان مسائل پر قابو پائے گی جدوجہد کرنا ہے جو آپ کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہم ذہن اور جسمانی دونوں طرف سے خود کو بیمار کئے ہوئے ہیں۔ اب کامیاب کون ہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے آپ کی طرح اپنے اردگرد مسائل اتنے پال رکھے ہیں جن کے ساتھ وہ نبرد آزما ہو لیکن اور وہ انہی مسائل کے اندر رہتے ہوئے زندگی کو بسر کرتے ہیں، آپ کے جتنے شدید مسائل ہوں گے اتنے ہی مسائل بھی جنم لیتے ہیں جن پر قابو پانا آسان رہتا ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی اس ملک کے بڑے مسئلے ہیں اور جو ملازم پیشہ ہیں ان کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ایسے میں ہر وقت سوچنا، زندگی کو کوسنا اور اس سے بڑھ کر دوسروں کے لئے بھی پریشانی کا سبب بننا یہ آپ کسی اور کو نہیں خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ زندگی جینے کا نام ہے اور اس کو جب تک آپ زبردست جینے کے ماحول میں نہیں اتاریں گے تو کیسے جیتے رہیں گے۔ یہ ایک سوال ہے اور اس سوال کا ایک سیدھا سادھا جواب ہے کہ خود کو ادھر ادھر دوستوں یاروں میں مصروف کرلیں… اور زیادہ سے زیادہ گپ شپ کیا کریں۔ اچھی فلمیں دیکھیں، اچھی کتاب پڑھیں… اور سب سے بڑی خوشی آپ کو اس وقت ہوگی جب آپ اپنے والدین اور بیوی بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت انجوائے کریں، ان سے زیادہ اچھے دوست اور کون ہو سکتے ہیں۔
زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر
کوئی سمجھا نہیں، کوئی جانا نہیں