ربع صدی سے اقتدار میں موجود 73سالہ ولادی میر پیوٹن طویل سفر طے کر کے اپنے طیارے سے باہر آیا تو ہشاش بشاش تھا، تھکن اسے چھوکر بھی نہ گزری تھی، الاسکا کے اینکریج ائیرپورٹ پر 79سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے خوش آمدید کہنے کے لئے کھڑا تھا جس کے چہرے پر تھکن اور ناامیدی تحریر تھی۔ امریکی صدر نے اپنی روایتی چالاکی سے کام لیتے ہوئے پیوٹن کے لئے سرخ قالین تو بچھوایا لیکن اس کی چوڑائی بہت کم تھی۔ اتنی کم کہ اس پر وہی چل سکتا تھا جسے کیٹ واک کا تجربہ ہو۔ پیوٹن اس سرخ لکیر کو کامیابی سے عبور کر گیا، اس کے قدم قالین سے ادھر ادھر ہوتے تو اس منظر کے منتظر امریکی کیمرے اسے بار بار دکھاتے اور پھر اس کے چال چلن پر تنقید کرتے نظر آتے مگر انہیں یہ منظر دیکھنے کو نہ ملا۔ ٹرمپ نے روسی صدر کے استقبال کے لئے بی ٹو سٹیلتھ اور فائٹر جہازوں کی سلامی کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے مہمان سے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور اپنی مسخرانہ عادات سے مجبور ہو کر اسے اپنی طرف کھینچا لیکن وہ پیوٹن کے قدم نہ اکھاڑ سکا وہ اس حملے کے لئے پہلے ہی سے تیار تھا۔ مہمان و میزبان سلامی کے چبوترے کی طرف چلنے لگے تو پیوٹن نے ٹرمپ کی طرف اپنی انگلی اٹھاتے ہوئے ہنستے ہوئے کچھ کہا جو تصویر کی حد تک ریکارڈ ہوا آواز نہ آئی کہ اس نے کیا کہا ہے لیکن اندازہ ہے پیوٹن نے ٹرمپ سے کہا ہو گا اب باقی وقت بندے کا پتر بن کے رہنا۔
دونوں صدور ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ آسمان پر امریکی طیاروں کی گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ پیوٹن نے اسے نظرانداز کیا تو ٹرمپ خود ہی رک گیا اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا تاکہ پیوٹن بھی امریکی سٹیلتھ بی ٹو بمبار اور لڑاکا طیاروں کو دیکھے، اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظر ڈالی اور تاثر دیا یہ کوئی خاص بات نہیں۔ وہ ان جہازوں سے متاثر نہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ اس ملاقات کو حد سے زیادہ اہمیت دے رہے تھے۔ یہ سب کچھ ہدایات کے مطابق تھا۔ دنیا کی نظریں بھی اس ملاقات پر جمی تھیں، معاملہ صرف امریکی اور روسی صدر کی ملاقات یا یوکرین کی جنگ بندی کا نہ تھا۔ اس ملاقات اور اس کے نتیجے میں اس کے اثرات چین، بھارت، پاکستان اور یوکرین کے علاوہ پورے یورپ پر پڑیں گے۔ اس ملاقات کی یہی اہمیت تھی۔ امریکی صدر اور ان کی ٹیم نے انتظامات کر رکھے تھے اور ان کی کوششیں تھی کہ وہ پیوٹن کو تمام دن اس ملاقات میں الجھائے رکھیں۔ انہوں نے شور اٹھا رکھا تھا کہ یہ ملاقات چھ گھنٹے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ٹرمپ اور اس کی ٹیم دنیا کو باور کرانا چاہتی کہ وہ ایسی نہر کھود رہے ہیں جس میں امن کا پانی ٹھاٹھیں مارتا نکلے گا اور دنیا حیران رہ جائے گی۔ پیوٹن اپنی پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا اس نے تہیہ کر کھا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ اس پہلی ملاقات میں کوئی ٹرافی نہیں پکڑے گا پس اس نے بیکار باتوں میں وقت ضائع کرنے کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے جن موضوعات پر بات کرنا تھی وہ اس نے دو گھنٹے میں سمیٹ دی۔ دونوں صدور جب میٹنگ روم سے باہر آئے اور ملاقات ختم کرنے کا اعلان ہوا تو امریکی عہدیدار اور میڈیا حیران رہ گیا۔ امریکی صدر کا چہرہ اترا ہوا تھا جبکہ پیوٹن کی خوش مزاجی قائم تھی۔ ٹرمپ ٹیم کے مطابق ایجنڈے میں یوکرین کی جنگ بندی، روس پر عائد امریکی پابندیاں، باہمی تجارت اور حلیف ممالک کے ساتھ تعلقات پر بات ہونا تھی لیکن پیوٹن کا موقف تھا کہ یوکرین میں جنگ کیوں شروع ہوئی، کس نے اسے بڑھایا، ان وجوہات کا جائزہ لینا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ ان وجوہات کے تدارک کے بعد دیگر امور پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر دونوں صدور میڈیا کے سامنے آئے۔ دونوں نے میڈیا سے انتہائی مختصر بات کی جو چند منٹ سے زیادہ نہ تھی۔ میڈیا کے کسی سوال کا جواب نہ دیا گیا۔ مذاکرات کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے کوئی فیصلہ چاہتا ہے لیکن مذاکرات کے اختتام پر اس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب تک کوئی ڈیل فائنل
نہیں ہو جاتی، اس وقت تک اسے ڈیل نہیں کہا جا سکتا۔ ڈیل کے بادشاہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس معاملے میں جس شکست کا سامنا ہوا اس نے اس کے بارے میں سوچا تک نہ تھا، اس کا خیال تھا کہ وہ روس کو مزید پابندیوں میں جکڑنے اور اس کے حلیف ممالک پر مزید ٹیرف بڑھانے کی دھمکی کے زیر اثر لا کر یوکرین جنگ بندی کی ڈیل حاصل کرے گا لیکن وہ اس میں ناکام رہا۔ بات صرف اتنی بڑھی ہے کہ مزید ملاقاتیں ہوں گی۔ اس حوالے سے گفتگو کے دوران پیوٹن نے لقمہ دیا کہ ملاقات تو ہو گی لیکن اب ماسکو میں ملیں گے جس پر ٹرمپ نے اپنی جھینپ مٹاتے ہوئے کہا یہ میرے لئے کچھ سنگین ہو سکتی ہے لیکن میں اس کے لئے تیار ہوں۔ ٹرمپ عجلت میں ہے۔ اس ملاقات کے بعد واضح ہو گیا کہ وہ جنگ بندی کے فیصلے کا اعلان فوراً چاہتا تھا کہ اپنے نوبل پرائز سی وی میں ایک ستارہ بڑھا سکے، اس کے علاوہ اسے روس، بھارت یا یوکرین سے کوئی ہمدردی نہیں۔ یہ جنگ مزید کچھ عرصہ چلتی رہے تو جب بھی ٹرمپ کو اس پر کوئی تشویش نہ ہو گی۔ یوکرین جنگ پر ٹرمپ کے موقف میں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ وہ اسے جوبائیڈن کی غلطی اور یورپ و یوکرین کی مہم جوئی کہہ کر روس کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ اس جنگ میں اس کا کوئی کردار نہیں حالانکہ فساد کی جڑ تو ٹرمپ ہے جس نے اقتدار میں آنے کے بعد صرف یوکرین کی امداد میں اضافہ نہیں کیا بلکہ یورپ سے بھی اس کی امداد کرائی۔ وہ یہاں تک گیا کہ یوکرین کی طرح سے ڈرون کی برسات کی زد میں پیوٹن کا ہیلی کاپٹر آیا، وہ حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بال بال بچا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک پیوٹن کو اس حادثے میں محفوظ رہنے کے بعد ایک نئی زندگی ملی ہے۔ پیوٹن ٹرمپ ملاقات کا حاصل فقط یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے روس کے عالمی بائیکاٹ کا موقف اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ اب امریکہ دنیا کے دیگر ممالک کو پیوٹن کی میزبانی یا مذاکرات نہ کرنے سے نہیں روک سکتا۔ دس برس کے بعد پیوٹن نے امریکہ کی زمین پر قدم رکھا اور امریکی صدر کو شکست سے دوچار کیا۔ امریکی صدر نے کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کے انداز میں کہا کہ میرا پیوٹن کے ساتھ تعلق ہمیشہ شاندار رہا ہے۔ ٹرمپ نے پیوٹن کے موقف کو چیلنج نہیں کیا بلکہ ان کا رویہ فدویانہ رہا۔ انہوں نے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کی ذمہ داری یوکرین اور یورپ پر ڈال کر خود بیچ سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔ دراصل انہوں نے پیوٹن کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔