Wed, September 16, 2026

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹرمپ چال

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹرمپ چال

نوّے کی دہائی شروع ہوئی تو اہل پاکستان کو بتایا گیا ان کی تقدیر بدل دی جائیگی۔ پاکستانی یہ جان کر کس قدر خوش ہوئے ہوں گے کوئی اس کا تصور نہیں کر سکتا۔ ہر شہر کی ہر گلی میں ہر گھر میں تقدیر بدلنے کا انتظار کیا جانے لگا۔ سونا 2ہزار روپے سے بڑھ کر دو لاکھ روپیہ تولہ ہو گیا، گھروں کی قیمتیں یوں ہوا کرتی تھیں جتنے مرلے کا گھر ہوتا وہ اتنے لاکھ میں مل جاتا تھا۔ وقت گزرتا گیا۔ آج کسی بھی شہر میں کسی بھی ڈھنگ کی جگہ جہاں انسان رہ سکتے ہوں پانچ مرلے کا گھر اڑھائی کروڑ میں اور دس مرلے کا گھر پانچ کروڑ روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔ کئی برس سے یہ دیکھ رہے ہیں جو زمین خرید سکتا ہے، وہ گھر نہیں تعمیر کر سکتا جو گھر تعمیر کرنے میں کامیاب رہتا ہے اسے اس گھر میں رہنا نصیب کم ہی ہوتا ہے۔ زمین خریدتے گھر بناتے بناتے وہ قبر کنارے پہنچ جاتا ہے پھر اس کی اولاد اس کے قرض چکانے میں زندگی گزار دیتی ہے۔ انہی ماہ و سال میں دوسری خوبصورت بات سنی گئی کہ گیم چینجر آ گیا ہے۔ گیم چینج کیا ہوتی۔ عام آدمی تو گیم سے یوں باہر ہوا جیسے چند روز قبل ہماری کرکٹ ٹیم چیمپئن ٹرافی سے باہر ہوئی ہے۔ 
تقدیر بدلنا اور گیم چینجر جیسے لفظ اپنے معنی کھو بیٹھے۔ 
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہی بات انگریزی میں کی جو ہم نے اپنے لیڈروں اپنے وزرائے اعظم سے اردو میں سنی تھی۔ ابتدا میں تو یقین نہ آیا لیکن ٹرمپ کے چند ہفتوں میں کئے گئے فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے وہ زندہ رہا اور اسے چار برس کام کرنے کیلئے مل گئے تو وہ امریکہ میں بسنے والوں کی تقدیر بدل دے گا اور وہاں عام آدمی کی گیم چینج ہوتی نظر آئے گی۔ 
ٹرمپ حکومت نے آغاز میں ہی سرکاری اللّے تللے ختم کر دیئے ہیں۔ پاکستان کا اہم اثاثہ روز ویلٹ ہوٹل کا معاہدہ منسوخ کرکے یہ ہوٹل ہمیں واپس کر دیا ہے۔ پونے گیارہ سو کمروں پر مشتمل یہ ہوٹل نیویارک کے مہنگے ترین علاقے میں ہے کسی اچھے زمانے میں ہم اسے خود چلاتے تھے اور معقول روپیہ کماتے تھے پھر اس کے ساتھ وہی ہوا جو ریلوے پی آئی اے اور سٹیل ملز کے ساتھ ہوا۔ روز ویلٹ ہوٹل اور ایسی درجنوں عمارتوں میں تارکین وطن کیلئے امیگریشن سنٹر قائم تھے جنہیں فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان سنٹرز پر ایک برس میں سات ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اتنی ہی رقم کیلئے ہم عالمی اداروں کی ڈکٹیشن لیتے رہے اور ان کی مرضی کے بجٹ بناتے رہے پھر وہ وقت آیا جب تنخواہ دار طبقے کی چیخیں نکل گئیں تو معلوم ہوا اس طبقے کا ادا کردہ انکم ٹیکس کاروباری طبقے کے ادا شدہ انکم ٹیکس سے تین سو گنا زیادہ ہے۔ بجلی اور گیس کے نرخ اور اس حوالے سے ہمارے رونے دھونے کی آوازیں پوری دنیا میں سنی جا رہی ہیں۔ امریکی گولڈ کارڈ ویزا کے نام سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس منصوبے کا اعلان کر دیا ہے جو تقدیر بدل اور گیم چینجر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ کوئی نیا نہیں ہے۔ بیشتر یورپی ممالک اور خلیجی ممالک اس کا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق امریکہ پچاس لاکھ ڈالر کے عوض امریکی شہریت دے گا، اتنی رقم سے کاروبار کرنے والوں کو تمام کاروباری اور معاشرتی سہولتیں حاصل ہوں گی۔ اس رقم سے کاروبار کرنے والوں کو افرادی قوت منگوانے کی اجازت ہوگی۔ یہ لوگ صرف مروجہ ٹیکس ادا کریں گے۔ امریکہ کے چودہ محکمے ان کاروباری افراد سے اپنا نذرانہ یا ماہانہ بھتہ وصول کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مختلف امریکی اداروں کے انسپکٹر مٹھی گرم نہ کرنے کے جرم میں ان افراد ان کے کاروباری سنٹرز کو لاکھوں ڈالر کے زیادہ بل نہیں بھیج سکتے، انہیں سستا اور فوری انصاف ملے گا، انصاف حاصل کرنے میں تین نسلوں کی زندگی خرچ نہیں ہوگی نہ ہی انہیں وکیل کی جگہ جج کرنا پڑے گا۔ وہاں رات کے اندھیرے میں دیواریں پھلانگ کر شریف شہریوں کو یوں گرفتار نہیں کیا جائے گا جیسے سنگین جرم میں ملوث مجرموں کو گرفتار کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں پہلے تحقیق و تفتیش پھر جب سب کچھ ثابت ہو جائے تو آخری مرحلے میں گرفتاری ہوتی ہے۔ گمان ہی نہیں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ کامیاب رہے گا۔ 
ہمارے یہاں پانچ یا پچاس لاکھ روپے میں جو کچھ نہیں کیا جا سکتا اتنے امریکی ڈالروں میں امریکہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ڈالر ان کا روپیہ ہی ہے لیکن دنیا کی طاقتور ترین کرنسی ہے جس کی حفاظت انہوں نے اس طرح کی ہے جس طرح جان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ ڈالر کی قیمت کی ہر سال قربانی نہیں دی جاتی جیسے ہم اپنی کرنسی کی قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔ دنیا بھر کے بعض ترقی یافتہ اور بیشتر غیر ترقی ممالک سے سرمایہ دار امریکہ کا رخ کریں گے جن میں ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ملک پیش پیش نظر آئیں گے۔ ان میں پاکستان، بھارت، یو اے ای، بنگلہ دیش، چین اور روس سے تعلق رکھنے والے متمول افراد بہتر کاروباری ماحول اور بہتر طرز زندگی کیلئے امریکہ کی طرف دوڑیں گے۔ انہی ممالک میں رشوت کے بل بوتے پر دولت کے ذخائر رکھنے والے دیگر ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے والے کرپٹ سرکاری ملازمین اور ٹیکس چور دھڑا دھڑ امریکہ کا رخ کریں گے کچھ عجب نہیں اربوں ڈالر پاکستان سے دوبئی لے جانے والوں کی اگلی منزل امریکہ ہو اس دوڑ میں افریقی ممالک بھی پیچھے نہیں رہیں گے۔ 
ٹرمپ کے اعلان کے مطابق امریکہ دنیا بھر کے ہنرمند افراد کیلئے بھی اپنے دروازے کھول رہا ہے۔ امریکی ترجیحات کا اعلان کیا جا چکا ہے اسے مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے اور خصوصاً آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں میں بڑی تعداد میں افرادی قوت کی ضرورت ہے جبکہ میڈیکل، میڈیسن، انجینئرنگ کے شعبوں میں تو ہر زمانے میں گنجائش موجود رہی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے صرف بچہ امریکہ میں پیدا کرکے اٹھارہ برس انتظار کے بعد امریکہ آنے کے راستے تلاش کرنے والے خود یہاں آئیں، کاروبار کریں اور دوسروں کو روزگار مہیا کریں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کا مقابلہ چین سے ہے لیکن اب تو یوں لگتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے مابین اختلافات بڑھنے پر اس کا مقابلہ صرف چین ہی نہیں بلکہ یورپ کے ساتھ بھی ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ اسے کہاں تک برداشت کرتی ہے۔ اس کی ٹرمپ کیساتھ جنگ طویل عرصہ تک جاری رہے گی۔ دوئم، دنیا ٹرمپ پر اکتنا اعتبار کرتی ہے۔ ٹرمپ نے ٹرمپ کارڈ کی چال چل دی ہے۔

ٹیگز: