کراچی سے خیبر تک جشن آزادی، ملک بھر میں عید کا سماں ’’عید آزاداں شکوہِ ملک و دیں‘‘ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار۔ بچے، بوڑھے، جوان سب نہال۔ معرکۂ حق میں اللہ کی مدد سے عظیم الشان فتح پر خوشی و مسرت کا اظہار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کے غازیوں، مجاہدوں اور شہداء کو خراج تحسین (بے شک شہید زندہ ہیں اور انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے) پوری قوم رب العالمین کے حضور سجدہ ریز، ایسا جوش ولولہ کبھی دیکھا نہ سنا، عمارتوں پر چراغاں، آتش بازی کے مظاہرے اسلام آباد میں 13 اور 14 اگست کی شب ’’دیکھنے ہم بھی گئے تھے‘‘ لاکھوں کے ہجوم میں پھنس کر رہ گئے۔ مغرب کے بعد گھر سے نکلے فجر کے وقت گھر لوٹے، سڑکوں پر بے پناہ ہجوم، راستے بند، موٹر سائیکلوں میں سبز پرچم لہراتے نوجوان قومی جذبہ سے سرشار، گاڑیوں سے باہر نکل کر پرچم لہراتی خواتین، ایک بچے نے گاڑی سے سر نکال کر مخاطب کیا۔ ’’انکل پاکستان زندہ باد‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’بیٹا پاکستان ہمیشہ زندہ باد، نگہبان پائندہ باد‘‘ نوجوانوں کے چمکتے دمکتے چہرے، بوڑھوں کی آنکھوں میں خوشی سے امڈتے آنسو خواتین کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹیں، بے ساختہ دل سے دعا نکلی اللہ پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، دشمنوںا ور بد خواہوں کو نیست و نابود کردے، سڑکوں پر بے پناہ ہجوم ادھر اسلام آباد کے اسپورٹس گرائونڈ میں فوج کے چاق و چوبند دستوں کی شاندار پریڈ، صدر آصف زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے ہمراہ سلامی لی، وزیر اعظم نے خطاب میں واضح کیا کہ سب کو احتجاج اور سیاست کا حق ہے۔ ریاست سے بغاوت کا نہیں (سورج نکلتے ہی دراز زلف گنڈا پور نے بغاوت کا اعلان کردیا کمال ہے کسی نے سرزنش نہیں کی) ایک دلچسپ خبر، 25 کروڑ عوام میں ایک پاکستانی نکل آیا، جو کوئٹہ میں زندہ سلامت ہے، اس کا نام پاکستانی ہے یہ شخص14 اگست 1947 کو پیدا ہوا 78 سال کا ہوگا، خبر یہ ہے کہ اس کا حال بھی بالکل پاکستان کی طرح ہے۔ جشن آزادی پر حقیقی آزادی (خان کی رہائی) کے نعرے لگانے والے دل مسوس کر رہ گئے۔ حیرت ہوئی ایف 10 سے چلے، طیب اردوان انڈر پاس پر پی ٹی آئی کے دو جھنڈے نظر آئے ایک چھوٹا ایک بڑا، انڈر پاس سے باہر نکلتے ہی دونوں لپیٹ دیے گئے۔ بلیو ایریا میں پی ٹی آئی کی ریلی تلاش کرتے رہے، سڑک پر چند گاڑیوں کی ریلی نظر آئی مگر ہر گاڑی پر سبز ہلالی پرچم یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے،بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور اعظم سواتی یاد آئے جنہوں نے احتجاج کے لیے 29 ویں کال کے جواب میں کہا تھا یہ جشن کا دن ہے احتجاج کا نہیں، 5 اگست کے بعد 14 اگست بھی ’’ایویں‘‘ ہی گزر گیا ’’ککھ نہ ہلیا‘‘ پتا نہیں پشاور میں روپوش وقاص اکرم شیخ کو کیسے انکشاف ہوا کہ خان کی رہائی کے لیے عوام کا سمندر سڑکوں پر امڈ آیا، لگتا ہے خان کا ووٹر سپورٹر نعرے لگا لگا کر تھک چکاہے، حالیہ سروے کے مطابق پی ٹی آئی کی مقبولیت کہاں گئی، بہت پہلے کہیں پڑھا تھا کہ معیار یہ نہیں کہ آپ کو کتنے لوگ پسند کرتے ہیں معیار یہ ہے کہ کس طرح کے لوگ پسند کرتے ہیں ہجوم سے معیار تک بہت فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ 2035ء تک بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ فرض کیجئے (فرض کرنے میں کوئی حرج نہیں) کسی ڈیل یا ڈھیل کے نتیجے میں خان کو رہائی مل گئی تو کیا وہ خاموش رہ سکیں گے، (گارنٹی دینے والے زبیر عمر کو خوامخواہ شرمندگی ہوگی) وزیر اعظم بن گئے تو کیا کریں گے؟ 3 سال0 27 دنوں میں کیا کیا تھا معیشت کیسے سدھاریں گے ایک سیانے نے گرہ لگائی ’’خان کے پاس ماہرین معاشیات نہیں، ماہرین منشیات ہیں‘‘ راز کی بات پراجیکٹ عمران کو تیزی سے رول بیک کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ پلان سی پر سزائوں کی شکل میں عملدرآمد، نا اہلیاں، پلان ڈی میں بہت کچھ بدل جائے گا، اس کے تحت پیارے خان صاحب فارغ تاہم پی ٹی آئی کی ہیئت تبدیل کر کے جمہوری نظام میں شامل کرلیا جائے گا اس کے لیے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش لیکن پارٹی گتھم گتھا، پارلیمانی اجلاس میں گرم مزاج اور نرم مزاج لیڈروں میں مذاکرات کے ایجنڈے پر تلخ کلامی، اسد قیصر اور اقبال آفریدی سمیت ایک درجن ارکان مذاکرات کو رہائی سے مشروط کرنے پر بضد جبکہ عامر ڈوگر اور نرم خو گروپ کا اصرار کہ مذاکرات شروع ہونے دیں، میثال استحکام پاکستان کی طرف سفر کے دوران رہائی کا مسئلہ بھی اٹھایا جائے گا۔ شنید ہے کہ اس پر عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی نے ایک دوسرے کے گریبان پکڑ لیے۔ پارٹی کا اصل چہرہ نمایاں۔
جھوٹ پھیلانے والی ’’ناراض نسل‘‘ کی روداد بھی سنتے جائیے، بات کرنے کو کچھ نہ ہو اور بات کرنی ہو بلکہ بات سے بات بنانی ہو تو نائو میں ندی ڈوب گئی جیسی کوئی شرلی چھوڑ دی جاتی ہے۔ اسلام آباد میں افواہ پھیل گئی کہ سیم پیج پھٹنے کو ہے نیا وزیر اعظم آرہا ہے۔ شاہین صہبائی جوانی میں صحافی تھے بڑھاپے میں پاگل ہوگئے۔ (معاف کیجئے کراچی میں 60 سالہ قیام کے دوران ہم نے انہیں ہمیشہ بوڑھا ہی پایا) کہنے لگے زرداری، نواز شریف مایوس ہو کر نظام کو گالیاں دینے لگے ہیں۔ بوڑھا کھوسٹ سٹھیا گیا۔ دونوں تجربہ کار سیاستدان اس نظام کے گارنٹر ہیں، میاں نواز شریف نے اپنے حالیہ اجلاس میں اس نظام کے تادیر چلنے کی بات کی اور کہا کہ میری فیلڈ مارشل سے چار پانچ ملاقاتیں ہوئیں ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں، وزراء اپنی کارکردگی پر توجہ دیں۔
ایک بری خبر، سیم پیج تو نہ پھٹ سکا تاہم خیبر پختونخوا میں بادل پھٹنے (کلائوڈ برسٹ) اور آسمانی بجلی گرنے سے ہولناک تباہی دیکھنے میں آئی۔ مسلسل بارشوں اور سیلاب سے 300 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ بپھرے برساتی نالوں اور دریائوں میں خاندان کے خاندان بہہ گئے۔ سیکڑوں لا پتا، امدادی ہیلی کاپٹر کریش 5 شہید، درجنوں مکانات منہدم، آزاد کشمیر، گلگت سمیت صوبہ بھر میں ایمرجنسی نافذ، سوگ کا اعلان، دل دہلانے والی خبریں ہر سال کا معمول بن گئیں۔ بارشیں ہیں یا عذاب الٰہی بادل حکم ربی کے بغیرنہیں پھٹتے توبہ استغفار کرنی چاہیے۔ دیگر ممالک میں بھی اس قسم کے واقعات اور قدرتی آفات آتی ہیں لیکن ان کے ماہرین پیشگی اطلاع دے کر علاقے خالی کرا لیتے ہیں ہمارے پاس آلات نہیں یا حالات نہیں، برساتی نالوں کے بہائو کے راستوں میں گھروں ہوٹلوں اور دیگر تعمیرات کے خاتمے دریائوں نالوں کے کناروں کو وسیع کر کے سیلاب بلا کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ڈیم کیوں نہیں بنائے جاتے بڑا تلخ سوال ہے۔