ستر کی دہائی تک پاکستان کے میدانی علاقوں میں بھی شدید سردی پڑتی تھی۔ لاہور جیسے شہروں میں دسمبر، جنوری کے مہینوں میں دانت سے دانت بجتے تھے۔ رات دس بجے کے بعد سڑکیں ویران، ہر طرف ہو کا عالم ہوتا تھا، لوگ گھروں میں بستروں میں دبک جاتے تھے مگر آج ایسا نہیں ہے۔ آج پاکستان موسم کی گرمی، سردی سے بے نیاز ہو کر تمام رات جاگتا ہے، سردیوں میں آئس کریم پارلر پر بھی رونق نظر آتی ہے، موسموں کے تبدیل ہونے سے سخت سرد شہر اب اتنے سرد نہیں رہے، بدلتے موسموں نے سیاسی موسم بھی بدل دیئے ہیں۔ یہ صرف لاہور یا پاکستان کا معاملہ نہیں ہے۔ تمام دنیا میں موسم اور سیاسی موسم بدل گئے ہیں۔ ستر کی دہائی کی سیاست ناپید ہے، نئے موسمی رنگ ہیں ان کے اپنے ہی تقاضے ہیں۔ امریکی ارکان کانگریس کے دورہ پاکستان کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
امریکی فوج سے ریٹائر ہونے والے جیک پرگمین سابق لیفٹیننٹ جنرل ہیں۔ ٹام سوہزی پرانے سیاستدان ہیں جبکہ جوناتھن بھی میدان سیاست میں نووارد نہیں ہیں۔ پہلے ذکر کردہ دونوں ممبران کانگریس نے امریکہ سے پاکستان روانگی سے قبل پاکستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا اینکرز صحافیوں کو انٹرویو دیئے جن میں بات چیت سے اندازہ ہوا کہ انہیں پاکستان کے حوالے سے جن معاملات پر توجہ دینے کے لئے کہا گیا ہے ان میں ہونے والے عام انتخابات، حکومتی پالیسیاں، لاء اینڈ آرڈر، انسانی حقوق کی پامالی، رشوت کی انتہائ، انٹرنیٹ کی بندش، پیکا قوانین، نیب، سیاسی مقدمات، پبلیکیشنز پر پابندی اور کمزور عدالتی نظام ہے۔ ان ممبران کانگریس نے پاکستان اور امریکہ کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے عزم کا اظہار کیا اور کسی حد تک واضح کیا کہ وہ پاکستان کے اندرونی نظام میں دخل اندازی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے لیکن وہ مختلف مکاتب فکر، سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ، حکومتی اکابرین اور بعض اہم اداروں کے سربراہان سے ملاقاتوں کی کوششیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اس حوالے سے مختلف ناموں پر مشتمل ایک فہرست پیش کی جس میں وہ نام شامل تھے جن شخصیات سے وہ ملنا چاہتے تھے۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہے یا نہیں، اس کا اظہار شاید وہ امریکہ پہنچ کر کریں گے۔ اس لسٹ میں کون کون شامل تھا اس کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ وہ جن سے ملے ان کی خبریں، تصویریں سامنے آ چکی ہیں لیکن جن کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں وہ ملاقاتیں ہوئی بھی ہیں یا نہیں۔ اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں اور آئندہ کئی برس تک جاری رہیں گی۔
حکومت مطمئن ہے کہ انہوں نے اپنے ایجنڈے کے مطابق ممبران کانگریس کو مطمئن کر لیا ہے جبکہ اپوزیشن کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن امریکہ، برطانیہ یا یورپی یونین کی طرف سے دورہ کرنے والے ایسے وفود سے کچھ زیادہ توقعات وابستہ کر لیتی ہے جو کسی صورت پوری نہیں ہو سکتیں۔ ایسی توقعات وابستہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ غیرملکی حکومتیں اپوزیشن کے ساتھ نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ چلتی ہیں۔ ان کا مفاد ان کے ساتھ ہی وابستہ ہوتا ہے، اپوزیشن کے ساتھ نہیں۔ اپوزیشن سے تعلقات محض خانہ پری کیلئے ہوتے ہیں۔ ان کی اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
اگر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ امریکہ نے جو بائیڈن کے زمانے میں پاکستان میں رجیم چینج آپریشن کیا تو پھر اس سے بڑی یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ سب کچھ صرف جوبائیڈن کی مرضی سے نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ امریکی حکومت میں صرف صدر امریکہ کچھ نہیں ہوتا اس کے پیچھے سی آئی اے اور پینٹاگون ہوتا ہے جوبائیڈن یا ٹرمپ کیلئے پالیسیاں نہیں بناتا بلکہ امریکہ کیلئے پالیسیاں بناتا ہے، ان پر عمل کراتا ہے، تین برس قبل جنہوں نے ہمارے یہاں تبدیلی کی وہ اس لئے کی کہ اب وہ اپوزیشن کو اقتدار میں لے آئیں، یقیناً ایسا نہیں ہے۔
پاکستان کے سیاسی حلقوں اور میڈیا میں ’’شعور‘‘ بیدار ہونے کے بڑے چرچے کئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک باریک فرق کی نشاندہی کوئی نہیں کرتا شعور عوامی سطح پر ہوتا ہے، حکومتوں میں نہیں ہوتا، حکومتیں شعور کے پیچھے نہیں بھاگتیں۔ حکومتوں کی پالیسیاں ہوتی ہیں وہ اپنی پالیسیاں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے بناتی ہیں، اس کی بڑی مثال سب کے سامنے ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف دنیا کا وہ کونسا ملک ہے جس کے عوام سراپا احتجاج نظر نہیں آئے۔ یورپ کے وہ تمام ممالک جو اس دہشت گردی میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے ہر شہر میں بسنے والے مرد و زن، بوڑھے اور بچے حیران کن تعداد میں گھروں سے باہر نکلے۔ انہوں نے اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ ’’جارح کبیر‘‘ امریکہ کی ریاست میں امریکہ اور اسرائیل کیخلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ ایک مرتبہ نہیں درجنوں مرتبہ احتجاجیوں نے سڑکیں بھر دیں، عوامی شعور تو اپنی بہترین صورت میں نظر نہیں لیکن اس بیداری شعور کا اثر امریکہ کی حکومت یورپین حکومتی حتیٰ کہ اقوام متحدہ جیسے متعصب گونگے بہرے ادارے پر نظر نہیں آیا جسے قیام امن کے لئے قائم کیا گیا لیکن وہ طاقتور ملکوں کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں ان کا معاون بنا نظر آیا۔ مسلم کش پالیسیوں پر اس نے اپنی آنکھیں بند رکھیں لیکن جہاں معاملہ غیر مسلموں کا آیا وہ سوڈان کی تقسیم کے لئے بھاگا چلا آیا۔ یہی طرز عمل یورپی حکومتوں کا ہے اور عرصہ دراز سے یہی چلن ہے اس میں تبدیلی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی کیونکہ مسلم ممالک اپنے مفادات کے اسیر ہیں وہ آج تک امریکی یورپی استعمار کے خلاف یک زبان اور
ہم آواز نہیں ہو سکے، ہر ملک اپنی ڈنگ ٹپائو پالیسی پر گامزن ہے اور نصف درجن ممالک اپنی اس پالیسی کے سبب اس عالمی استعمار سے ڈسے جاتے رہے۔ یکے بعد دیگر سرنڈر کرتے رہے جبکہ باقی ایک حلقے میں کھڑے ہو کر فقط دبے دبے لفظوں میں ان کی مذمت کرتے رہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملوں اور اسے تباہ کرنے کے برسوں بعد تسلیم کیا اس پر حملہ کرنے کے لئے جو رپورٹیں تیار کی گئی تھیں وہ جھوٹی تھیں۔ کسی اسلامی ملک، اسلامی فورم نے ان سے سوال کیا کہ تاوان جنگ ادا کرو، جنگی مجرموں پر مقدمات بنائو، انہیں سزائیں دو، سب مہر بہ لب رہے۔ آج بھی ایسا ہی ہے کوئی کسی کی حق تلفی پر بولنے کے لئے آمادہ نہیں۔ کون سے انسانی حقوق اور کونسی آزاد ریاستیں اور کونسی ان کی خودمختار پالیسیاں باقی ہیں۔ اس حمام میں سب بے لباس ہیں، بے لباس لوگوں، معاشروں، حکومتوں کو اغیار سے توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جدوجہد و مزاحمت ترک کر دی جائے۔ فلسفہ زندگی یہی ہے جو علامہ اقبالؒ دے گئے ہیں۔ اتحاد، ایمان، تنظیم اس کے سوا راہ نجات کچھ بھی نہیں۔