Wed, September 16, 2026

پاکستان کی سفارتی دانش: امریکی کانگریس کا اعتراف

پاکستان کی سفارتی دانش: امریکی کانگریس کا اعتراف

دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں جنگ صرف بارود، میزائل اور دھماکوں کا نام نہیں رہی بلکہ سفارت کاری، حکمت، برداشت اور توازن بھی عالمی سیاست کے سب سے بڑے ہتھیار بن چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے بلکہ پوری دنیا کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان نے جس تدبر، بصیرت اور متوازن سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، وہ عالمی سطح پر توجہ اور تحسین حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی رکنِ کانگریس جیک برگمین نے پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام تعریفی خط ارسال کیا۔ یہ محض رسمی سفارتی جملے نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ پاکستان نے ایران امریکہ تنازع میں نہایت ذمہ دارانہ، متوازن اور مثبت ثالثی کردار ادا کیا۔ عالمی سیاست میں ایسے اعترافات قوموں کے وقار، ریاستی اعتماد اور سفارتی وزن کی علامت ہوتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ جنگ کے بجائے امن کی وکالت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کے مختلف خطے نفرت، انتقام اور طاقت کے مظاہروں کی لپیٹ میں آتے ہیں تو پاکستان مکالمے، تحمل اور سیاسی حل کی بات کرتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران بھی پاکستان نے جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے خطے کے وسیع تر امن کو ترجیح دی۔ یہی پختہ اور بالغ سفارت کاری آج پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر نمایاں کر رہی ہے۔
یہ امر انتہائی اہم ہے کہ امریکی کانگریس کے رکن نے کھلے الفاظ میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی تعریف کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا اب پاکستان کو صرف جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں نہیں دیکھ رہی بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی تسلیم کر رہی ہے جو بحرانوں میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی یہ نئی سفارتی شناخت دراصل برسوں کی قربانیوں، داخلی استحکام کی کوششوں اور قومی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے۔
ایک طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے داخلی سلامتی کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پر بھی متوازن حکمت عملی اپنائی۔ عسکری قیادت نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا تاہم امن کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتا رہے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سفارتی سطح پر مسلسل رابطوں اور متحرک خارجہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کے م¶قف کو م¶ثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا۔ یہی سیاسی و عسکری ہم آہنگی پاکستان کی اصل طاقت بن کر ابھری۔ اس ضمن میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان ایک حساس خطے میں واقع ہے۔ ایک طرف ایران جیسے برادر اسلامی ملک سے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات ہیں تو دوسری جانب امریکہ عالمی سیاست اور معیشت کی ایک بڑی طاقت ہے۔ ایسے میں کسی بھی جانب جھکا¶ خطے کے امن اور پاکستان کے قومی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔ مگر پاکستان نے غیر جانبدار مگر م¶ثر سفارت کاری کے ذریعے ثابت کیا کہ بالغ قومیں جذبات نہیں بلکہ حکمت سے فیصلے کرتی ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے م¶قف کو صرف بیانات تک محدود نہیں رکھا بلکہ عالمی برادری کو مسلسل یہ پیغام دیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم پورے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا تھا، تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی تھی، عالمی معیشت بحران کا شکار ہو سکتی تھی اور دہشت گردی کے نئے خطرات جنم لے سکتے تھے۔ پاکستان نے انہی خدشات کے پیشِ نظر امن اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ آج اگر امریکی ایوانوں میں پاکستان کی تعریف ہو رہی ہے تو یہ دراصل اس نئی سفارتی سوچ کی کامیابی ہے جو قومی مفاد، علاقائی استحکام اور عالمی امن کو یکجا کرتی ہے۔ ماضی میں پاکستان کو اکثر دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام یا معاشی مشکلات کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا مگر اب تصویر بدل رہی ہے۔ دنیا پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے جو بحرانوں میں توازن برقرار رکھنے اور تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سفارتی کامیابی کا ایک اور پہلو قومی اعتماد کی بحالی بھی ہے۔ جب عالمی طاقتیں پاکستان کے کردار کو سراہتی ہیں تو اس سے نہ صرف بیرونی دنیا میں ملک کا تشخص بہتر ہوتا ہے بلکہ اندرونِ ملک عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ قوموں کی عزت صرف فوجی طاقت یا معاشی وسائل سے نہیں بلکہ ان کے کردار، اصولوں اور عالمی ذمہ داریوں سے بھی متعین ہوتی ہے۔ پاکستان نے حالیہ بحران میں یہی ثابت کیا کہ وہ امن کا داعی اور ذمہ دار ریاست ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی اسی متوازن، باوقار اور فعال خارجہ پالیسی کو مزید مضبوط بنائے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، عالمی اتحاد تبدیل ہو رہے ہیں اور خطے نئے چیلنجز سے دوچار ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستان اگر اپنی سفارتی بصیرت، داخلی استحکام اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتا ہے تو وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک اہم اور بااثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے جس تدبر، تحمل اور حکمت کا مظاہرہ کیا، وہ ایک بالغ، ذمہ دار اور باوقار ریاست کی پہچان ہے۔ امریکی رکنِ کانگریس کی جانب سے عسکری و سیاسی قیادت کے لیے تحسین آمیز الفاظ دراصل پاکستان کی اسی مثبت سفارتی کامیابی کا عالمی اعتراف ہیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ امن کی آواز کبھی کمزور نہیں ہوتی بلکہ تاریخ میں وہی قومیں سرخرو ٹھہرتی ہیں جو جنگ کے شعلوں میں بھی امن کے چراغ روشن رکھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

ٹیگز: