Wed, September 16, 2026

استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 51 سال ہوگئے

استاد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے 51 سال ہوگئے

لاہور : پاکستان کے نامور کلاسیکل گلوکار استاد امانت علی خان کو آج ان کے جانے ہوئے 51 برس بیت گئے۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت آج بھی موسیقی کے دلدادہ افراد کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں۔

استاد امانت علی خان 1932 میں پٹیالہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا گھر بنایا اور ریڈیو پاکستان میں اپنی خوبصورت آواز سے سب کو متاثر کیا۔ مہدی حسن، غلام علی جیسے بڑے فنکاروں کے درمیان انہوں نے اپنی خاص پہچان بنائی۔

"انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو"، "موسم بدلا رت گدرائی" اور "ہونٹوں پہ کبھی میرا نام بھی آئے" جیسے گانے آج بھی بے حد مقبول ہیں اور ہر دور میں سننے والوں کو محظوظ کرتے ہیں۔

استاد امانت علی خان 17 ستمبر 1974 کو صرف 42 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بیٹے شفقت امانت علی اور رستم فتح علی خان نے ان کے فن کو آگے بڑھایا اور کلاسیکی موسیقی کو نئی زندگی دی۔

 
 

ٹیگز: