Wed, September 16, 2026

پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے پہلا فیصلہ جاری کردیا ، خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر حکم امتناع

پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے پہلا فیصلہ جاری کردیا ، خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر حکم امتناع

اسلام آباد: پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے۔ یہ پہلا فیصلہ ہے جو وفاقی آئینی عدالت نے سنایا، جس میں عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر عملدرآمد روکنے کے لیے حکم امتناع جاری کیا۔

سماعت جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی، جس میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی تھی کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا جائے۔ پشاور ہائیکورٹ نے نجی اداروں کے لیے مزدوروں کے واجبات کے حوالے سے ایک فیصلہ دیا تھا جس میں سیکورٹی ڈیپازٹ کی شرط ختم کر دی تھی۔ اس پر وفاقی آئینی عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ اس پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ "غریب مزدور کے پاس سیکورٹی ڈیپازٹ کی مد میں اتنی رقم کہاں سے آئے گی؟" ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے وضاحت دی کہ اگر نجی ادارہ مزدور کے واجبات ادا نہیں کرتا تو مزدور متعلقہ محکمہ میں اپیل کر سکتا ہے، اور اگر فیصلہ مزدور کے حق میں آتا ہے تو نجی ادارہ اس کے واجبات سکیورٹی کے طور پر جمع کرائے گا۔

وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے بھی سماعت کی۔ درخواست گزار نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں محکمہ کی جانب سے گیٹ انٹری بند ہونے کے خطرے کے پیش نظر تحفظ فراہم کیا جائے۔ جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار کو پہلے اپنا وکیل فراہم کرنا ہوگا، ورنہ درخواست مسترد کر دی جائے گی۔ عدالت نے درخواست گزار کو وکیل کرنے کی مہلت دی اور کہا کہ آئندہ سماعت پر وکیل کے ساتھ آئیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اسد اسلم کی تقرری کے خلاف درخواست کو بھی نمٹا دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے اس تقرری کو درست قرار دیا تھا، جس کے خلاف درخواست گزار افتخار احمد نے چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی، اس لیے درخواست نمٹا دی گئی۔

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تین بنچز بھی تشکیل دے دیے ہیں۔ بنچ 1 میں چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ شامل ہیں۔ بنچ 2 میں جسٹس حسن رضوی اور جسٹس کے کے آغا ہیں، اور بنچ 3 میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان شامل ہیں۔

عدالتی کمروں کی منتقلی کا عمل جاری ہے، اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اپنے معمول کے مطابق کورٹ ون میں سماعت کریں گے، جبکہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کورٹ ٹو میں بیٹھیں گے۔

ٹیگز: