نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج امریکی مسودہ قرارداد پر ووٹنگ ہونے جا رہی ہے، جس کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی فوج تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ قرارداد ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کرنا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس مسودے میں غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی اجازت دی گئی ہے، جو اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کر سرحدوں کی حفاظت کرے گی اور غزہ کی پٹی کو غیر فوجی بنانے میں مدد کرے گی۔
اس فورس کا مقصد غیر ریاستی مسلح گروپوں سے ہتھیاروں کا خاتمہ، شہریوں کی حفاظت اور انسانی امداد کی راہداریوں کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ اس کے علاوہ، مسودے میں غزہ کے لیے ایک عبوری گورننگ باڈی "بورڈ آف پیس" کے قیام کا بھی ذکر ہے، جس کی قیادت نظریاتی طور پر ٹرمپ کریں گے اور اس کا مینڈیٹ 2027 تک جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ اس مسودے میں فلسطینیوں کے لیے مستقبل میں خود مختاری اور ریاستی حیثیت کے راستے کا ذکر کیا گیا ہے، بشرطیکہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات کرے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع ہو۔
دوسری طرف، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی صورت میں فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں نہیں ہے، اور ان کی حکومت اس موقف پر قائم ہے۔
اس ووٹنگ کے دوران روس نے بھی اپنا متبادل مسودہ پیش کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی مسودہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ روس کا مسودہ دو ریاستی حل کے لیے سلامتی کونسل سے مضبوط عزم کا مطالبہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مشاورت کی درخواست کرتا ہے۔
امریکہ نے روسی مسودے کو کونسل کے اراکین میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور اپنی قرارداد کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی مہم تیز کر دی ہے۔