Wed, September 16, 2026

افغان رجیم پاک فوج سے مت ٹکرانا

افغان رجیم پاک فوج سے مت ٹکرانا


پاکستان الحمدللہ نیو کلیئر پائور ہے یہ کہنا کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے قطعی مناسب تجزیہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شرف چودھری نے ایک بار پھر واضع کیا کہ لوگ اور دیگر ممالک کسی غلط فہمی میں نہ رہیں ابھی تک بدنیت سوچ رکھنے والوں کو اس امر کا تجربہ نہیں کہ ایک نیو کلیئر ملک سے جنگ کیسی ہوتی ہے اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی دوسرے لفظوں میں کوشش یا عمل کی صورت میں جو نتائج دنیا کو بھگتنے پڑیں گے اس کا تصور بھی محال ہے۔ ہم ایک مستند ایٹمی قوت ہیں ہم میں اور دیگر ممالک میں بہت فرق ہے… لہٰذا اس سے ٹکرانے کا خیال بھی دنیا کے لئے ایک ڈرائونا خواب ہو گا…
اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان اس وقت دہشت گردی کا سب سے بڑا کارخانہ بن چکا ہے۔ تاجکستان سے لے کر امریکہ تک دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ پاکستان تو چاہتا ہے کہ افغان رجیم بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کرے مگر ان کی کج روی سے ایسا سیدھا راستہ م تعین کرنا م مکن نہیں۔ پہلے بھی بقول اسحاق ڈار افغانستان میں پاکستانی کارروائی کو قطر کی درخواست روکا گیا مگر بعدازاں قطر خود افغانستان کے رویئے سے بہت مایوس ہوا یہی نہیں بھارت کے ساتھ افغانستان کے اعلانیہ معاہدے پس پردہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کی فیس ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ چین سے لے کر دیگر ممالک تک جو ا فغان دہشت گرد پنیری کے پودے پھوٹ رہے ہیں اس کے لئے اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں کو مل کر کوئی ایسا اینٹی ٹیررازم اتحاد بنانا چاہیے جو اس خطے سے پھوٹنے والی دہشت گردی کی بیخ کنی کر سکے علاوہ ازیں موجودہ رجیم جو بظاہر اسلام کا نام لے کر خواتین سے بدترین سلوک کر رہی ہے جس کا حقیقی اسلام میں کوئی تصور نہیں کہ اسلام ہی ایک ایسا دن مکمل ہے جس میں والدین سے لے کر بہن، بھائیوں، بیوی اور بچوں تک کے حقوق کے لئے واضع احکامات ہیں پاکستان ڈیفنس میں بیٹھ کر خان کے عشق میں افغان کی حمایت کرنے والی آنٹیوں کو باور ہو کہ وہ کابل، قندھار و دیگر افغانی علاقوں میں اس اسلام ناآشنا رجیم کی موجودگی میں دس منٹ کھڑی ہو کر دکھائیں ان کی دُدے مار مار کر یہ جنگلی تکہ بوٹی نہ کر د یں۔
جو گلف ممالک جس میں سرفہرست قطر میں دوہا دفاتر موجود افغانستان کے بھارت سے ملاقاتوں معاملات اور مختلف مد میں پیسے لینے پر نالاں ہیں کہ یہ رقم بھارت صرف اور صرف پاکستان میں انتشار اور دہشت گردی ہی کے لئے دے سکتا ہے۔
سنٹرل ایشیا میں ہونے والی میٹنگ جس میں روس بھی شامل ہے کے علاوہ امریکہ نے بھی افغانستان کو پوری دنیا کے لئے خطرہ قرار دیا افغانستان سے ڈیمانڈ کی گئی ہے… اعلامیہ میں تین چیزوں کی ڈیمانڈ کی گئی ہے ایک دہشت گردی کی نارکاٹکس اِل لیگل کاروبار اور جنگ سے پرہیز کی… کیونکہ یہ تینوں چیزیں دہشت گردی کی مآخذ ہیں۔
پاکستان جو کہ ’’وکٹم‘‘ ہے افغانستان کی چالیس سال قریباً چالیس لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کی میزبانی کرے اب اسی کی رفاقت کے دکھ اٹھا دیا ہے ایسی بے فیض قوم ابھی تک تو روئے زمین پر نظر نہیں آئی جو اپنے ہی محسنوں پر نہ صرف حملہ زن ہو بلکہ محسنوں کے دشمن ملک بھارت کی بھی معاونت کا طلب ہو اتنا ہی نہیں پاکستان کی کرکٹ میچز میں بھی افغانیوں کا ع ام نفرت بھرا رویہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تمام تر سمگلنگ، نئی نسل اور ہماری تعلیم گاہوں میں نشے کا کاروبار کرن میں بھی یہ لوگ سرفہرست ہیں۔
اب اگر اس افغان خطے کے حل کی طرف آئیں تو ایک ایسی افغان رجیم کی ضرورت ہے جو پہلے تو اپنے ہی لوگوں پر ترس کھائے ان پر تعلیم اور ترقی کو حرام نہ کر  دے۔ دوئم اپنے خطے کے تعلقات دوسرے ملکوں سے بہتر بنائے انٹرنیشنل قوانین اور بارڈر کے احترام کا خیال رکھے جس طرح آج افغان رجیم نے پورے ملک کو دہشت گردی، اسلحے، نشہ آور سمگلنگ ہر غیر قانونی بجارت کو عام کر رکھا ہے اس سے اجتناب کرے خود بھی امن بہبود، عوام کی صحت اور ترقی کا سوچے اور پاکستان سے جو بے فیض سلوک کر چکا ہے اس احسان فراموشی سے قطع نظر اپنی ہی عوام سے وفا کرے ایسی رجیم کا قیام ناگزیر ہے جبکہ موجودہ رجیم کے پاس ایسی صلاحیت اور نیت ہی نہیں اور حماقت کی انتہا یہ کہ پاکستان جیسے نیو کلیئر ترقی یافتہ اور بہادر سپہ سالار کے زیرانتظام فوج سے مقابلہ کرنے سوچتے ہیں ان کے لئے بہتر یہی ہے کہ خود پر رحم کریں اور پاکستان سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں ورنہ پاکستانی فوج کا مظاہرہ ان کا اتحادی ملک بھارت دیکھ چکا جہاں وہ مدد مانگنے جاتے ہیں…

ٹیگز: