آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے پیچیدہ سیاسی و معاشرتی گرداب میں محو گردش ہے جس کے ارتعاشات محض ایک جغرافیائی خطے تک محدود نہیں بلکہ قضیہ کشمیر کی مجموعی جہات اور پاکستان کی داخلی و خارجی حکمتِ عملی کے وسیع تر تناظر پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے، احتجاج اور مطالبات کا اظہار اجتماعی شعور اور سیاسی ارتقا کی علامات شمار کیا جاتا ہے، لیکن جب سیاسی کشاکش جذباتی ہیجان، متعارض بیانیوں اور تاریخی حقائق سے صرفِ نظر کے سانچے میں ڈھلنے لگے تو معاملہ محض انتظامی یا سیاسی نوعیت کا نہیں رہتا بلکہ قومی دانش، ریاستی بصیرت اور اجتماعی تدبر کی آزمائش بن جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں حالیہ اضطرابی کیفیت کے دوران مہاجرینِ جموں و کشمیر کی نمائندگی کے مسئلے نے غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ بعض حلقے یہ مو¿قف اختیار کر رہے ہیں کہ مہاجرین کے لیے مختص نشستیں اب اپنے تاریخی جواز اور عملی افادیت سے محروم ہو چکی ہیں اور ان کا تسلسل دراصل سیاسی مصلحت آرائیوں کا شاخسانہ ہے۔ بادی النظر میں یہ ایک سیاسی مطالبہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں کارفرما تاریخی، آئینی اور قومی مضمرات نہایت عمیق اور دور رس نوعیت کے حامل ہیں۔ اصل سوال کسی مو¿قف سے اتفاق یا اختلاف کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آیا ایسے حساس اور تہہ دار معاملات کو ان کے تاریخی سیاق و سباق سے منقطع کرکے دیکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
جموں و کشمیر کی معاصر سیاسی تاریخ اس امر پر شاہدِ عادل ہے کہ ہجرت کرنے والے کشمیری محض ایک آبادیاتی اکائی نہیں بلکہ قضیہ کشمیر کی زندہ علامت اور تاریخی تسلسل کی نمائندہ قوت ہیں۔ تقسیمِ ہند اور اس کے بعد رونما ہونے والے سیاسی و عسکری واقعات کے نتیجے میں بے شمار کشمیری خاندانوں نے اپنے آبا و اجداد کی سرزمین، املاک، رشتوں اور یادوں کو پسِ پشت ڈال کر ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ان کی سیاسی نمائندگی درحقیقت اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مسئلہ کشمیر محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ انسانی شناخت، حقِ خودارادیت اور تاریخی انصاف کا ایک ہمہ جہت سوال بھی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آزاد کشمیر کے ابتدائی ریاستی ڈھانچے سے لے کر آئینی ارتقا کے مختلف مراحل تک مہاجرین کی نمائندگی کسی نہ کسی صورت میں برقرار رہی۔
تاریخی شواہد اس حقیقت کو مبرہن کرتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی اولین حکومتوں اور سیاسی اداروں میں مہاجر کشمیریوں کو باقاعدہ شمولیت حاصل رہی۔ بعد ازاں جب صدارتی طرزِ حکومت سے پارلیمانی نظام کی طرف انتقالِ اقتدار کا مرحلہ آیا تو نمائندگی کی نوعیت اور تناسب میں تبدیلی ضرور واقع ہوئی، تاہم مہاجرین کی سیاسی حیثیت کو کلیتاً مسترد نہیں کیا گیا۔ چنانچہ مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ محض انتخابی اصلاحات یا انتظامی تنظیمِ نو کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی بحث ہے جس کا تعلق کشمیر کی تاریخی شناخت، اجتماعی حافظے اور سیاسی بیانیے کے بنیادی خدوخال سے ہے۔
یہ امر بھی محلِ انکار نہیں کہ آزاد کشمیر میں بعض مطالبات کے پس منظر میں ایسے فکری اور سیاسی رجحانات موجود ہو سکتے ہیں جو مسئلہ کشمیر کو روایتی قومی تعبیر سے ہٹ کر دیکھنے کے خواہاں ہوں۔ اسی باعث بعض مبصرین یہ اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر ایک مطالبہ تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل میں مزید بنیادی نوعیت کے مطالبات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم ایسی صورتِ حال میں جذباتی ردعمل یا سیاسی سخت گیری کے بجائے حکیمانہ تدبر اور وسیع الظرف مکالمے کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ کسی بھی تحریک یا مطالبے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کا مو¿ثر ترین طریقہ یہی ہے کہ گفت و شنید کے دروازے وا رکھے جائیں اور عوام کو حقائق کے مشاہدے اور تجزیے کا موقع فراہم کیا جائے۔
موجودہ صورتحال کا ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ بعض علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں اس کشیدگی کو اپنے مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خواہش مند دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں یہ امر ازحد ضروری ہو جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے جائز مطالبات اور بیرونی ایجنڈوں کے مابین واضح خط امتیاز قائم رکھا جائے۔ اگر یہ تفریق دھندلا جائے تو اس کے منفی اثرات نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے کشمیر کاز پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
کشمیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت سے لبریز ہے کہ اقتدار کے متلاشی سیاست دان اور نظریاتی وابستگی رکھنے والے رہنما ایک دوسرے سے جوہری طور پر مختلف ہوتے ہیں۔ یہی امتیاز بعض شخصیات کو وقتی سیاسی کردار اور بعض کو تاریخ کا استعارہ بنا دیتا ہے۔ اس تناظر میں شہید مقبول بٹ کا نام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اقتدار، منصب اور مراعات کے بجائے نظریے، مقصد اور قومی نصب العین کو ترجیح دی۔ ان کے سامنے متعدد مواقع آئے، لیکن انہوں نے ہر بار ذاتی مفادات پر اجتماعی مقصد کو فوقیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی کشمیری عوام کے ایک وسیع طبقے کے نزدیک مزاحمت، استقامت اور فکری استقلال کی علامت تصور کیے جاتے ہیں۔
مقبول بٹ کی جدوجہد کا ایک قابلِ توجہ پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے ناانصافیوں، قید و بند اور تلخ تجربات کے باوجود عوام اور حکمران طبقات کے مابین فرق کو ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھا۔ انہوں نے اجتماعی نفرت اور جذباتی انتقام کے بجائے سیاسی شعور، نظریاتی وابستگی اور فکری استقامت کو ترجیح دی۔ یہی وصف انہیں ایک عام سیاسی کارکن کے بجائے تاریخ کے ایک زندہ اور پائیدار کردار کا درجہ عطا کرتا ہے۔
آج جب آزاد کشمیر ایک نئے سیاسی امتحان سے دوچار ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی اشتعال، الزام تراشی اور باہمی مخاصمت کے بجائے تاریخ، دلیل اور حکمت کو رہنما بنایا جائے۔ مسائل کا حل تصادم، جبر اور طاقت کے بے محابا استعمال میں نہیں بلکہ مکالمے، آئینی طریقہ کار اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اگر سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور عوام اپنے اپنے دائرئہ ذمہ داری میں فہم، تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو موجودہ بحران ایک نئے تصادم کے بجائے ایک متوازن اور مستحکم سیاسی مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
آزاد کشمیر کا مستقبل محض انتظامی فیصلوں، وقتی اقدامات یا سیاسی مصلحتوں سے وابستہ نہیں بلکہ اس اجتماعی بصیرت سے مشروط ہے جو اختلاف کو دشمنی، احتجاج کو بغاوت اور تنقید کو غداری کے مترادف سمجھنے کے بجائے انہیں قومی اصلاح، سیاسی بلوغت اور جمہوری ارتقا کے مواقع میں تبدیل کر سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو اضطراب سے استحکام، انتشار سے اعتماد اور بحران سے تعمیر و ترقی کی سمت گامزن کر سکتا ہے۔