وشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع نے اوپن اے آئی کے ساتھ 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا ہے تاکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت اوپن اے آئی ایسے جدید اے آئی ماڈلز تیار کرے گا جو امریکی فوج کو جنگی محاذ اور انتظامی کاموں میں قومی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے اوپن اے آئی کے ساتھ فوجی تعاون کیا ہے۔ اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ثابت کرے گا کہ جدید اے آئی کس طرح سرکاری کاموں کو بہتر بنا سکتی ہے، جیسے کہ فوجی اہلکاروں کو صحت کی سہولیات مہیا کرنا اور سائبر دفاعی نظام کو مضبوط کرنا۔
دفاعی ٹیکنالوجی کی دیگر بڑی کمپنیوں، جیسے میٹا اور پالینٹیر، نے بھی امریکی فوج کو اپنی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پالینٹیر کے بانی پیٹر تھیئل کو سیلیکون ویلی میں قدامت پسند نظریات کے لیے جانا جاتا ہے۔
گزشتہ سال اوپن اے آئی نے دفاعی کمپنی Anduril Industries کے ساتھ بھی شراکت کی تھی تاکہ سیکیورٹی مشنز کے لیے اے آئی پر مبنی حل تیار کیے جا سکیں۔
یہ معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے اور اس تنازع میں مداخلت کے اشارے بھی دیے ہیں۔