کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے لیے کل 1028 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے، جس میں 240 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اور 642 ارب روپے غیر ترقیاتی شعبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے اجلاس میں بتایا کہ حکومت نے مختصر مدت میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور موجودہ مالی سال کا پورا ترقیاتی بجٹ استعمال کیا جا چکا ہے۔
وزیر خزانہ نے آگاہ کیا کہ موجودہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں 21 فیصد رقم سڑکوں، 18 فیصد آبپاشی، 13 فیصد تعلیم، 8 فیصد صحت اور 2.3 فیصد توانائی کے منصوبوں پر خرچ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے 32 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی جبکہ صاف پانی کی فراہمی، ڈیموں کی تعمیر اور دیگر پانی کے منصوبوں پر 46 ارب روپے سے زیادہ رقم مختص کی گئی۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 36 ارب 50 کروڑ روپے کا سرپلس رکھا گیا ہے، جس میں صحت کے مختلف منصوبوں اور نئی آسامیوں کے لیے 16 ارب 40 کروڑ روپے ترقیاتی مد اور 71 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں مختص کیے گئے ہیں۔
میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح تعلیم ہے اور اس شعبے کے لیے 1170 کنٹریکٹ اور 67 مستقل آسامیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اسکول ایجوکیشن کے لیے آئندہ بجٹ میں ترقیاتی مد میں 19 ارب 80 کروڑ اور غیر ترقیاتی مد میں 101 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ گلوبل پارٹنرشپ ایجوکیشن گرانٹ کے تحت 6 ارب 70 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے ہائر ایجوکیشن اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے رواں مالی سال 22 ارب 81 کروڑ روپے مختص کیے جانے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ جامعات کے بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ کالجز کے غیر ترقیاتی بجٹ کے لیے 24 ارب روپے اور ترقیاتی کاموں کے لیے 5 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ میر چاکر خان یونیورسٹی کے سب کیمپس کو فعال بنانے کے لیے ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
زراعت کو صوبے کی معیشت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زراعت کے شعبے کے لیے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ میں بالترتیب 10 ارب اور 16 ارب 77 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔