Wed, September 16, 2026

ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو سخت ترین جواب دیں گے: آیت اللہ خامنہ ای

 ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو سخت ترین جواب دیں گے: آیت اللہ خامنہ ای

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ اور اسرائیل کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور خطرناک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلی بار جو کارروائی کی گئی تھی وہ صرف شروعات تھی، اصل طاقت کا مظاہرہ ابھی باقی ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی قوم امریکا اور اس کی پشت پناہی کرنے والی اسرائیلی حکومت کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی ہے، اور اگر دوبارہ کوئی جارحیت ہوئی تو ایران کا ردعمل العدید بیس پر حملے سے کہیں بڑا ہوگا۔

یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ ماہ قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے العدید پر میزائل حملہ کیا تھا، جو کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے حساس فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ حملہ اُس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں جنگ کے آثار گہرے ہو گئے۔

ادھر امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے، اور انہوں نے اس مقصد کے لیے اگست کے آخر تک کی مہلت دی ہے۔ بصورت دیگر، ایران کو اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کی پارلیمنٹ نے مغربی ممالک کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ جب تک امریکا اپنی پیشگی شرائط واپس نہیں لیتا، تب تک مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔

اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی سفارت کاروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں اور قیادت کی رہنمائی پر عمل کریں، تاہم انہوں نے ان ہدایات کی تفصیل ظاہر نہیں کی۔

ٹیگز: