Wed, September 16, 2026

ایران پر حملہ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف، آیت اللہ خامنہ ای کا قتل ناقابلِ قبول: اسحاق ڈار

ایران پر حملہ عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانے کے مترادف، آیت اللہ خامنہ ای کا قتل ناقابلِ قبول: اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر پاکستان کا پالیسی بیان جاری کر دیا ہے۔ انہوں نے ایران پر حالیہ حملوں اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسحاق ڈار نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان خاموشی سے ایران کے معاملے پر 'بیک ڈور ڈپلومیسی' کر رہا تھا اور ہمیں قوی امید تھی کہ مذاکرات کے ذریعے حل نکل آئے گا۔وزیر خارجہ کے مطابق، ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے معاملے پر متفق ہو چکا تھا۔
 پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر ایران کا مقدمہ لڑا اور حملے کے فوری بعد ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔ایران ہمارا بھائی اور بہت عزیز دوست ہے، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔نائب وزیراعظم نے پاکستان کی اسٹریٹجک ترجیحات کو واضح کرتے ہوئے کہا   ہم سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں جس کے ہم مکمل پابند ہیں۔ ہم خطے میں توازن برقرار رکھنا چاہتے ہیں لیکن اپنے معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایران میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے انہوں نے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے ۔ اس وقت 35 ہزار پاکستانی ایران میں موجود ہیں۔  اب تک 792 پاکستانیوں کو وہاں سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے، جبکہ بقیہ شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ٹیگز: