ملک میں کوئی بھی مشکل مصیبت یا کوئی وبا پھوٹ پڑے حکومت عوام کی داد رسی کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اس کی بنیادی وجہ ملک میں بلدیاتی نظام کا نہ ہونا ہے اس پر ہم آگے چل کر بات کرتے ہیں پہلے اپنے مجموعی کردار پر بات کرتے ہیں۔کسی بھی معاشرے کے مجموعی اخلاق اور کردار کی پہچان اس پر پڑے مشکل وقت سے ہوتی کہ وہ اس مشکل یا مصیبت میں کس طرح کاکردار ادا کرتا ہے اور اس کا مجموعی رویہ کیسا ہوتا ہے، اس ضمن میں بڑے ہی افسو س کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی انحاط کا نہ صرف شکار ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ایک بیمار معاشرہ ہے تو بے جا نہ ہو گا اس پر مستزاد کہ ہم خود کو پارسا کہلانے میں بھی بڑا فخر محسوس ہی نہیں کرتے بلکہ خود نمائی میں بھی دیگر معاشروں سے آگے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک کسی مصیبت کی گھڑی میں بلا رنگ و نسل و مذہب سب کی مدد کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں مسلک اور ذات برادری کو فوقیت دی جاتی ہے ۔ 77 برسوں سے ہم ایسا ہی دیکھتے آرہے ہیں جس میں کوئی تبدیلی کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ لیکن اس وقت تو اس ہجوم نما قوم کے اخلاق اور کردار پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جب کسی مشکل اور مصیبت کے وقت انسانی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ضروریات زندگی اور ادویات قیمتوں میں اضافے کے ساتھ انہیں زخیرہ بھی کر لیا جاتا ہے جس میں حکومتی اہلکار شامل ہوتے ہیں ۔کسی بھی ریاست کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ’’کرمنل مائنڈڈ‘‘ سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے لیکن یہاں بھی یہ افسوس ناک حقیت سامنے آتی ہے کہ خود حکومت میں شامل افراد بھی ایسے موقع سے فائدہ اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں جو حکومت مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو وہ اپنا حق حکومت کھو بیٹھتی ہے۔
اب آتے ہیں ہم بلدیاتی نظام کے فوائد کی طرف دنیا بھر میں جہاں جہاں جمہوری طرز حکومت رائج ہے وہاں آپ کو مقامی حکومتیں نظرآئیں گے جن کا کام عوامی مسائل کا حل ہوتا ہے اور جہاں بادشاہت ہے وہاں کی تو بات ہی چھوڑیے لیکن آمرانہ جمہوریت میں بھی آپ کو مقامی حکومتوں کے نظام سے فرار نظر آئے گا۔ حالانکہ عوام کے مسائل کے حل کی ذمہ داری ہی مقامی حکومتوں کی ہے جن سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں ان
کے قیام کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی ناپید ہے۔۔ آج اگر مقامی حکومتیں ہوتیں تو ،وزرا اعلیٰ کو گوڈے گوڈے پانی میں گھس کر جائزہ نہ لینا پڑتا اور نہ چوبیس چوبیس گھنٹے ’’مشقت‘‘ کرنا پڑتی ۔ کسی بھی محلے کے افراد سے جتنا وہاں کا کونسلر واقف ہوتا ہے دوسرا کوئی بھی نہیں ہو سکتا اس کے ساتھ ہی گلیوں محلوں میں پیدا ہونے والے چھوٹے موٹے مسائل کے حل کے لئے لوگ کونسلر سے رابطہ کرتے تھے پولیس اور عوام کے درمیان کونسلر رابطے کا بھی بہترین ذریعہ ثابت ہوتے رہے ہیں اور مصیبت کے وقت بھی یہی کونسلر ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے تھے ۔مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی بانجھ ہے ۔جن عوامی نمائندوں کا کام قانون سازی کرنا تھا انہیں گلیاں پکی کرانے ، سڑکوں پر لگے بینر اتروانے دیواروں پر کی گئی وال چاکنگ ختم کرانے جیسے ’’عوامی فلاحی‘‘ کاموں پر لگا دیا گیا ہے، الٹی گنگا جمہوریت کے نام پر بہائی جارہی ہے۔ مقامی حکومتیں ایک جمہوری معاشرے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ان کے بغیر جمہوریت نامکمل ہے پھر بھی ہمارے ہاں موجودہ حکومت کو جمہوری کہا جاتا ہے بلکہ ’’آمرانہ جمہوریت‘‘ کے بچانے کے لئے تمام جماعتیں یک جان قالب بھی ہو جاتی ہیں۔
مقامی حکومتوں کا نظام پہلی بار برصغیر میں انگریز نے متعارف کرایا اور تمام بڑے شہروں میں بلدیاتی ادارے قائم کئے۔ قیام پاکستان کے بعد باقائدہ مقامی حکومتوں کا نظام ایک فوجی ’’آمر‘‘ جنرل ایوب نے 1960 میں متعارف کرایا جیسے بنیادی جمہوریتوں کا نام دیا گیا۔1972 میں دوسرا ایکٹ پیپلز ایکٹ منظور کیا گیا لیکن 1979 تک اس نظام کے تحت الیکشن کی نوبت ہی نہ آئی۔ 1979کے بعد دوسرے فوجی ’’آمر‘‘ جنرل ضیا الحق نے ایک نیا نظام متعارف کرایا جس کے تحت 4 بار انتخابات ہوئے اور مقامی حکومتوں کی تشکیل ہوئی 1998میں اس وقت کی’’ جمہوری‘‘ حکومت نے محصول چونگی اور ضلع ٹیکس ختم کر کے سیلز ٹیکس لاگو کر دیا جو مقامی حکومتوں کے معاملات میں وفاق کی مداخلت تھی۔
2001 میں پھر ایک فوجی’’آمر‘‘ جنرل پرویز مشرف نے ڈی ویلویشن پلان کے نام سے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا جو سابقہ ماڈلوں سے مختلف تھا اس نظام کے تحت ضلعی سطح پر طاقت کا مرکز افسر شاہی کے نمائندوں کے بجائے ضلع ناظم کے دائرہ اختیار میں لایا گیا دیہی کونسلوں کا امتیاز ختم کیا گیا۔ عوامی نمائندگی میں وسعت لائی گئی اور ملکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دی گئی کسان ،مزدور اور اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستیں رکھی گئیں۔مشرف کے نظام میں پہلی بار گراس روٹ لیول تک اختیارات منتقل ہوئے اور حقیقی معنوں میں عام آدمی کو فائدہ پہنچنا شروع ہوا۔ اس نظام نے بمشکل اپنی جڑیں پکڑنا شروع کی تھیں اور اس کے ثمرات ظاہر ہونا شروع ہوئے تھے کہ ’’جمہوری حکومت‘‘ نے اس نظام کو بھی ’’آمر‘‘ کا نظام کہہ کر ختم کر دیا اور دوبارہ 1979جیسا نظام متعارف کر کے دوبارہ اختیارات’’ افسر شاہی‘‘ کی گود میں ڈال دئیے اور بعد ازاں اس پورے نظام جو عوام کی فلاح و بہبود پر یقین رکھتا تھا پر کرپشن کا الزام لگا کر اسے مکمل طور پر ختم کر دیا۔’’سابقہ جمہوری انصافی ‘‘ حکومت نے اپنی ساڑھے تین سالہ مدت میں بلدیاتی انتخابات نہ کرائے اور ’’موجودہ جمہوری‘‘ حکومت نے بھی ابھی تک مقامی حکومتوں کے قیام کے لئے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی بلکہ پورے کے پورے بلدیاتی ڈھانچے کو چوں چوں کا مربہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ ملک کی اعلیٰ عدالتیں مقامی حکومتوں کے قیام کے لئے زور دے رہی ہیں جس پر بھی لیت لعل سے کام لیا جارہا ہے ۔
ہمارے ہمسایہ ملک میں جمہوریت کیوں مضبوط ہے اور دنیا اس کی تعریف کیوں کرتی ہے اس کی بنیاد بھی مقامی حکومتوں کے نظام کا قائم ہونا ہی بتایا جاتا ہے وہاں جمہوریت کا پہلا تعارف دراصل مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی ہوا تھا جب 1983 میں پہلی بار کلکتہ اور ممبئی میں ایک محدود نمائندہ حکومت قائم کی گئی اس نظام کی کامیابی نے ہی وہاں جمہوریت کو مضبوط کیا۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140 -Aصوبوں پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ انتظامی،مالیاتی اور سیاسی اختیارات اضلاع کو منتقل کریں کیونکہ مقامی حکومتوں کے نظام میں شہریوں کو بھر پور شرکت کا موقع ملتا ہے اور ان کی وطن کے ساتھ کٹمٹنٹ میں اضافہ ہونے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ جذبہ ہمدردی اور خود اپنی ذات پر اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ مقامی حکومتوں کے بغیر شہری خود کو یتیم اور لاورث سمجھتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کسی شہری کو اپنے کسی صوبائی یا قومی اسمبلی کے نمائندے کے نام سے بھی واقفیت کم ہی ہوتی ہے کیونکہ ’’اشراف‘‘ کا رابطہ ہی ’’رعایا ‘‘ سے نہیں ہوتا۔
آج اگر مقامی حکومتیں فعال ہوتی تو سیلاب کی تباہ کاریوں کے اس دور میں مقامی نمائندوں سے بہتر اور اچھے انداز میں کام لے کر بہتر خدمات میں نام کمایا جاسکتا تھا لیکن اس کے لئے عقل اور ویژن کی ضرورت ہے۔