Wed, September 16, 2026

مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور مستقبل کا لائحہ عمل

مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور مستقبل کا لائحہ عمل

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، یہ اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کا نام ہے۔ یہ اس نظام کا نام ہے جہاں اقتدار ایوانوں، سیکرٹریٹوں اور بند کمروں سے نکل کر گلی، محلے، یونین کونسل اور قصبے تک پہنچے۔ دنیا کے وہ تمام ممالک جو آج ترقی، خوشحالی، شفافیت اور عوامی فلاح کے استعارے سمجھے جاتے ہیں، وہاں جمہوریت کی بنیاد پارلیمنٹ نہیں بلکہ مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے، مگر عام آدمی کے ٹوٹے نالے، بند گلی، گندے پانی، ٹوٹی سڑک، پینے کے پانی، صفائی، صحت اور تعلیم جیسے مسائل کا حل صرف مقامی حکومتیں ہی دے سکتی ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت ہمیشہ اوپر سے نیچے آئی، نیچے سے اوپر نہیں گئی۔ یہاں ہر حکومت نے جمہوریت کے دعوے تو بہت کیے مگر بنیادی جمہوریت سے ہمیشہ خوفزدہ رہی۔ وجہ بالکل واضح ہے۔ مضبوط مقامی حکومتیں طاقت کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ ہماری سیاست اور بیوروکریسی طاقت کو مرتکز رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا درخت ہمیشہ کمزور رہا کیونکہ اس کی جڑیں کبھی مضبوط نہیں ہونے دی گئیں۔
یہی وہ اہم سوالات تھے جن پر گزشتہ دنوں سول سوسائٹی کی معروف تنظیم ”وائز“ کی جانب سے”پنجاب میں مقامی حکومتوں کی مضبوطی: نقطہ نظر اور مستقبل کا لائحہ عمل“ کے عنوان سے ایک اہم صوبائی عوامی فورم منعقد کیا گیا۔ اس فورم میں لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور قصور سمیت مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک سو تیس شرکاءنے شرکت کی۔
تقریب کے پہلے سیشن کی صدارت بشریٰ خالق نے کی جبکہ مقررین میں لوکل گورنمنٹ ایکسپرٹ سید عبدالخالق اور فارمین کرسچین کالج یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر شکیلہ سندھو شامل تھیں۔ دوسرے سیشن کی صدارت تنویر جہاں نے کی جبکہ محمد تحسین، ڈاکٹر عائشہ، اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ اور محمد زاہد اسلام نے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے ایک نکتے پر مکمل اتفاق کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی بڑی وجوہات میں سے ایک مقامی حکومتوں کا غیر مستحکم اور کمزور نظام بھی ہے۔یہ امر انتہائی دلچسپ اور افسوسناک بھی ہے کہ ہمارے ہاں ہر سیاسی جماعت اپوزیشن میں ہوتے ہوئے مقامی حکومتوں کی حامی اور حکومت میں آتے ہی اس کی مخالف بن جاتی ہے۔ کیونکہ اقتدار کا اصل حسن اختیار کی مرکزیت میں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی ادارے یا تو تحلیل کر دیے جاتے ہیں یا پھر انہیں فنڈز، اختیارات اور انتظامی طاقت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ گویا منتخب نمائندے تو موجود ہوتے ہیں مگر ان کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔
فورم میں پیش کی جانے والی قرارداد میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے حوالے سے کئی اہم نکات اٹھائے گئے۔ سب سے اہم اعتراض پنجاب کے بڑے شہروں میں ٹاو¿ن کارپوریشن اور ضلعی اتھارٹیوں کے متضاد نظام پر تھا۔ مقررین کا مو¿قف تھا کہ لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ اور دیگر بڑے شہروں میں میٹرو پولیٹن کارپوریشنز بحال کی جائیں تاکہ انتظامی اختیارات ایک مربوط انداز میں کام کر سکیں۔ کیونکہ موجودہ نظام میں اختیارات کی تقسیم مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اسی طرح یونین کونسلوں کی حلقہ بندیوں کو آبادی کی بنیاد پر استوار کرنے کا مطالبہ بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ایک یونین کونسل پچیس سے تیس ہزار آبادی پر مشتمل ہوگی تو نمائندگی زیادہ متوازن اور مو¿ثر ہو سکے گی۔ مزید یہ کہ ملٹی ممبر وارڈز کے بجائے سنگل ممبر وارڈز کا تصور عوامی نمائندگی کو زیادہ شفاف اور جوابدہ بنا سکتا ہے۔
خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے بھی اہم مطالبات سامنے آئے۔ مقررین نے واضح طور پر کہا کہ اگر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو خواتین کو محض نمائشی نشستیں دینے کے بجائے انہیں حقیقی سیاسی شراکت دار بنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کارپوریشنوں، ٹاو¿ن کونسلوں اور میٹرو پولیٹن اداروں میں خواتین کی نمائندگی چودہ فیصد سے بڑھا کر تینتیس فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مطالبہ محض خواتین کے حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوری توازن کا تقاضا بھی ہے۔
ایک اور نہایت اہم نکتہ مالی خودمختاری کا تھا۔ دنیا بھر میں مقامی حکومتیں اس وقت تک مو¿ثر نہیں ہو سکتیں جب تک ان کے پاس مالی وسائل موجود نہ ہوں۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات تو دور کی بات، فنڈز بھی مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی مرضی سے ملتے ہیں۔ فورم میں یہ مطالبہ سامنے آیا کہ پنجاب کنسولیڈیٹڈ فنڈ کا کم از کم پچیس فیصد فنانس کمیشن کے ذریعے مقامی حکومتوں کو منتقل کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو بلدیاتی ادارے صرف سیاسی سائن بورڈ بن کر رہ جائیں گے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، شہروں کے مسائل پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، بیروزگاری، آلودگی، ٹریفک، پانی، صفائی اور تجاوزات جیسے مسائل سنگین شکل اختیار کر رہے ہیں، وہاں مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم ناگزیر ہو چکا ہے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے نظام کی بقا کا مسئلہ ہے۔
فورم کے شرکاءنے الیکشن کمیشن سے فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ کیونکہ جمہوریت کا تسلسل اسی وقت ممکن ہے جب اقتدار کی منتقلی نچلی سطح تک ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات ہمیشہ سیاسی مصلحتوں کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ عوام کو سب سے زیادہ واسطہ انہی اداروں سے پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایک منتخب کونسلر بھی اپنے علاقے کے مسائل حل نہ کر سکے، اگر ہر چھوٹے کام کے لیے شہری کو ایم این اے یا ایم پی اے کے دروازے پر جانا پڑے، اگر اختیارات چند ہاتھوں تک محدود رہیں تو پھر ایسی جمہوریت اور آمریت میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے؟پاکستان کو اگر حقیقی معنوں میں جمہوری، فلاحی اور مستحکم ریاست بنانا ہے تو پھر طاقت کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہوگی۔ مضبوط مقامی حکومتیں صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا کا تقاضا ہیں۔ کیونکہ جمہوریت صرف ایوانوں میں نہیں، گلیوں، محلوں اور یونین کونسلوں میں سانس لیتی ہے۔ اور جب تک اس سانس کو آزاد نہیں کیا جاتا، جمہوریت محض ایک خوبصورت نعرہ ہی رہے گی۔

ٹیگز: