تحریک انصاف کی جانب سے 8فروری کو دی گئی ہڑتال کی کال بڑی حد تک کامیاب ہو گی لیکن یہ کال مکمل طور پر ناکام بھی ہو گی ۔ یہ ایک ہی سانس میں ہم متضاد دعوے کیوں کر رہے ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے پاکستان کی گذشتہ پچاس سالہ تاریخ میں ہڑتالوں کی کال پر چند جملے قارئین کے گوش گذار ۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے خلاف 1977کی تاریخ میں کئی بار ہڑتال کی کالیں دی گئی اور وہ سب کامیاب ہوئیں لیکن جب جنرل ضیا کا مارشل لاءلگا تو اس تمام عرصہ میں پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی مقبول ترین جماعت رہی لیکن یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس نے کبھی ہڑتال کی کال نہیں دی حتیٰ کہ 1983کی MRDٍ کی تحریک جو بڑے دبنگ انداز میں چلی تھی اور اسی کے دباﺅ میںجنرل ضیاءنے 1985کے غیر جماعتی الیکشن کرائے تھے اس تحریک کے دوران بھی ہڑتال کی کوئی کال نہیں دی گئی ۔اب یہ کال کیوں نہیں دی گئی تو اس کی کچھ وجوہات ہیں کہ ہڑتال کے لئے صرف عوام میں مقبولیت کام نہیں آتی بلکہ اس کے لئے کچھ اور لوازمات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس میں صرف ہڑتال کے لئے تاجر برادری اور پہیہ جام کے لئے ٹرانسپورٹ برادری کی حمایت ضروری ہے اور بھٹو صاحب کی نیشنلائز پالیسی کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تاجر برادری کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے ۔ اس لئے پاکستان پیپلز پارٹی اور MRD اتحاد نے کبھی ہڑتال کی کال نہیں دی کیونکہ اس کے ناکام ہونے کا خدشہ تھا جس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت پر سوال اٹھ سکتے تھے لہٰذا وہ عقل مند تھے اور سب سے بڑی بات کہ وہ سیاست دان تھے اور انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ کب کس وقت کس موقع پر کیا کرنا لیکن تحریک انصاف کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی سیاست کو دیکھتے ہوئے سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس جماعت کی قیادت میں سیاسی سمجھ کی کافی حد تک کمی پائی جاتی ہے اسی لئے احتجاج کی بار بار ناکامی کے ذریعے تحریک انصاف کی مقبولیت کے بیانیہ کو اگر کسی نے چکنا چور کیا ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کی قیادت اور بانی تحریک کی سیاسی حکمت عملیاں جنھیں عمران خان کے چاہنے والے ماسٹر سٹروک قرار دیتے رہے ان کا بنیادی کردار ہے ۔
متحدہ نے 90کی دہائی اور اس کے بعد بھی لا تعداد بار ہڑتال کی کال دی اور یہ ہڑتالیں ان کی کراچی میں مقبولیت سے زیادہ خوف کی وجہ سے کامیاب ہوئیں اور اس حد تک کامیاب ہوتیں کہ سڑکوںپر ویرانی کا یہ عالم ہوتا تھا کہ سائیکل سوار بھی نظر نہیں آتے تھے کیونکہ ہڑتال سے ایک دن پہلے شام چار بجے کے قریب متحدہ کی رابطہ کمیٹی اگلے دن کے لئے ہڑتال کا فیصلہ کرتی تھی اور کچھ دیر میں الطاف بھائی لندن سے اس ہڑتال کے فیصلے کی جیسے ہی توثیق کرتے تھے تو پورے کراچی میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا تو خوف کا عنصر بھی ہڑتال کی کامیابی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے مذہبی جماعتوں کے پاس ووٹ بنک نہیں ہوتا لیکن ان کی ہڑتال ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس لٹھ بردار کارکنوںکی ایک بڑی کھیپ موجود ہوتی ہے جو ہڑتال والے دن صبح صبح مارکیٹوں کو بند کرانے پہنچ جاتے ہیں ۔ اب تحریک انصاف کے پاس تو ایسے لٹھ بردار کارکن نہیں ہیں اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ میں زیادہ تر پختون برادری ہے تو پختون ہیوی وہیکل میں ہوں گے لیکن وہ تو رات 11بجے سے پہلے شہر میں سڑکوں پر آتے ہی نہیں ہیں لیکن عام پبلک ٹرانسپورٹ تو لوگ خود چلاتے ہیں اس لئے پختون برادری کی بنیاد پر ہڑتال کامیاب نہیں ہو گی اور پھر یہ کلیہ صرف کراچی کی حد تک ہے پورے پاکستان میں اس کو لاگو نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لئے کوئی بھی سیاسی سمجھ رکھنے والا بڑی آسانی سے کہہ سکتا ہے کہ آٹھ فروری کی ہڑتال مکمل طور پر ناکام ہو گی ۔
اب بات کرتے ہیں کہ کامیاب کیسے ہو گی تو جناب 8فروری کو اتوار کا دن ہے تو مارکیٹیں ، بازار اور دفاتر تو ویسے ہی بند رہتے ہیں اور تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے تو اس طرح ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر معمول سے کافی کم ہو گی اور پھر پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں تو 7,6اوراس کے بعد8 فروری بسنت ہو گی اور 8فروری کو چونکہ بسنت کا آخری دن ہو گا تو پورا ”شپ شپا“ کا ایک ماحول ہو گا بو کاٹا کی آوازیں گونج رہی ہوں گی۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سجا ہو گا اور ایسے میں لوگ گلے میں ڈور پھرنے کے ڈر سے ویسے ہی باہر نہیں نکلیں گے اور جو گاڑیوں والے ہیں وہ سڑکوں پر نہیں بلکہ اپنی چھتوں پر بسنت منا رہے ہوں گے ۔ اب ناکام کیسے ہو گی کہ ٹریفک کم ہی سہی لیکن چل رہی ہو گی ۔ مال سارے کھلے ہوں گے ۔ اتوار بازار بھی کھلے ہوں گے ۔ سردی کا موسم ہے لوگ بڑی تعداد میں تفریح گاہوں کی جانب بھی جائیں گے ۔ یہ لاہور کے علاوہ دیگر شہروں کی بات ہو رہی ہے تو ہڑتالی پارٹی کامیابی کے دعوے کرے گی اور حکومتی پارٹیاں ناکامی کے دعوے کریں گے اور قارئین دونوں اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر کے خوش ہوں گے اور دونوں اپنی اپنی جگہ درست بھی ہوں گی لہٰذا پریشان نہیں ہونا سب اپنی اپنی پرانی تنخواہوں پر کام کرتے رہیں گے کہیں کوئی کچھ تبدیل نہیں ہو گا۔