Wed, September 16, 2026

درخشاں ستارے،عظیم شخصیات اور شوکت خانم کینسر ہسپتال

 درخشاں ستارے،عظیم شخصیات اور شوکت خانم کینسر ہسپتال

یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اقوام کی پہچان صرف ان کی سیاسی تاریخ، اقتدار کے نشیب و فراز یا وقتی حالات سے نہیں ہوتی بلکہ ان کے سماجی رویّوں، فلاحی اقدار اور ان شخصیات و اداروں سے ہوتی ہے جنہوں نے خاموشی، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ پاکستان کی تاریخ میں اگر ایک طرف مشکلات، آزمائشیں اور بحران آئے ہیں تو دوسری جانب ایسے روشن چراغ بھی جلتے رہے ہیں جنہوں نے اندھیروں میں امید کا راستہ دکھایا۔ یہی وہ لوگ اور ادارے ہیں جو پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک مثبت، مہذب اور باوقار تشخص عطا کرتے ہیں اور جن کی بدولت یہ ملک محض مسائل کا مجموعہ نہیں بلکہ امکانات کی سرزمین بھی نظر آتا ہے۔
پاکستانی قوم کو اکثر مشکلات، بحرانوں اور اختلافات کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے کہ یہ قوم دل کی فراخی، ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے میں بے مثال ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، خیرات اور عطیات کے میدان میں پاکستانی عوام کا شمار دنیا کی سخی ترین اقوام میں ہوتا ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا انسانی المیے، پاکستانی قوم ہمیشہ بڑھ چڑھ کر مدد کے لیے سامنے آتی ہے۔ یہی اجتماعی جذبہ ایسے فلاحی اداروں کی بنیاد بنتا ہے جو ریاستی نظام کی کمزوریوں کے باوجود عام انسان کے لیے سہارا، حوصلہ اور امید کی علامت بن جاتے ہیں۔ہماری سرزمین نے عبدالستار ایدھی جیسے عظیم انسان کو جنم دیا، جنہوں نے خدمتِ انسانیت کو کسی مذہب، نسل، زبان یا قوم تک محدود نہیں رکھا۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ ایک فرد بھی اگر خلوصِ نیت اور سچائی کے ساتھ قدم بڑھائے تو پورے معاشرے کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ اسی طرح حکیم محمد سعید، جنہوں نے علم، صحت، ادب اور کردار سازی کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، آج بھی پاکستان کے روشن اور معتبر چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے سائنس دان نے علم و تحقیق کے میدان میں پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا اور یہ ثابت کیا کہ ذہانت، محنت اور تحقیق کسی سرحد، جغرافیے یا حالات کی محتاج نہیں ہوتی۔ اسی طرح ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کو یقینی بنایا، اور اپنے علم و محنت کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اور قابلِ احترام قوم کے طور پر پیش کیا۔
انہی مثبت روایات اور اعلیٰ اقدار کا تسلسل ہمیں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی صورت میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ محض اینٹوں، مشینوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک وژن اور ایک اجتماعی خواب کی عملی تعبیر ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کبھی کینسر کا علاج صرف امیر اور صاحبِ حیثیت طبقے تک محدود سمجھا جاتا تھا، وہاں ایک عالمی معیار کا خیراتی کینسر ہسپتال قائم ہونا بلاشبہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ یہ اس یقین کا مظہر ہے کہ اگر نیت صاف ہو، مقصد واضح ہو اور عوام کا اعتماد ساتھ ہو تو ناممکن سمجھے جانے والے کام بھی ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں علاج کو تجارت نہیں بلکہ عبادت اور خدمت سمجھا جاتا ہے۔ جدید طبی مشینری، عالمی معیار کے علاج کے طریقے، تربیت یافتہ ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور ایک شفاف و منظم انتظامی نظام اس ادارے کو خطے کے بہترین طبی مراکز میں شامل کرتا ہے۔ یہاں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر مریض کو صرف ایک انسان سمجھا جاتا ہے، جسے عزت، توجہ، ہمدردی اور بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔اس ادارے کی بنیاد رکھنے والی قیادت کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ اس نے ذاتی دکھ اور تکلیف کو اجتماعی فائدے اور قومی خدمت میں بدل دیا۔ 
وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ لاہور تک محدود نہیں رہا بلکہ پشاور اور کراچی تک پھیل چکا ہے، جو عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد، تعاون اور وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔ ا بھر میں قائم اس کی لیبارٹریز جدید تشخیصی سہولیات فراہم کر رہی ہیں، جہاں عام آدمی کو معیاری اور قابلِ اعتماد ٹیسٹس میسر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کے شعبے میں پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ شوکت خانم صرف موجودہ ضروریات ہی نہیں بلکہ مستقبل کے طبی تقاضوں کو بھی پیشِ نظر رکھے ہوئے ہے۔ اب یہ ادارہ محض علاج کا مرکز نہیں بلکہ علم، تحقیق اور جدید طب کا ایک معتبر حوالہ بنتا جا رہا ہے۔اگر اس ہسپتال کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو اس کا ماحول ہی اس کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل بن جاتا ہے۔ گیٹ پر موجود سیکیورٹی گارڈ سے لے کر صفائی کرنے والے عملے، نرسوں، ڈاکٹروں اور انتظامیہ تک، ہر فرد کے چہرے پر ذمہ داری، خلوص اور انسان دوستی جھلکتی ہے۔ یہ سب لوگ کسی عام ملازمت سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت کا فریضہ انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ مریض اور ان کے اہلِ خانہ یہاں آ کر صرف جسمانی علاج ہی نہیں پاتے بلکہ حوصلہ، اعتماد، سکون اور امید بھی حاصل کرتے ہیں، جو کسی بھی بیماری کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ شوکت خانم جیسے ادارے آج بھی لاکھوں کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی واحد کرن بنے ہوئے ہیں۔ یتیم بچے، بیوائیں، کمزور اور بے سہارا طبقات جن کے پاس علاج کا کوئی اور ذریعہ نہیں، ان کے لیے یہ ہسپتال زندگی کی نئی امید، نیا حوصلہ اور نیا سہارا فراہم کرتا ہے۔ ایسے ادارے کسی ایک فرد، جماعت یا طبقے کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ اور اجتماعی فخر ہوتے ہیں۔
یہ بات فخر کی ہے کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی اعلیٰ افسران، خصوصاً وہ جو طبی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، نے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے نہ صرف ہسپتال کی تعریف کی بلکہ کھل کر اعتراف کیا کہ یہاں کی طبی سہولیات عالمی معیار کے مطابق ہیں۔ یہ تسلیم کرنا کہ شوکت خانم میں فراہم کی جانے والی خدمات بین الاقوامی سطح کی ہیں، نہ صرف ہسپتال کی محنت اور معیار کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑا اعزاز اور فخر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم ان مثبت مثالوں کو مزید اجاگر کریں، ان شخصیات اور اداروں کو یاد رکھیں اور سراہیں جنہوں نے پاکستان کا نام خدمت، علم، تحقیق اور انسانیت کے ذریعے روشن کیا۔ شخصیات سے اختلافات اپنی جگہ، مگر فلاحی اداروں کو سیاست، تعصبات اور ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر رکھنا ہماری اجتماعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال جیسے ادارے دراصل اس پاکستان کی تصویر ہیں جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ایک ایسا پاکستان جو درد بانٹتا ہے، زندگی بچاتا ہے، امید پیدا کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت کو اپنی اصل پہچان بناتا ہے۔

ٹیگز: