چہ مگوئیاں، شہر اقتدار کی خفیہ نشستیں، سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی، دہشت گردی کی لہر اور پھر نئی بحث کہ نظام ایسے نہیں چل سکتا۔ نئے صوبائی یونٹ، طاقتور حلقوں کے نمائندوں کی اس حوالے سے مباحثوں میں اعلامیہ دو ٹوک انداز میں اپنا منظورِ نظر موقف رکھنا کچھ ایسے عوامل ہیں جس نے خود حکومتی صفوں میں بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ حالات و واقعات بھی یہی بتاتے ہیں اور تاریخی پسِ منظر بھی یہی ہے کہ حکومت کے تیسرے سال میں اگلے الیکشن کیلیئے جوڑ توڑ شروع ہو جاتا ہے اور پھر حریف حلیف اور حلیف حریف بننے میں بس ایک اشارہ ابرو ہی کافی ہوتا ہے۔ وفاقی کابینہ کے کچھ وزرا جو سیاسی حلقوں کی بجائے طاقت کے کسی اور محور کے طواف سے آج سینیٹر یا وزیر ہیں ان کی طرف سے کی گئی حالیہ گفتگو پیشگی صف بندی کی نشانیاں ہیں۔ یہ ہیجانی کیفیت پیدا کر کے پریشر ڈالنے کی بھی ممکنہ کوشش ہو سکتی ہے کہ اگر فلاں ترمیم نہ آئی یا فلاں منصوبہ اس طرح پایہ تکمیل تک نہ پہنچا تو پھر سسٹم تو یہی چلے گا مگر۔۔۔ یہ وہ سوال ہے جس نے پاکستان کی 80 سالہ تاریخ کو ایسا جکڑ رکھا ہے کہ جہاں سے بھی شروع کریں ملک نازک صورتحال سے ہی دوچار نظر آتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ماضی کا معاملہ کچھ اور تھا اس وقت کی صورتحال ایسی ہے کہ سسٹم لپیٹنا یا کوئی دوسرا طرزِ حکومت نہ تو سیاسی جماعتوں بالخصوص حکومتی اتحاد اور نہ ہی طاقت کے ایوانوں میں موجود فیصلہ ساز قوتوں کیلئے سود مند ثابت ہو گا۔ گزشتہ اور رواں مہینے میں یہی مباحثہ دیکھنے اور سننے میں آیا کہ صفحہ ایک نہیں رہا اور اتحاد و اتفاق کی رسی شاید اس طرح مضبوط نہیں رہی جیسے تھی۔ بالخصوص حکومتی اتحاد کے بیچ دراڑوں یا کشمیر الیکشن میں سخت گیر مؤقف نے کچھ بھانڈ، میراثیوں اور سیاسی یتیموں کیلیے جز وقتی میلہ ضرور لگا دیا تھا تاہم حکومت میں موجود لیڈر بالخصوص نواز شریف اور آصف زرداری بڑے کایاں سیاست دان ہیں اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والوں کو بھی اس بات کا ادراک ہوگیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے بھی بدل چکے ہیں۔ اب روایتی انداز میں نہ تو زور زبردستی ممکن ہے اور نہ اتفاق رائے کے بغیر کوئی ایسی ترمیم جس سے مزید سیاسی اور انتظامی طور پر ملک بحران کا شکار ہو جائے۔ ایسے وقت میں جب بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پذیرائی ہو رہی ہو سیاسی و عسکری قیادت کی کارکردگی سے دنیا بھر میں پاکستان کو ایک ممتاز مقام حاصل ہو چکا ہو۔ ایسے میں کوئی بھی ایسا غیر ضروری یا قبل از وقت قدم اٹھانا جس سے سب پر پانی پھر جائے وہ کسی کے حق میں نہیں ہے۔ دوسری طرف حکومتی کارکردگی پر یقینا سوالیہ نشان ہیں اور عوامی سطح پر حکومت وقت وہ پذیرائی نہیں حاصل کر سکی یا سیاسی بیانیہ نہیں بنا سکی جسے عوامی مقبولیت حاصل ہو سکے۔ عوام مہنگائی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں، بجلی، گیس، پٹرول کی بڑھتی قیمتوں بے روزگاری میں ریکارڈ اضافہ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے حکومت پر ایک تلوار تو لٹکا دی ہے۔ سروے میں یہ واضح ہے کہ عوام کا بھی اس نظام پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ 90 فیصد غربت کی چکی میں پسنے والے عوام کیلیے یہ معنی نہیں رکھتا کہ حکمران شیروانی میں یا وردی میں ملبوس ہو، عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے سروکار ہے وہ اسلام آباد دے یا راولپنڈی بس حقوق ملنے چاہئیں۔ ہمارے ہاں سیاسی پسند نہ پسند بھی اسی فارمولے پر ہی ہوتی ہے کہ کس نے عوام کو کیا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف آج بھی عوامی حلقوں میں ایک مقبول ترین لیڈر ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نواز دور میں ملک کی مجموعی ترقی ہوئی اور اس کے مثبت اثرات عوام تک پہنچے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وقت کے تقاضوں اور عوامی نبض کی آواز پر اگر لبیک نہ کہا جائے تو پھر حالات کبھی بھی بدل سکتے ہیں اور بالخصوص پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر وقت کچھ لوگ تیار بیٹھے ہوتے ہیں کہ عالی مرتبت کے ماتھے پر شکن آئے اور کب وہ بے روزگار اپنے کاسٹوم جھاڑ کر سٹیج پر آ جائیں ایسے میں حکومت کو عوامی مسائل کو ان کی منشا کے مطابق حل کرنا اور معاشی طور پر استحکام لانا ضروری ہو جاتا ہے۔ عوام کی فرسٹریشن یا غم وغصہ کم کرنے کے لیے اقتدار کو نچلی سطح پر منتقل کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے اور شاید کچھ حلقوں کی ڈیمانڈ بھی ہے۔ ایک خود مختار بلدیاتی نظام یقینا عوام کی دہلیز پر ڈلیور کر سکتا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت بلدیاتی نظام حکومت کو با اختیار نہیں بنانا چاہتی اور نتیجتاً پھر ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ بے بسی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بلدیاتی نظام ہوتا ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A صوبائی حکومتوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔ تاہم، ملکی تاریخ میں اس تیسرے درجے کی حکومت کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ پاکستان کی بلدیاتی تاریخ ایک تضاد کا شکار رہی ہے۔ غیر جمہوری ادوار میں تو بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا گیا، لیکن جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ انہیں اپنے اختیارات کے لیے خطرہ سمجھا۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان ترقیاتی فنڈز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی حکومتیں فنڈز اور اختیارات سے محروم رہتی ہیں۔ موجودہ دور میں بلدیاتی نظام کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول، صوبائی حکومتیں حلقہ بندیوں یا دیگر بہانوں سے بلدیاتی انتخابات کو مسلسل التوا کا شکار رکھتی ہیں۔ دوم، فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث میئرز اور کونسلرز گلی محلوں کی سطح پر ترقیاتی کام کرانے سے قاصر ہیں۔ سوم، شہروں کا انتظامی کنٹرول منتخب نمائندوں کی بجائے بیوروکریسی جیسے ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہوتا ہے، جس سے بلدیاتی اداروں کی حیثیت صرف کاغذی رہ جاتی ہے۔ ایک عام شہری کے بنیادی مسائل جیسے صاف پانی، صفائی ستھرائی، سٹریٹ لائٹس اور ابتدائی صحت و تعلیم کا حل صرف ایک با اختیار بلدیاتی نظام ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ یہ ادارے نوجوانوں اور مڈل کلاس طبقے کے لیے ”سیاسی نرسری“ کا کام بھی کرتے ہیں، جہاں سے مستقبل کی مخلص قیادت جنم لیتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک پاکستان میں اختیارات اور فنڈز کی حقیقی منتقلی گلی محلوں تک نہیں ہو گی، تب تک جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو صوبائی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے آئینی طور پر محفوظ کیا جائے۔ سارے ملک میں یکساں بلدیاتی نظام نا گزیر ہے۔ با اختیار بلدیاتی نظام ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد اور اساس ہے کیونکہ اس کے بغیر جمہوری ثمرات کبھی عام شہری کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکتے۔ جب تک گلی، محلے اور ٹاؤن کی سطح پر عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار نہیں ملتا، تب تک جمہوریت صرف اشرافیہ کا کھیل بنی رہتی ہے۔ اگر صوبائی اکائیاں یہ کام کر دیتی ہیں تو اس سے صوبوں کی تقسیم سمیت دیگر انتظامی معاملات حل ہو سکتے ہیں۔ اگر سیاسی قیادت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ممکنہ طور پر تمام آپشنز موجود ہیں سسٹم اگر یہی بھی چلا تو کردار نئے ہوں گے۔