Wed, September 16, 2026

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

یہ حقیقت ہے کہ آج کا پاکستان بے روزگاری، مہنگائی، اور نوجوان نسل کے لیے مواقع کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان ہر سال ڈگریاں تو حاصل کر رہے ہیں مگر ان میں سے اکثر کے لیے روزگار کے مواقع دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں اگر کوئی ادارہ ان نوجوانوں کو نہ صرف روزگار مہیا کرے بلکہ اپنا کاروبار کرنے کے قابل بنا دے، تو وہ ملک و قوم کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں۔ کئی دہائیوں کے بعد ایسا ہی ایک ادارہ معرض وجود میں آیا ہے جسے بگ سکسیس فیملی (Big Success Family) یا مختصراً بی ایس ایف، کا نام دیا گیا ہے۔ اور یہ پاکستانی نوجوانوں کو معیاری کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
بی ایس ایف کا مقصد صرف نوجوانوں کو نوکری دلانا نہیں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ خود نوکریاں پیدا کرنے کے قابل بن سکیں۔ یہ ادارہ ایک ایسے ماڈل پر کام کر رہا ہے جس کے ذریعے نوجوانوں کو کاروباری تربیت، رہنمائی، مالی معاونت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائیگی۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ملک گیر اور مضبوط کاروباری نیٹ ورک بنا رہا ہے جس سے ہزاروں نوجوان اپنی صلاحیتوں کے مطابق کاروبار شروع کر سکیں گے۔ اور اگلے ایک دو سال میں یہی نوجوان ملک کے لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرنے کا سبب بن جائینگے۔ 
بی ایس ایف کے بانی چوہدری سجاد حسین جو کہ خود بھی بہت بڑی کاروباری شخصیت ہیں اور انکا شمار پاکستان کے کامیاب ترین کاروباری حضرات میں ہوتا ہے۔ "ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، مگر ان کے پاس پلیٹ فارم اور رہنمائی کا فقدان ہے۔ اور اب اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے بی ایس ایف وجود میں آیا ہے۔ ان کے مطابق، اس ادارے کا وژن ایک ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں ہر نوجوان کے پاس معاشی خود مختاری کے مواقع ہوں۔ بی ایس ایف نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تربیت دے گا جو نا صرف ان کی کاروباری سوچ کو نکھارنے کا باعث بنے گی، بلکہ انہیں عملی میدان میں قدم رکھنے کے لیے حوصلہ بھی کرے گی۔"
اس ادارے کا ایک اور اچھا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کاروباری تربیت کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف سے منسلک نوجوانوں کو مینٹورشپ یعنی تجربہ کار 
ماہرین کی رہنمائی بھی فراہم کرے گا۔ نوجوانوں کو مارکیٹنگ، برانڈنگ، فنانس، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبوں میں ہنر سکھائے جائیں گے۔ کیونکہ بی ایس ایف بطور ادارہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر نوجوانوں کو درست سمت دی جائے تو وہ کسی بھی معاشی انقلاب کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ نوجوانوں کو اپنے خیالات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ضروری وسائل اور مضبوط پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
بی ایس ایف کے تحت کئی ذیلی منصوبے بھی شامل ہیں جن کا اولین مقصد مختلف شعبوں میں کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے۔ ادارے کے ماڈلز میں ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ، ای کامرس بزنس، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، اور کارپوریٹ سٹارٹ اپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ادارہ نئے اور معیاری برینڈ بھی متعارف کرا رہا ہے جو نوجوانوں کیلئے ایک بنے بنائے کاروبار کا حصہ بننے کا نادر موقع فراہم کرے گا۔ اسی طرح ادارہ کاروبار شروع کرنے والوں کو قانونی معاونت، انتظامی رہنمائی اور مالی مدد بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں۔
یہ منصوبہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک میں روزگار کے روایتی ذرائع سکڑتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ملازمتیں محدود ہیں، نجی شعبہ مہنگائی کے دبا میں ہے، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ ایسے میں بی ایس ایف کا ماڈل نوجوانوں کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ جب ایک نوجوان خود کاروبار شروع کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ عمل ملک کی معیشت میں ایک مثبت زنجیر کی صورت اختیار کرتا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں نوجوان طبقہ سب سے بڑی قوت ہے۔ اگر انہیں صحیح سمت دی جائے تو یہ ملک کی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ بی ایس ایف کا ماڈل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ادارے کے ذریعے تربیت یافتہ نوجوان مستقبل میں وہ کاروبار قائم کر سکتے ہیں جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کریں۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھیں گے۔
ایسے منصوبوں سے ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک نوجوان اپنے زورِ بازو سے کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنتا ہے۔ یہی خوداعتمادی معاشرتی سطح پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ نوجوان جب خود مختار ہوتے ہیں تو وہ بہتر شہری بنتے ہیں، معاشرتی و معاشی استحکام میں کردار ادا کرتے ہیں، اور ترقی کے سفر میں شراکت دار بنتے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بی ایس ایف جیسے ادارے اگر پائیدار بنیادوں پر کام کرتے رہے تو آنے والے چند برس میں پاکستان کا کاروباری منظرنامہ یکسر بدل سکتا ہے۔ بی ایس ایف کے ماڈلز اگر سرکاری و نجی شعبے کی شراکت سے مزید وسعت اختیار کریں تو ملک بھر میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہو سکتا ہے، جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی معیشت کی بنیاد یا ریڑھ کی یہی ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ منصوبے نہ صرف بیروزگاری کو کم کریں گے بلکہ معیشت کو نئے شعبوں میں پھیلنے کا موقع دیں گے۔ نئی کمپنیوں اور برانڈز کے قیام سے مسابقت بڑھے گی، معیار بہتر ہوگا، اور عوام کو زیادہ بہتر مصنوعات و خدمات دستیاب ہوں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت ملے گی، جو کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ حکومت، نجی اداروں، اور مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ بی ایس ایف جیسے اقدامات کا ساتھ دیں، انہیں ٹیکس میں مراعات، مالی سہولتیں، اور قانونی آسانیاں فراہم کریں تاکہ یہ ادارہ مزید نوجوانوں تک پہنچ سکے۔ بلا شبہ اگر بی ایس ایف کا ماڈل اپنے دعوے کے مطابق شفافیت اور معیار کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو یہ پاکستان کے لیے ایک نئی معاشی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے۔
بی ایس ایف نے نوجوانوں کے لیے امید، مواقع، اور ترقی کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان خود بھی اس سفر میں حصہ لیں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، اور اپنے ملک کی ترقی میں عملی کردار ادا کریں۔ اگر ہر نوجوان بی ایس ایف جیسے پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھائے اور اپنی محنت سے آگے بڑھے تو یقینا وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا۔ ان شاء اللہ۔

ٹیگز: