Wed, September 16, 2026

کیا ترقی سے یہی مراد ہے؟ 

کیا ترقی سے یہی مراد ہے؟ 

پچھلی دہائجوں کی نسبت آج ہم زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان کے ہر شعبے میں بظاہر ترقی نظر آتی ہے۔ شہری سہولتیں، تعلیم، صحت، ذرائع ابلاغ، تعمیرات، ذرائع آمد و رفت اور ذرائع آمدنی وغیرہ جس جس پر غور کریں ہم 50، 60، 70، 80، 90 اور 2000ءکی دہائیوں سے آگے ہیں۔ ہمارے ہاں آنے والی ہر حکومت پہلے سے بڑا بجٹ پیش کرتی ہے۔ اس میں کرپشن کی گنجائش رکھ بھی لی جائے تب بھی ترقےاتی کاموں پر خرچ ہونے والے وسائل پہلے سے زےادہ ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ”کلےنکلی“ (Clinically) ہم ترقی کر رہے ہےں لےکن درج ذےل کچھ سوالات اہم ہےں۔ مثلاً تعلےم عام کرنے کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر بہت کام ہو رہا ہے۔ گلی گلی اور شہر شہر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں۔ بین الاقوامی ےونےورسٹےوں نے بھی اپنے جدےد کےمپس ےہاں شروع کر دےئے ہےں۔ سب طرف تعلےم کے بارے مےں کہا جا رہا ہے۔ دوسرے صوبوں سے بڑھ کر پنجاب تعلےم کے فروغ کے لیے کوششےں کر رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ صوبوں میں خیبر پختونخوا بھی کسی سے کم نہیں ہے۔ سندھ، بلوچستان اور کشمےر کے بڑے شہر بھی تعلےم حاصل کرنے کے لیے جاگ اٹھے ہےں۔ گوےا پچھلی دہائےوں کی نسبت آج پاکستان زیادہ تعلےم ےافتہ ہے لےکن سوال ےہ ہے کہ تعلےم ےافتہ ہونے کے باوجود بےروزگاری پہلے سے زیادہ ہے، پہلے سے کہیں زیادہ مواقع ہونے کے باوجود لوگ بےروزگاری کے ہاتھوں خودکشےاں کر رہے ہےں، معمولی آسامےوں کے لیے اعلیٰ ترین تعلیم ےافتہ لوگ درخواستےں دےنے پر مجبور ہےں۔ ےعنی تعلےم عام ہو گئی مگر اس کے فائدے کم رہ گئے۔ صحت کے حوالے سے شہروں کا ہی جائزہ لےں تو دنےا کی اچھی طبی سہولتےں ہمارے پاس ہےں۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں صحت کی صورتحال یہ ہے کہ غریب لوگوں کا سستا ہسپتال ہو یا امیر لوگوں کا مہنگا ہسپتال، کسی مےں بھی تل دھرنے کی جگہ نہےں ملتی۔ مختلف سروے رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی بےماری کا شکار ہےں۔ اگر کچھ نہےں تو شدےد ٹےنشن اور ڈپرےشن کے مرےض ضرور ہےں۔ گوےا جدےد طبی سہولتوں مےں پہلے سے بہت زیادہ اضافہ ہوا لیکن مرےض بھی پہلے سے بہت زےادہ ہو گئے۔ پچھلی دہائےوں مےں اِکا دُکا ٹےلی فون ہوتے تھے۔ پورے کا پورا محلہ ےا قصبہ اےک ہی ٹےلی فون پر گزارہ کرتا تھا مگر سب اےک دوسرے کے بہت قرےب تھے۔ اب ہر فرد کی جےب مےں موبائل فون ہے لیکن ہم اےک دوسرے سے بہت دور ہو گئے ہےں۔ پچھلی دہائےوں مےں صرف دوچار گھنٹوں کے لیے سرکاری ٹےلی وےژن کی نشرےات ہوتی تھےں، تھوڑے سے اخبارات ہوتے تھے اور اےک ہی رےڈےو تھا۔ اب چوبےس گھنٹے درجنوں ٹی وی چینلز اپنا آپ دکھاتے ہےں۔ ایف ایم ریڈیوز کے شور میں کوئی آواز سنائی نہےں دےتی۔ سےکڑوں اخبارات چھاپے خانوں سے نکل کر ہمارے پاس پہنچ رہے ہےں۔ مےڈےا کی کوالٹی، کوانٹٹی اور آزادی پر کسی کو شک نہےں رہا مگر ہم اظہارِ رائے کی آزادی کا اپنا حق منوا لےنے کے باوجود دوسرے کو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق نہےں دےتے۔ کیا میڈیا کی تعداد میں اضافہ ہی اظہارِ رائے کی ترقی ہے؟ پچھلی دہائےوں مےں لوگوں کے پاس اپنی گاڑےاں کم کم ہوتی تھےں۔ اب گھر گھر میں کھڑی گاڑی ہماری ذاتی ترقی کا پتا دےتی ہے۔ اس کے علاوہ آمد و رفت کے سرکاری ذرائع بہت جدےد اور بہتر ہو گئے ہےں مگر بہترےن ذرائع آمد و رفت کے باوجود بھی ہم وقت کی پابندی سے بہت دور ہو گئے ہےں۔ سرکاری دفتروں میں لیٹ آنے والوں کی تعداد پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔ پچھلی دہائےوں مےں شہری سہولتوں کے نام پر گلےوں محلوں کا اےنٹوں سے پکا ہو جانا ےا نالےاں بن جانا ترقی ےافتہ کام محسوس ہوتا تھا۔ اب سےورےج، سڑکوں اور واٹر سپلائی کی بہت ہی اچھی سہولتوں کے باوجود ہمارے گلی محلے اور شہر پہلے سے زےادہ گندے ہوتے جا رہے ہیں۔ پچھلی دہائےوں مےں آمدنی سےکڑوں مےں ہوتی تھی۔ اب آمدنی کئی جگہوں پر ہزاروں کی بجائے لاکھوں مےں جا پہنچی ہے۔ پہلے 
گھر کا اےک فرد کماتا تھا۔ اب اکثر جگہوں پر اےک سے زائد افراد آمدنی کا ذرےعہ ہےں۔ ہماری جےبوں مےں چند روپوں کی جگہ لاکھوں روپے آ گئے مگر ضرورتےں پہلے سے بہت کم پورا ہوتی ہےں۔ پچھلی دہائےوں مےں زےادہ تر سنگل سٹوری گھر، مارکےٹےں ےا سرکاری عمارتیں ہوتی تھیں۔ اب آسمان کو چھونے والی بلڈنگےں موجود ہےں۔ اوپر نےچے کئی کئی منزلہ فلائی اوورز بن گئے ہےں۔ تعمےرات کے اعتبار سے دنےا کے عمدہ نمونے ےہاں بن رہے ہےں لےکن خوبصورت، جدےد اور کثےر تعمےراتی منصوبوں کے باوجود لوگ پہلے سے زےادہ بے گھر ہو گئے ہےں۔ پچھلی دہائےوں مےں پسند کی شادی معاشرے مےں عموماً ناپسند کی جاتی تھی۔ اب گھرگھر مےں پسند کی شادی کو اپنا حق سمجھا جا رہا ہے۔ نہ جانے کےوں جب پسند کی شادی کم تھی تو طلاق بھی کم تھی۔ اب پسند کی شادی عام ہے تو طلاق بھی عام ہے۔ پہلے لڑکیاں اور خواتین اپنا آپ ڈھانپ کررکھتی تھےں۔ اب ترقی ےافتہ دور مےں اپنا آپ ڈھانپنا یا نہ ڈھانپنا اپنی مرضی کہلاتی ہے۔ پہلے لڑکے اور لڑکےوں اور مرد اور خواتین کا باہمی مےل جول کم تھا۔ اب ترقی ےافتہ جدےد سوچ کے مطابق مخلوط تعلیم اور کام کرنے کی مخلوط جگہ کے باعث لڑکے اور لڑکیوں اور مرد اور خواتین میں براہِ راست باہمی میل جول بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ اس میل جول کے نتیجے میں شادی کے بغیر لڑکے اور لڑکیوں اور مرد اور خواتین میں درپردہ رابطے بھی پہلے سے بہت بڑھ گئے ہیں۔ کیا یہی معاشرتی ترقی ہے؟ پہلے صرف سےاست دان سےاسی ہوتے تھے۔ اب ہر فرد سےاسی شعور کا اےفل ٹاور ہے۔ اتنے زےادہ اجتماعی شعور کے باوجود ہماری سےاست پہلے سے زےادہ ڈھےٹ، ضدی اور بدتہذےب ہو گئی ہے۔ کےا یہی سیاسی ترقی ہے؟ پچھلی دہائیوں کی نسبت ہم نے واقعی بہت ترقی کر لی ہے لےکن کےا واقعی ہم ترقی ےافتہ ہو رہے ہےں ےا اپنی معاشرتی اقدار اور ثقافت سے دور ہو رہے ہیں؟ کےا معاشرتی اقدار اور ثقافت سے دور ہونا ہی ترقی ہے؟ کےا سےمنٹ، پتھر، اینٹ اور سریےسے بننے والے بڑے بڑے پراجیکٹس کا نام ہی ترقی ہے؟ ہنس کی چال چلنے کے چکر میں کہیں ہم اپنی چال تو نہیں بھول رہے؟ کیا کل کے پرانے لوگ ترقی یافتہ تھے یا آج کے نئے لوگ ترقی یافتہ ہیں؟ ترقی کسے کہتے ہیں؟ کیا یہی ترقی ہے؟

ٹیگز: