جب دشمن گولیاں برساتا ہے تو جسم زخمی ہوتا ہے تو جسم ٹھیک ہو سکتا ہے اور اگر دشمن پانی روکنے کی دھمکی بار بار دیتاہے تو اپنی طرف سے وہ قوم کاسانس بند کرنے کر نے کی کو شش کر رہا ہے۔بھارت کا آبی رویہ کسی معاہدے کا نہیں بلکہ طاقت کے نشے کا غماز ہے۔سندھ طاس معاہدہ جو کبھی امن کی علامت تھا آج کاغذ کے ایک بوسیدہ ٹکٹرے سے زیادہ بھارت نہیں سمجھ رہا۔اس وقت دریا خشک ہو رہے ہیں۔بھارت نے عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے کے متعلق فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ نئی دہلی نے اس عدالت کی قانونی حیثیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا کیونکہ عدالت کا فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں تھا۔جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت مغربی دریاو¿ںکا پانی بلا روک ٹوک کے پاکستان کے لئے چھوڑنا ہو گا۔اور پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن میں معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی ہو گی بھارت نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا عالمی عدالت کو سندھ طاس معاہدے پہ فیصلہ سنانے کا اختیار نہیں ہے۔
ایک اہم بات جو قانونی حیثیت بھی رکھتی ہے سندھ طاس معاہدہ بھارت یکطرفہ کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کے تین نکات اس معاہدے کو توڑنے سے روکتے ہیں۔ 1۔ ایک فریق دوسرے کی رضا مندی کے بغیر ختم نہیں کر سکتا۔ 2 ۔ورلڈبینک اس کا ضامن ہے ،کسی بھی تنازع کی صورت میں معاملہ نیوٹرل ایکسپرٹ کے پاس جائے گا۔ 3۔معاہدہ ختم کرنے کی شق اس میں موجود نہیں ہے۔ اس معاہدے کے متن میں ایسا کلاز موجود نہیں ہے جو کہ کوئی ایک فریق ختم کر دے۔
قانونی لحاظ سے ان پوائینٹس کے بعد بھی بھارت اپنی ہی من مانیاں کر رہا ہے ۔بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان کو ہی مشورہ دے ڈالا ،اور کہا کہ پاکستان تحمل کا مظاہرہ کرے اور بیان بازی میں نرمی لانے کا کہا کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر وہ یہ مشورہ اپنے ہی وزیر داخلہ امیت شا بھارتی اداکار متھن چکر ورتی جو کہ بی جے پی کے رہنما بھی ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شا نے یہ دعوی کیا کہ ہم پہلے ہی پاکستان کو اُس کے حصے سے زیادہ پانی دے رہے ہیں اب پاکستان کا پانی روک کر وہی راجستھان کو دیں گے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔معاہدے کے مطابق بھارت کو20%پانی ملنا چاہئے اور پاکستان کو 80%، مگربھارت پہلے ہی کشن گنگا ڈیم اور مختلف ڈیم بنا کر پاکستان کو نہ صرف ڈسٹرب کیا بلکہ معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی ہے ،بلکہ شاہپور گاندھی بیراج جو بھارت نے بنایا اس میں 1150 کیوبک میٹرز پانی استعمال کر رہا ہے جس سے دریائے راوی تو سوکھ کر دریا سے ایک نالہ بن چکا ہے جس میں صرف مون سون کی بارشوں میں ہی پانی آتا ہے یا پھر جب بھارت کی جانب پانی کا بہاو زیادہ ہو جائے تو پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے جو دریائے راوی میں آجاتا ہے۔
بھارت کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنا اور سندھ طاس کے معاہدے پہ یو سرد مہری دکھانا اس پانی کے مسئلے کو بڑھانے اور اس معاملے کو پیچیدہ کرنے والا اقدام ہے۔جس کے موجودہ اور مستقبل میں اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کا موازنہ کریں تو اہم فیکٹس کچھ اس طرح سے ہیں۔
1۔بھارت کا یہ اقدام پاک بھارت تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ پانی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ پہلے ہی موجود تھا۔مگر پاکستان کے لیے صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ دریاوں کا معاملہ اُس کی زراعت اور پانی کی فراہمی کے لئے انتہائی اہم ہے ۔ 2۔ عالمی برادری خاص طور پہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھارت کے اس موقف پر تنقید کر سکتے ہیں۔ اگر بھارت مسلسل بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتا ہے تو بین الاقوامی سطح پر وہ خود اپنی ساکھ کو متاثر کرے گا۔ 3۔اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا تو پاکستان اس ایشو کو بین الاقوامی فورمز پر اُٹھا سکتا ہے مثال کے طور پر اقوام متحدہ اور دیگر ثالثی ادارے۔ یہ وہ فیکٹس ہیں جو کہ موجودہ حالات کو ظاہر کرتے ہیں اور اگر یہ سرد مہری یونہی جاری رہی تو مستقبل قریب میں حالات مزید سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے مثال کے طور پہ۔
1۔اگر دونوں ممالک اس معاملے پر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے تو تنازعہ پانی کی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو خطے کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے،پاکستان میں پانی کی قلت اور بھارت کے منصوبوں کے اثرات کے باعث معاشی و سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔2۔مستقبل میں نئے معاہدوں پہ بات چیت مشکل ہو جائے گی۔3۔کشمیر کے بعد پانی کا تنازعہ بھی دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑا محاذ بن سکتا ہے جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے۔ تمام پہلوﺅں کا گہرائی سے اگر موازنہ کیا جائے تو جو اہم بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت کے پاس ایسا انفراسٹرکچر نہیںہے کہ پورے مغربی دریاﺅں کا پانی روک سکے۔ اگر تمام فیکٹس کا گہرائی سے موازنہ کیا جائے تو بھارت پر بھی بہت سی چیزیں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ سفارتی سطح پر مضبوط کوشش جاری رکھے اور ممکنہ طور پہ دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل کرے۔ اگر دونوں ممالک نے مذاکرات کی راہ اختیار نہیں کی تو یہ تنازع طویل مدتی بن سکتا ہے جو خطے کے امن کے لئے خطرہ ثابت ہو گا۔ اہم بات جو تمام سیاسی رہنماﺅں کے لئے زیر غور ہے یہ معاملہ صرف پانی تک محدود نہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے تنازعے کا نقطہ آغاز بن چکا ہے ،اگر اس مسئلے کا حل چاہئے تو دونوں ممالک کو احتیاط اور بردباری سے کام لینا چاہئے ورنہ سنگین نتائج کے لئے دونوں ممالک تیاررہیں۔