Wed, September 16, 2026

خوراک کو متاثر کرتے ہوئے موسم

خوراک کو متاثر کرتے ہوئے موسم


پاکستان جیسے زرعی ملک میں موسم نہ صرف فصلوں کے وقت بلکہ ذائقے، مقدار اور غذائیت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ مگر جب موسم خود بے قابو ہو جائیں، وقت سے پہلے شدید بارشیں ہوں، فصلیں قبل از وقت گلنے لگیں یا کاشت کاری کے پیٹرن بکھر جائیں، تو یہ صرف ایک زرعی چیلنج نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن جاتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں موسمی پیٹرن کی تبدیلی نے خوراک کی کوالٹی پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔ کسان اس وقت شدید دباو¿ میں ہیں کہ وہ یا تو قدرت کے رحم و کرم پر رہیں یا مصنوعی طریقے استعمال کریں تاکہ وہ اپنی کمائی بچا سکیں۔ اس دباو¿ نے وہ خلا پیدا کیا ہے جس میں نہ صرف ذائقہ ختم ہوا ہے بلکہ ہماری صحت بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔موسمی پھل اور سبزیاں اپنی خوشبو، رنگ اور ذائقے کی پہچان ہوتی تھیں۔ ایک دور تھا جب آم جون کے وسط میں آتا، اس کے علاو¿ہ تربوز، خربوزے، آلو بخارے، آڑو، کینو، گاجر، اور دیگر موسمی نعمتیں قدرت کے ترتیب شدہ کیلنڈر پر ہمیں عطا ہوتی تھیں۔ مگر اب یہ کیلنڈر بکھر چکا ہے۔ آم مئی کے آغاز میں ہی بازاروں میں دکھائی دینے لگتا ہے مگر وہ یا تو کچا ہوتا ہے یا کیمیکل سے پکایا گیا۔ تربوز میں پانی زیادہ اور مٹھاس کم، آلو بخارا ذائقے سے خالی ہوتا ہے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بے ترتیب بارشوں نے فصلوں کی نشوونما کو بگاڑ دیا ہے۔
فصلوں کے بگڑتے ہوئے دورانیے اور بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان کسان مجبور ہیں کہ وہ کیمیکل انجیکشنز، اسپرے اور کاربائیڈ جیسے زہریلے مادوں سے پھل اور سبزیاں جلد پکائیں۔ کیمیکل انجیکشن جیسے ایتھریل، جو آم کو زرد رنگ دینے کےلئے استعمال ہوتا ہے، یا کاربائیڈ، جو ٹماٹر، کیلا، آم اور آڑو کو "جلد پکانے" کیلئے استعمال ہوتا ہے، ان کے مستقل استعمال سے نہ صرف ذائقہ ختم ہوتا ہے بلکہ انسانی جسم میں زہریلے مادے جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا اثر فوری طور پر نظر نہیں آتا مگر طویل مدتی بنیادوں پر جگر، گردے، دماغ، آنتوں، جلد اور خون کی خرابیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب موسم معمول سے ہٹ کر چلتا ہے، جیسے وقت سے پہلے بارشیں یا خشک سالی، تو سبزیاں اور پھل یا تو وقت سے پہلے گرنے لگتے ہیں یا مکمل طور پر پکتے ہی نہیں۔ پالک، ساگ، مولی، ٹماٹر، آلو، پیاز، گاجر جیسی سبزیاں اب یا تو چھوٹے سائز کی رہ رہی ہیں یا جلد خراب ہونے لگتی ہیں۔ گرین ہاو¿س ایفیکٹ کی وجہ سے فصلیں کمزور ہو گئی ہیں اور مصنوعی اسپرے کا سہارا لینے سے ان میں غذائیت کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2022 کے بعد پنجاب، سندھ، اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں فصلوں کی غذائیت میں 20 سے 30 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی ادارہ خوراک (FAO) اور ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیقات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے سبب فصلوں میں کاربوہائیڈریٹ تو معمول کے مطابق بنتا ہے، لیکن پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن بی کمپلیکس کی مقدار تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہم بظاہر پیٹ بھر کر کھا رہے ہوتے ہیں، مگر ہمارے جسم کو وہ غذائی اجزاءنہیں مل رہے جو دماغ، خون، ہڈیوں اور عضلات کی نشوونما کےلئے ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خون کی کمی، ذہنی کمزوری، ہڈیوں کی نرمی اور بچوں میں سستی اور غیر متوازن بڑھوتری جیسے مسائل عام ہو گئے ہیں۔پاکستان میں پہلے ہی 40 فیصد سے زائد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس میں اگر خوراک کی کوالٹی بھی بگڑ جائے تو یہ صورتحال صحت عامہ کے بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائیت کی کمی کی شرح 38 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ خاص طور پر اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں بچے پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامنز کی کمی سے نہ صرف کمزور بلکہ دماغی اور جسمانی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف غربت سے جڑا ہوا نہیں۔ شہری علاقوں میں جہاں خوراک دستیاب بھی ہے اور نسبتاً مہنگی بھی، وہاں بھی یہی مصنوعی انداز کی وجہ سے غذائیت میں کمی کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں مارکیٹوں میں موجود پھل و سبزیاں اکثر وقت سے پہلے لائی جاتی ہیں، ذخیرہ کی جاتی ہیں اور بار بار کولڈ اسٹوریج میں رکھی جاتی ہیں۔ ان پر اسپرے، رنگ اور چمک پیدا کرنے والے کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ صارف خریدنے پر مجبور ہو جائے مگر ان ظاہری زیبائش کے نیچے وہ غذا چھپی ہوتی ہے جو ذائقے سے خالی اور مضر صحت ہے۔ماہرینِ غذائیت اس بات پر متفق ہیں کہ خوراک کا اصل فائدہ صرف معدہ بھرنے تک نہیں ہوتا، بلکہ وہ جسم کو توانائی، تحفظ اور قوتِ مدافعت فراہم کرتی ہے۔ جب ہم ایسی خوراک کھاتے ہیں جو ذائقے سے خالی، غذائیت سے محروم اور زہریلے کیمیکلز سے آلودہ ہو، تو نہ صرف بیماریاں بڑھتی ہیں بلکہ صحت کا مجموعی معیار نیچے گرنے لگتا ہے۔ اسی وجہ سے اب جلدی امراض، آنتوں کی سوزش، ذہنی تناو¿، نیند کی کمی، ذیابیطس، بلڈ پریشر اور جگر کی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں اور ان کا بنیادی تعلق خوراک کے بگڑتے ہوئے معیار سے ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا ایک اور خطرناک پہلو فوڈ سکیورٹی ہے۔ جب فصلیں کمزور ہوں، کسان محنت کے باوجود نقصان اٹھائے، منڈیوں میں نرخ غیر یقینی ہوں اور حکومت کی کوئی پالیسی واضح نہ ہو، تو معاشرہ خوراک کی کمی کی طرف بڑھتا ہے۔ بلوچستان میں کئی دیہی علاقوں میں اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں قحط جیسی کیفیت دیکھی گئی، جہاں نہ سبزیاں اگیں، نہ آٹا وافر ملا، اور نہ ہی صاف پانی دستیاب رہا۔ ایسے میں بچے اور بزرگ سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔حکومت اگر واقعی غذائی بحران کو سنجیدہ لینا چاہتی ہے تو اسے صرف سبسڈی دینے یا قیمتوں کو کنٹرول کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اسے موسمیاتی لحاظ سے ہم آہنگ زراعت کو فروغ دینا ہوگا، جیسے پانی کے محفوظ استعمال، مقامی بیجوں کا تحفظ، قدرتی کھاد کا فروغ، اور فصلوں کے بدلتے موسم سے موافقت پیدا کرنا۔ دوسری طرف شہری صارفین کو بھی یہ شعور دیا جانا چاہیے کہ وہ سستے مگر کیمیکل زدہ پھل سبزیاں خریدنے سے گریز کریں تاکہ کسان اور مارکیٹ دونوں بہتر سمت میں قدم اٹھائیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم کب تک یہ بحران برداشت کرینگے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی نسلوں کو ایسی خوراک کے سپرد کرنا چاہتے ہیں جو دیکھنے میں خوبصورت مگر اندر سے بیمار ہو؟ 

ٹیگز: