نیویارک: اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب ریاض منصور غزہ میں معصوم بچوں کی شہادتوں پر بات کرتے ہوئے خود پر قابو نہ رکھ سکے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور پوری دنیا کے سامنے فلسطینیوں کی بے بسی کی تصویر بن گئے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ریاض منصور نے کہا کہ "غزہ میں مائیں اپنے بچوں کی لاشیں گود میں اٹھا کر ان سے بات کرتی ہیں، ان کے بال سہلاتی ہیں، ان سے معذرت کرتی ہیں کہ وہ ان کی بھوک نہ مٹا سکیں، انہیں زندگی نہ دے سکیں۔ یہ منظر کون دیکھ سکتا ہے اور خاموش رہ سکتا ہے؟"
انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ درجنوں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، اسپتالوں میں دوا نہیں، گھروں میں کھانا نہیں، پینے کو پانی نہیں۔
"آگ اور بھوک ہمارے بچوں کو نگل رہی ہے۔ میں بھی ایک دادا ہوں، نانا ہوں، میں جانتا ہوں کہ ایک بچہ خاندان کے لیے کیا ہوتا ہے۔"
ریاض منصور نے دنیا سے سوال کیاکہ "کیا یہ ظلم صرف فلسطینیوں کے لیے ہے؟ کیا دنیا کا ضمیر سو گیا ہے؟ کیا انسانیت ختم ہو چکی ہے؟" ان کی یہ جذباتی تقریر نہ صرف اقوام متحدہ کے اجلاس میں سننے والوں کو خاموش کر گئی، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گئی، جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کے درد کو محسوس کیا اور دنیا کو جگانے کی اپیل کی۔
دوسری طرف، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں روزانہ بمباری جاری ہے، جس میں خواتین، بچے اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے عالمی طاقتیں اب تک اسرائیلی مظالم کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔