Wed, September 16, 2026

معیشت مزید بہتر

معیشت مزید بہتر

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے 3سال بعد پاکستان کا معاشی منظر نامہ منفی سے مثبت کر دیا ہے اور اس کو ٹرپل سی پلس سے مائنس بی کر دیا ہے جبکہ مارچ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ایک ماہ میں ریکارڈ 4ارب ڈالر پاکستان بھجوائے گئے ہیں جو کہ ایک بڑی خوش آئند بات ہے ۔ کچھ دن پہلے ایک ٹاک شو میں ایک شدید قسم کے ہم خیال صحافی نے بڑے طنزیہ لہجے میں کہا کہ اس حکومت کے کیا کہنے کہ اب تو بیرون ملک سے کوئی قرض بھی ملتا ہے تو اسے خوش خبری بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اگر ترسیلات زر بھی بھجتے ہیں تو موجودہ حکومت اس کے بھی بڑے فخریہ انداز میں ڈھول پیٹتی ہے بات درست لیکن کیا کریں کہ موجودہ حکومت کی بھی مجبوری ہے کہ اول تو بیرون ملک سے قرض لے کر قومی الیکٹرانک میڈیا پر باقاعدہ خطاب کر کے قوم کو مبارک باد دینے کی رسم بد شروع کس کے دور میں ہوئی تھی ۔ جی ہاں بانی پی ٹی آئی کہ جنھوں نے حکومت میں آنے سے پہلے جو بلند و بانگ دعوے کئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اگر وہ قرض لیں گے تو خود کشی کر لیں گے لیکن پھر ملکی تاریخ کا ایک مختصر مدت میں سب سے زیادہ قرض بھی لیا اور ہر قرض پر قوم کو کہا کرتے تھے کہ یہ ایک بڑی خوش خبری ہے لیکن حکومت شاید پھر بھی قرض لے کر اسے خوش خبری قرار نہ دیتی لیکن جب فریق مخالف کی جانب سے یہ ماحول بنا دیا جائے کہ جب حکومت کے آئی ایم ایف سے قرض پیکیج کے لئے مذاکرات چل رہے ہوں تو وہ صرف زبانی کلامی بیانات کی حد تک نہیں بلکہ قرض رکوانے کے لئے باقاعدہ آئی ایم ایف کو خط تک لکھ دیں اور پھر صرف خط لکھنے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ہیڈ آفس کے سامنے تحریک انصاف قرض رکوانے کے لئے مزید دبائو ڈالنے کے لئے مظاہرہ بھی کرے اور ساتھ میں بانی پی ٹی آئی اور تحریک انصاف خاکم بدہن ملک کے دیوالیہ ہونے کے اعلانات کریں تو پھر اس مشکل صورت حال میں اگر حکومت کو قرض مل جائے تو وہ اگر اسے خوش خبری کہے تو کیا وہ اس میں حق بجانب نہیں ؟ ۔
دوسرا بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر بھیجنے پر جہاں تک ڈھول پیٹنے کی بات ہے تو حکومت کو دوش دینے سے پہلے اس میں بھی بنیادی کردار بانی پی ٹی آئی کا ہے اس لئے کہ جب ہر احتجاجی تحریک بری طرح ناکام ہو گئی تو پھر بانی پی ٹی آئی کو یقینا کسی سیانے نے مشورہ دیا ہو گا کہ جناب احتجاج تو دو وجہ سے ناکام ہو رہا ہے ۔ ایک تو حکومت کی جانب سے بہت زیادہ سختی ہے اور دوسرا تحریک انصاف کا ورکر آپ کو ووٹ تو دے دیتا ہے لیکن لاٹھی گولی آنسو گیس میں نکلنا اس کی فطرت میں نہیں تو جناب بیرون ملک پاکستانیوں میں تو آپ بے پناہ مقبول ہیں اور اس کا اعتراف تو آپ کے بد ترین مخالف بھی کرتے ہیں تو آپ ایسا کریں کہ بیرون ملک پاکستانیوں سے کہیں کہ وہ ترسیلات زر بنکوں کے ذریعے نہ بھیجیں تو جناب ملک تو ویسے ہی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے تو اس صورت حال میں اگر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے آپ کی اپیل پر ترسیلات زر بھیجنا بند کر دیں تو پھر دیکھیں کہ حکومت کس طرح آپ کے پائوں پکڑ کر آپ کو صرف رہا ہی نہیں کرے گی بلکہ جیل سے رہائی کے بعد آپ کو سیدھا ایوان اقتدار میں لے جا کر وزارت عظمیٰ کا حلف بھی ہو جائے گا ۔ بات دل کو لگتی تھی کہ اندرون ملک ہر احتجاجی تحریک کی بری طرح ناکامی کے بعد اندرون ملک مقبولیت کا بھانڈا تو پھوٹ چکا تھا لیکن بیرون ملک مقبولیت تو پتھر پر لکیر تھی کہ جس کا ہر کوئی معترف تھا لہٰذا بانی پی ٹی آئی نے آئو دیکھا نہ تائو اور وہ دیکھتے بھی کیسے کہ انھیں تو احتجاجی کالز دینے کا ویسے بھی بڑا شوق ہے لہٰذا سول نافرمانی کی کال کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال دے دی گئی ۔ ہم کوئی بانی پی ٹی آئی کے پاس تو نہیں تھے لیکن یہ ایک تصوراتی منظر کشی تھی جو ہم نے قارئین کے سامنے رکھ دی لیکن کاش بانی پی ٹی آئی یہ کال کچھ عرصہ پہلے کر دیتے کیونکہ جس دن سے بانی پی ٹی آئی نے یہ کال دی ہے تو لگتا ایسے ہے کہ جیسے بیرون ملک پاکستانیوں نے اسی دن سے ضد میں آ کر اپنے پیسے زیادہ بھیجنے شروع کر دیئے بلکہ لگتا ایسے ہے کہ جیسے وہ لوگ کہ جو پہلے ہنڈی سے پیسے بھیجتے تھے انھوں نے بھی بانی صاحب کی کال کے بر خلاف بنکوں کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے شروع کر دیئے اور اس کے بعد ہر ماہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 30% سے 32% تک زیادہ ترسیلات زر ملکی خزانے میں آ رہی ہیں لیکن مارچ میں تو کمال ہی ہو گیا کہ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے مارچ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ایک ماہ میں 4ارب ڈالر پاکستان بھجوائے گئے ہیں جو کہ ایک بڑی خوش آئند بات ہے ۔
 ترسیلات زر میں 4ارب10کروڑ روپے پاکستان کے خزانے میں آئے ۔فی ما ہ بہ ماہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 29.8%سے لے کر37.3%اضافہ ہوا ۔اب اس سارے منظر نامہ کو ذہن میں رکھیں اور کال کے بعد ریکار ترسیلات زر کے آنے کے انتہائی خوش آئند منظر کو بھی دیکھیں تو معیشت میں بہتری کے اشاروں پر اگر حکومت خوشی کے شادیانے بجاتی ہے تو اس میں کون سی بات غلط ہے ۔ 

ٹیگز: