بنوں صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک اہم ترین خوبصورت شہر اور ڈویژن ہے، یہ وزیر ستان کے بالکل ساتھ واقع ضلع ہے، یہ جغرافیائی و تاریخی اور سیاسی لحاظ سے اہم مقام پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں براہ راست افغانستان کے ساتھ تو نہیں لگتیں مگر شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، کرم، مہمند، باجوڑ وغیرہ سے ملتی ہیں۔ یہ شہر قدرے میدانی علاقہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاری کے لحاظ سے خود کفیل ہے اور وزیرستان وغیرہ جیسے علاقے کے لوگ بھی یہیں سے کھانے پینے کی اشیا خریدتے ہیں بلکہ ان علاقوں کے لیے بنوں شہر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس شہر کی تاریخی اہمیت کے بارے میں بھی بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ماضی میں بیرونی فاتحین کی گزرگاہ رہا۔ یہ انڈیا تک رسائی کا مختصر مگر مشکل ترین راستہ تھا۔ بیرونی فاتحین مغربی دروں سے نیچے اتر کر بنوں سے ہوتے ہوئے آگے پنجاب پھر ہندوستان کا رخ کرتے۔ ان فاتحین کے لیے بنوں معمول کا راستہ ہوتا تھا اور اکثر بیشتر بنوں فاتحین کا نشانہ بنتا ہر فاتح اسے زیر و زبر کرتا اور کافی نقصان پہنچاتا۔ ماضی میں بنوں افغانستان کا ایک صوبہ ہوا کرتا تھا مگر مرکز سے کٹا ہوا بہت دور واقع تھا۔ بنوں افغانستان اور مشترکہ ہندوستان کے سنگم پر واقع تھا یہ افغانستان کے انتہائی مشرقی کونے پر اور ہندوستان کے انتہائی مغربی کونے پر تھا گویا ہر دور میں بنوں مرکز سے کافی دور رہا۔ اس کا رقبہ 1300 مربع کلومیٹر اور آبادی کم و بیش 15 لاکھ ہے۔ یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہاں آئے روز سکیورٹی فورسز اور عام عوام پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے جوان، بچے، بوڑھے شہید ہو رہے ہیں۔ یہ علاقہ کبھی پُرامن ہوا کرتا تھا لیکن ایک عرصے سے افغانستان سے متصل علاقوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے یہاں امن و امان قائم رکھنا ہمارے سکیورٹی اداروں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے۔ چیلنج بھی کیوں نہ ہو، جب یہاں پر تعینات سکیورٹی ادارے خارجیوں کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو یہ لوگ انہی راستوں سے ہوتے ہوئے افغانستان بھاگ جاتے ہیں، جبکہ بعض مقامی افراد جو ان خارجیوں سے ڈالر کے بدلے رہائش بھی دیتے ہیں اور مکمل سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔ آپریشن سے پہلے یہ لوگ مبینہ طور پر ان کو بھگا دیتے ہیں بلکہ افغانستان میں جب امریکی فوجیں تھی تو یہ لوگ وہاں سے بھاگ کر پاکستان آ جایا کرتے تھے اور چونکہ افغانستان میں ڈالر کی ریل پیل تھی تو ان لوگوں کے پاس بھی ڈالر وافر ہوا کرتے تھے لیکن جب آپریشن کیے گئے تو یہاں کے بعض مقامی افراد نے بھی مزاحمت کی کہ ان کے روزگار کا نقصان ہو گا مگر شاید ان کے ملک کی سلامتی کے نزدیک ان کو ذاتی کاروبار زیادہ عزیز تھا۔۔۔ خیر بات ہو رہی تھی، یہاں پر امن و امان کی، تو دکھ اس بات پر ہوتا ہے کہ یہاں پر موجود دہشت گرد عناصر جو بھارت سے فنڈز لیتے ہیں اور اسی کی ایما پر یہاں دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔ ہر چند دن بعد یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ فلاں علاقے میں اتنے جوان شہید ہو گئے اور فلاں میں اتنے جبکہ آپریشن میں اتنے دہشت گرد مارے گئے اور دفاع میں اتنے مارے گئے، جیسے ابھی گزشتہ دنوں بنوں میں 12 جوانوں کی شہادت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ یقین مانیں یہ ہی ہمارے سپوت ہیں جن کی قربانیوں سے آج ہمارا پاکستان بچا ہوا ہے، ان جوانوں کی نماز جنازہ پر وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی پہنچے۔ اس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کا بھرپور اور دوٹوک جواب دیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے سرغنے اور ان کے سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں اور انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ افغانستان کو یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ بیرونی عناصر کو پناہ دے گا یا پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا، یہ ایک واضح انتخاب ہونا چاہیے، خیر وزیر اعظم کی جانب سے سخت پیغام تو دے دیا گیا، مگر حیرت اس بات پر ہے کہ اس سارے معاملے میں تحریک انصاف کی کے پی کے میں حکومت خاموش ہے۔ مذکورہ جنازوں میں بھی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور یا تحریک انصاف کے کسی رہنمانے شرکت نہیں کی، عوامی و سماجی حلقوں نے اس معاملے پر کہا ہے کہ افسوس صد افسوس اس موقع پر بھی جب دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے سپوت روزانہ کی بنیادوں پر قربانیاں دے رہے ہیں۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ ان شہیدوں کا جنازہ تک پڑھنے تک نہیں آیا نا ہی تحریک انصاف کا کوئی رہنما شہیدوں کی نماز جنازہ اور زخمیوں کی عیادت کرنے آیا۔ اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ بے حسی اور ہٹ دھرمی ہے۔ تحریک انصاف افغانیوں اور طالبان کی سب سے بڑی ہمدرد ہے، یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، کوئی بھی شخص یا اس طرح کی سوچ کو ملک کی سکیورٹی سے برتر ہرگز نہیں رکھا جا سکتا۔ بہرکیف بقول وزیر دفاع خواجہ آصف دہشت گردی کا سلسلہ کسی سٹیج پر تھما نہیں تھا کم ہو جاتا تھا، بنوں کا علاقہ اس وقت دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپس ہیں، اگر افغانستان کہتا ہے کہ دہشت گرد ان کی پناہ میں نہیں تو اپنی پوزیشن واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت اور افغانستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، اللہ کے فضل سے کوئی بھی
پاکستان کو غیر مستحکم نہیں کر سکتا۔ بانی پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اکاو¿نٹ کون چلا رہا ہے؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ پر مواد پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت سے کوئی شخص اکاو¿نٹ چلا رہا ہے، ایک ٹرائی اینگل بن گیا ہے جس میں پی ٹی آئی، بھارت اور افغانستان ہے۔ میں اکثر ان سیاستدانوں کی باتوں پر یقین نہیں کرتی لیکن ملکی سلامتی سب سے مقدم رکھنی چاہیے، ملکی سلامتی پر اگر کوئی بھی شخص سمجھوتا کرتا ہے تو اسے اس ملک کا غدار قرار دیا جانا چاہیے۔ رہی بات علی امین گنڈا پور یا تحریک انصاف کی سیاسی قیادت کی کہ انہوں نے نہ تو نماز جنازہ میں شرکت کی اور نہ ہی زخمیوں کی عیادت، تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان کا جھکاو¿ شاید پاکستان کی طرف نہیں بلکہ پاکستان مخالف عناصر کے ساتھ ہے۔ ایسے میں یہ لوگ کس چیز کی Relaxation مانگ رہے ہیں لہٰذا عوام کو چاہیے کہ ان لوگوں کو پہچانیں جنہیں ہمارے جوانوں کے شہید ہونے کا احساس نہیں۔ وہ دہشت گردوں کے مرنے پر افسردہ ضرور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے شاعر کہتا ہے کہ
کرسی ہے، تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے