Wed, September 16, 2026

روس کی پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش

روس کی پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش

ماسکو: روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان، ماریہ زخارووا نے کہا کہ خطے میں امن قائم رکھنا روس کے لیے اہم ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی نہ صرف روس بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

زخارووا نے دونوں ملکوں سے کہا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، کیونکہ سرحدی کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا پائیدار حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔روس نے پاکستان اور افغانستان دونوں کو اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر اور ترکیہ کی طرف سے ثالثی کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، لیکن استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

ترک صدر نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان بھیجیں گے۔ اسی طرح، ایران کے وزیر خارجہ نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

ٹیگز: