Wed, September 16, 2026

اولڈ راوینز ایسوسی ایشن اور شہباز احمد شیخ

اولڈ راوینز ایسوسی ایشن اور شہباز احمد شیخ

گورنمنٹ کالج کی الومینائی، اولڈ راوین ایسوسی ایشن ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو ادارے کی عظمت رفتہ اور روایات کا امین ہے۔ ایسوسی ایشن کا ممبر ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جو کسی بھی سرکاری یا درباری اعزاز سے بڑھ کر قابل فخر جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پاکستان کی کئی بڑی و نامور شخصیات ایسوسی ایشن کی ممبر ہیں، صرف ممبر ہی نہیں ہیں بلکہ ایسوسی ایشن کو فعال رکھنے میں اپنا کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ ہمارے کئی قومی صدور، وزراءاعظم، وزراءاعلیٰ، جدید سیاستدان، امرائ، سرمایہ کار اور سرمایہ دار، کاروباری حضرات، پیشہ ور ماہرین فنون لطیفہ کی نامور قومی و عالمی شہرت یافتہ شخصیات اولڈ راوین ایسوسی ایشن کی ممبر ہیں اور انہیں اس وابستگی پر فخر بھی ہے۔ بدقسمتی سے میں ایسوسی ایشن کا ممبر بننے کی شدید خواہش رکھنے کے باوجود ممبر نہیں بن سکا ہوں کیونکہ میں نے گریجوایشن گورنمنٹ کالج سے نہیں بلکہ ایف سی کالج سے کی ہے۔ مجھے فارمانائٹ ہونے پر فخر ہے۔ ایف سی کالج پاکستان کا قدیم ادارہ ہے۔ اپنی حیثیت اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اس ادارے کے گریجوایٹس نے فقید المثال کردار ادا کیا ہے لیکن بدقسمتی سے اولڈ راوینز کی طرح فارمانائٹس منظم نہیں ہیں، اس لئے فارمانائٹس کے قومی منظر کی تشکیل و ترویج میں اثرات نئی نسل تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ایف سی کالج کی انتظامیہ کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔ ہمارے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر حامد سعید صاحب اس حوالے سے کچھ نہ کچھ کرتے رہے ہیں، بطور رجسٹرار ایف سی سی یونیورسٹی ان کا کردار قابل ستائش رہا ہے۔ اب وہ پروفیسر امریطاس ہو کر ریٹائرڈ لائف گزار رہے ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کی، گورنمنٹ کالج نے جو عظیم قومی شخصیات پیدا کیں، ان میں ایک بڑا بلکہ بہت بڑا نام خالد عباس ڈار صاحب کا ہے جو فنون لطیفہ کے قومی منظر پر چار نسلوں سے بڑی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے۔ڈار صاحب کے لاکھوں نہیں کروڑوں چاہنے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ ڈار صاحب قومی تاریخ کا ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ ایوب خان، نواب آف کالاباغ سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری و غیرھم کے ساتھ ان کی ذاتی یادوں کا سن کر ایسے لگتا 
ہے کہ ہم کسی طلسماتی دنیا میں چلے گئے ہیں۔ ڈار صاحب ہم پر شفقت فرماتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ ہمیں اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے 41ویں ڈنر میں مہمان خاص کے طور پر لے گئے۔ لاہور کے ایک پنج تارہ ہوٹل کے وسیع و عریض ہال میں ایک عظیم الشان تقریب کے لئے پنڈال سجایا گیا تھا۔ آٹھ سو سے زائد چنیدہ مہمانوں کے استقبال اور نشست و برخاست اور طعام کے ساتھ ساتھ منو رنجن کا بندوبست کچھ اس طرح احسن طریقے سے کیا گیا تھا کہ دل و دماغ عش عش کر اٹھے پھر خیال آیا یہ اس حسین و جمیل اور منظم بندوست کے پیچھے کوئی توشہ دماغ ہو گا۔ ہمارے پیارے ڈار صاحب نے بتایا اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کی تنظیم کو اس خوبصورتی سے چلانے، چلاتے رہنے اور آگے بڑھاتے چلے جانے کا سہرا ایک ہی شہ دماغ کے سر جاتا ہے اور وہ ہیں ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جناب شہباز احمد شیخ جو اسم بامسمی ہیں ہیں وہ نام کے ہی نہیں بلکہ فکر و عمل کے بھی ”شاہ باز“ ہیں پھر ڈار صاحب ہمیں شیخ صاحب کے پاس تعارف کرانے کے لئے لے گئے۔ شیخ صاحب منسکر مزاج سیدھے سادھے سے آدمی لگے لیکن جب انہوں نے ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خطاب فرمایا تو ہمیں ”شاہ باز“ کرے پرواز تے جانے راز دلاں دے“ کا مفہوم سمجھ میں آنے لگا۔ اولڈ راوینز آج بڑے بڑے مہان عہدوں پر فائز بھی ہیں اور کئی ایک اپنی اپنی اننگز کھیل کر ریٹائرڈ زندگیاں گزار رہے ہیں، ایسے نایاب اور منفرد نگینوں و موتیوں کو جوڑنا اور جوڑ کر انہیں اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کی مالا میں پرونا کوئی آسان کام نہیں لیکن شیخ صاحب نے یہ کام کر دکھایا ہے اور وہ ایسا کرنے میں ایک عرصے سے لگے ہوئے ہیں، تھکے نہیں، اضحلال نہیں آیا۔طبیعت میں اکتاہٹ پیدا نہیں ہوئی ہے اور اپنی ہی دھن میں ایسوسی ایشن کی شایان شان بڑھوتی اور نیت کاری میں لگے ہوئے ہیں اور کامیابی سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا 41واں سالانہ ڈنر ان کی انتھک کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر/وزیر خارجہ اسحاق ڈار صاحب ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ ایران، امریکہ جنگی صورتحال میں پاکستانی ثالثی کے باعث ڈار صاحب اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکے لیکن انہوں نے دو کام کئے ایک تو انہوں نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو اپنی نمائندگی کے لئے بھجوایا۔ انہوں نے تقریب میں ڈار صاحب کا تحریری پیغام پڑھ کر ان کی نمائندگی کا حق ادا کیا۔ دوسرا کام یہ کیا کہ خود جا کر سینٹ کے چیئرمین جناب یوسف رضا گیلانی کو تقریب کی صدارت کرنے کی درخواست کی، جسے گیلانی صاحب نے خوش دلی سے قبول کیا۔ اسے قدرت کی عطا کہہ لیں کہ جس دن گیلانی صاحب نے ایسوسی ایشن کی تقریب کی صدارت کرنا تھی اس دن انہوں نے قائم مقام صدر پاکستان کا حلف بھی اٹھا لیا۔ آصف علی زرداری صاحب کے بیرون ملک دورے کی صورت میں چیئرمین سینٹ قائم مقام صدارت کا عہدہ سنبھالتا ہے۔ اس طرح ڈنر کی تقریب میں صدر مملکت یوسف رضا گیلانی مہمان خاص کے طور پر شریک ہوئے اور انہوں نے تقریب کی صدارت کی۔
تقریب میں تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا۔ اعظم نذیر تارڑ صاحب نے اسحاق ڈار صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا اور اپنی بات بھی کی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے بڑی مدلل و خوبصورت تقریر کی۔ ذوالفقار چیمہ صاحب نے دھواں دھار سیاسی تقریر کی۔ مہمانان خواص کو شیلڈیں پیش کی گئیں۔ اس کے بعد کھانے کے ہال کی طرف رہنمائی کی گئی۔ کھانا بھرپور اور اعلیٰ تھا، کھانے کے بعد موسیقی کا دور چلا، شازیہ منظور نے اپنی دلکش آواز کے ساتھ حاضرین کو محسور کیا۔ خالد عباس ڈار صاحب اور شازیہ منظور کے مختصر سے ڈانس نے حاضرین میں جوش ابھارا۔ ڈار صاحب اور محمد اشرف کامیڈین کی مختصر سی گفتگو نے بھی حاضرین میں جوش و خروش ابھارا، اس طرح نصف شب یہ عظیم الشان تقریب انجام پذیر ہوئی۔ تقریب کے دوران شیخ صاحب (شہباز احمد شیخ) مصروف عمل رہے۔ تقریب کو چلانے اور آگے بڑھانے کے لئے ہمہ وقت مصروف رہے۔ تقریب کے بعد، اختتام کے بعد معاملات کو سمیٹتے ہوئے شیخ صاحب سے گفتگو کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے ایسے ہی پہلے فنکشن پر کل پانچ ہزار روپے خرچ اٹھا تھا جبکہ ہمارے پاس 35سو روپے تھے۔ آج کی تقریب پر 35/36 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں اور ہمیں کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔ اگر نیک نیتی اور تنظیم کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھایا جائے تو اللہ مدد کرتا ہے۔ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن اس کی زندہ مثال ہے اور شیخ صاحب اس کی عملی تفسیر ہیں۔

ٹیگز: