یار یہ امریکہ جیسے ملک ہر دور کے ایلون مسک ٹائپ لوگوں کے سر پر ناچتے ہیں۔ اب ہمارے پاس دو ہی طریقے بچے ہیں، پہلا یہ کہ خود ترقی کرتے ہوئے ہر میدان میں آگے نکل جائیں یا پھر دوسروں کی ٹانگ کھینچ کر پیچھے کر دیں۔ سیٹھ رضوان نے فیصلہ کن انداز میں کہا پھر گہری سوچ میں پڑ گئے۔ زور دار قسم کے سوچ بچار کے بعد انھوں نے پھر کہا کہ دوسرا طریقہ زیادہ مناسب ہے۔ ہماری ٹریننگ بھی کچھ ایسی ہے من حیث القوم ہمیں دوسروں کی ٹانگ کھینچنے میں جو مہارت حاصل ہے وہ کسی اور کام میں ممکن ہی نہیں۔ سنا ہے گورا کہتا تھا کہ ہمارے لوگوں کی دماغی صلاحیت گوروں سے بہت کم ہے اسی لیے ہمیں تیس فیصد نمبروں سے پاس کر دیا جاتا تھا۔ میں نے کہا کہ حضور ہمارے پاس بھی بڑے بڑے ذہین لوگ پیدا ہوتے ہیں بس کہیں پہنچ نہیں پاتے۔ ان میں اکثر ساس بہو کی لڑائیوں، بھابی نند کے جھگڑوں اور سسرالیوں کی شکایتوں سے بچ جانے والا دماغ کام کاج میں لگا لیتے ہیں۔ یہ خطہ ہی ایسا ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی گوشے سے کوئی جدید ترین دانشور یا محقق پکڑ کر ہمارے محلوں میں ٹھہرائیے کچھ عرصے بعد وہ خود آثار قدیمہ میں شمار نہ ہونے لگے تو جو چاہے سزا دیجیے گا۔ بلکہ آپ ایسا کیجئے یہ ایلون مسک صاحب کی شادی اندرون لاہور کے کسی گھر میں یا فرید گیٹ بہاول پور کے پرانے گھرانے یا پھر ملتان کے گلگشت کی کسی بھاری بھرکم برادری میں کرا دیجیے۔ بس پھر مریخ تو چھوڑیے وہ انسان کوکراچی کے لالو کھیت سے آگے لے جانے کا بھی سوچ لیں تو آپ کا ہاتھ اور ہمارا گریبان ہو گا۔ چلیے یوں کیجئے ایلون مسک صاحب کا رشتہ ایسے سفید پوش خاندان میں کرا دیجیے جہاں ساس سسر سمیت تمام رشتے زندہ سلامت ہوں۔ بیوی کی پانچ چھ بہنوں اور دو چار چھوٹے بڑے بھائیوں کے علاوہ چچا سسر، تایا سسر، ماموں سسر اور خالہ ساس جیسی کئی اہم اور ذمہ شخصیات ایسی ضرور ہوں جنھوں نے آپ کی پسند نہ پسند اور مستقبل کی ہر سوچ کی ذمہ داری خود اٹھا رکھی ہو۔ خوش قسمتی سے اگر عمر کے آخری حصے میں توبہ کرنے والے چند بزرگ افراد بھی خاندان میں موجود ہوئے تو ایلون مسک صاحب کی اگلی آٹھ نسلوں میں بھی کوئی سائنسدان یا فلسفی پیدا ہو کر دکھائے۔
یہ بھی شرط ہے کہ گھر میں کچن سانجھا ہونا چاہیے، سالن کم ہونے یا کسی فرد کے حصے میں بوٹیاں کم آنے کی صورت میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو۔ گھر کی سبزی گوشت، دوائیوں سے لے کر لیٹرین کی صفائی تک کا تمام سامان لانے کی ذمہ داری مسک صاحب کے نازک کندھوں پر ہو۔
گھر میں "ساس بھی کبھی بہو تھی" اور "ناگن" جیسے ڈرامہ سیریل باقاعدگی سے دیکھے جاتے ہوں۔ ننھیال ددھیال کی خواتین تعویذ کے حصول کے لیے مختلف سلسلوں کے بزرگوں سے رابطے میں ہوں۔ ذہنی صحت کے لیے لازم ہو گا کہ ماموں خالہ یا تایا چچا کے بچوں میں رشتے کے بعد طلاق ہو چکی ہو اور پورا خاندان ہر موقع پر کسی ایک گھر کی حمایت کا محاذ قبول کرے۔ اتفاق سے اگر ننھیال میں سنی، بریلوی اور وہابی رشتہ دار اور ددھیال میں دیو بندی اور شیعہ پائے جاتے ہوں تو انھیں زندگی کی بے ثباتی اور موت کی کامیابی کا حقیقی احساس پیدا ہونا عین فطری عمل ہو گا۔
یہ رشتہ بھی مرحوم پردادا کی خواہش کے مطابق کیا جائے یا پھر جائیداد کی تقسیم کے ڈر سے برادری میں پابند کی گئی مستور کے ساتھ، اس کی خاموشی کو ہاں تصور کرکے کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد مسک صاحب اگر کسی خاتون سے خوش گپیاں کرتے پکڑے گئے تو جہیز میں آئے برتن ان کی کھوپڑی پر ڈھولکی ضرور بجائیں گے۔ ہمیشہ خوشحال رہنے کے لیے لازم ہے کہ شادی وٹے سٹے کے اصول پر کی گئی ہو۔
اس سب کے بعد صاحب خانہ کا کثیر العیال ہونا بھی لازم ہے۔ پانچ چھے بچے پہلے پانچ چھ برس میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کے بعد خاندان کی رشتہ تڑانے والی سینئر خواتین بچوں کے بارے میں پوچھنا چھوڑ دیتی ہیں اور بیگم صاحبہ بھی مظلومیت کے حصار سے باہر آ چکی ہوتی ہیں۔ اب بچوں کی کفالت کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ گھر میں مزید نئے مہمانوں کی متوقع آمد سے پہلے ان پانچ چھ بچوں کا کچھ بڑا ہو جانا بھی اصولی بات ہے۔ یوں ان کے پیمپر، دودھ کے ڈبے، کھلونے اور ناز نخرے پیدا کرنے والے سبھی لوازمات کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اب تصور کیجیے کہ آپ کا کبھی مسک صاحب کے گھر جانا ہو۔ انھوں نے چھوٹے منے کو گود میں اٹھا رکھا ہو( جس کی ناک مسلسل بہہ رہی ہو) ، دو بچے شلوار کے پائنچے پکڑ کر جھول رہے ہوں ایک ان کے پیچھے زمین پر لوٹ کر دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہو اور پانچویں چھٹے کی کشتی بلکہ دھینگا مشتی جاری ہو۔ ایلون مسک صاحب نیم جان آپ کا استقبال کریں اور بیگم اندر سر پر کس کر کپڑا باندھے ساتویں مہمان کی متوقع آمد سے ہلکان ہوئی جا رہی ہوں۔ پھر مصنوعی ذہانت تو دور کی بات ہے آپ ان سے قدرتی ذہانت والی کوئی حرکت بھی برآمد کر لیں تو کرشمہ ہی ہو گا۔
سیٹھ صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرا اور احوال پر غور کرتے ہوئے ایک لمبی سی "ہوں" کی۔ میں نے گزارش کی کہ حضور آپ اگر لوگوں سے تخلیقی کام لینا چاہتے ہیں تو ان کے لائف سٹائل اور خاندانی سسٹم کے کچھ اصول وضع کیجئے۔ بھلے یہ سب آپ کو پسند نہ ہو لیکن جدید دور کی ترقی کا ساتھ دینے کے لیے آپ کا موجودہ ماڈل اور اس کے طور طریقے مناسب نہیں ہیں۔ اگر آپ عورت کی زندگی کے خدو خال کا جائزہ لیں گے تو گنجائش مذکورہ مثال سے بھی کم نکلتی ہے۔ہمیں اپنے معاشرتی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی تب ہمارے لوگ اپنی صلاحیتوں کو آزما سکیں گے اور عمر کے ہر حصے میں ان کے لیے فعال رہنا ممکن ہو گا۔ سیٹھ صاحب کچھ تو سوچیے۔