چھبیسویں پارے کا خلاصہ ’’ احقاف‘‘ ریت کے ٹیلے کو کہتے ہیں۔ چونکہ اس سورۃ میں قوم عاد کا ذکر ہے جو ریت کے ٹیلوں کے پاس آباد تھی، اسی وجہ سے اس سورۃ کا نام'' احقاف'' رکھ دیا ہے۔اسلام کے بنیادی عقائد میں سے یہاں عقیدہ تو حید کودلائل کی تین قسموں کے ساتھ اس طرح ثابت کیا جارہا ہے کہ مشرکین کے پاس اپنے عقیدہ شرک کو ثابت کرنے کے لیے نہ تو دلیل عقلی ہے اور نہ ہی دلائل نقلیہ میں سے کوئی دلیل ہے تو عقیدہ توحید خود بخود ثابت ہوجائے گا۔ عقیدہ توحید تو دلائلِ عقلیہ و نقلیہ سے ثابت ہے۔ دلیل عقلی: آپ ان سے فرمائیں کہ یہ جو تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اوروں کی عبادت کرتے ہو تو یہ بتاؤ کہ جن کو تم خدا بناتے ہو کیا انہوں نے زمین کی کوئی چیز پیدا کی ہے؟ یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے؟ دلیل نقلی آسمانی کتاب سے: تمہارے اس دعوے پر اگر اس سے پہلے کسی آسمانی کتاب میں کوئی بات درج ہے تو میرے پاس لاؤ! دلیل نقلی پیغمبر کی زبان سے: یا کسی پیغمبر کی زبان سے کوئی بات نکلی ہو، کوئی علمی بات ہو تو بتاؤ اگر تم سچے ہو!اس کے بعد قرآن کی حقانیت کا بیان ہے کفار ومشرکین کا الزام یہ تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ انہیں جواب دیا جارہا ہے کہ '' اگر میں نے اسے اپنی طرف سے گھڑ لیاہے تو تم مجھے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بالکل بھی نہیں بچا سکو گے'' یعنی اللہ تعالیٰ کا طریقہ اور دستور یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو دنیا میں ہی ذلیل ورسوا فرمادیتے ہیں۔ بالفرض میں نے یہ اپنی طرف سے گھڑاہے تو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے مجھے کوئی بھی نہیں بچا سکے گا۔ معلوم ہوا کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے۔ اس کے بعد ایک تو یہ پیشین گوئی کی جارہی ہے کہ اہل کتاب میں سے کچھ حضرات (عبد اللہ بن سلام، عدی بن حاتم رضی اللہ عنہماوغیرہما) قرآن کریم پر ایمان لائیں گے اور گواہی دیں گے کہ اسی جیسی کتاب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی نازل ہوئی تھی۔ مشرکین کو تنبیہ بھی کی جارہی ہے کہ اہل کتاب میں سے اہل ایمان قرآن کریم پر بھی ایمان لاکر تم پر سبقت لیے جارہے ہیں اور تم غروروتکبر میں پڑے ہو۔ پھر اولاد کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ والدین اسلام لے آتے اور اولاد کفر پرہوتی۔ بعض دفعہ اولاد اسلام قبول کرلیتی مگر والدین کفر پر برقرار رہتے اور بعض مرتبہ اپنی مسلمان اولاد پر تشدد بھی کرتے۔ تویہاں اولاد کو سمجھایا جارہا ہے کہ والدین جیسے بھی ہوں، ان کے حقوق کا خیال رکھو۔ البتہ کفر، غلط عقائد اور گناہ کے کام میں ان کی اطاعت نہ کرنا۔ پھر ایک دعا کا ذکر ہے اور اس کی تفسیر درج ذیل ہے ایک تفسیر کے مطابق یہ دعا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مانگی تھی۔ اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ وہ نعمتیں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی ہیں؛ میں ان پر آپ کا شکر ادا کروں۔ میں ایسے نیک اعمال کروں جن سے آپ راضی ہو جائیں اور آپ میری اولاد کو بھی نیک بنا دیں۔ اے اللہ! میں آپ کی طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ پھر توحید کی طرف دعوت کا ذکر ہے توحید اسلام کے بنیادی عقائد میں سے پہلا عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان متفق علیہ رہا ہے۔ قوم عادجو یمن کے علاقے میں آباد تھی، حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے بھی دیگر انبیاء کی طرح اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی۔ لیکن انہوں دعوت قبول کرنے سے انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرکے انہیں ہلاک کردیا۔ پھر جنات کے قبولِ اسلام کا ذکر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل طائف کو تبلیغ کرکے واپس مکہ تشریف لاتے ہوئے مقام نخلہ پر فجر کی نماز کی ادائیگی میں تلاوت فرمارہے تھے۔ جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزررہی تھی وہ ایک دوسرے کوخاموش کرواکر قرآن کریم سننے کے لیے رک گئے۔ اسلام بھی قبول کرلیا اور اپنی قوم کے لیے داعی بنے۔ پھر وقتاًفوقتاً کئی وفود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے رہے۔ گزشتہ آیت میں تھا کہ آپ طائف سے واپس آرہے تھے جب جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کریم سنا۔ اہل طائف نے آپ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ اب آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے کہ آپ ان کی تکلیفوں پر صبر کریں جس طرح اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا۔
سورۃ محمد
اس سورۃ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی لیاگیا ہے۔اس لیے اس سورۃ کانام ''محمد'' رکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے کفار اور مومنین کے نتائج کا ذکر ہے کافروں نے دوکام کیے ہیں: پہلا: انہوں نے خود بھی کفر اختیار کیا۔ دوسرا: دیگرلوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ نتیجۃً اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال ضائع فرمادیے۔ جبکہ ان کے مقابلہ میں اہل ایمان؛ ایمان لائے، نیک اعمال کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل ہوا اس کو دل وجان سے مانا۔ نتیجۃً اللہ تعالیٰ نے ا ن کے گناہوں کو معاف فرما دیااور ان کے احوال اور دلوں کی بھی اصلاح فرمادی۔ پھر جنگی قیدیوں کے متعلق احکام ہیں کہ قیدیوں کے بارے دو اختیار ہیں؛ فدیہ لے کر آزاد کر دیں یا بغیر فدیہ لیے آزاد کر دیں۔ جب بدر کے موقع پر کفار کے ستر آدمی گرفتارہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی اکثریت کے مشورہ سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ناراضی کا اظہار فرمایاتھا۔ جبکہ یہاں فدیہ لے کر چھوڑنے کا اختیار دیا جارہا ہے۔ مذکورہ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ اصل حکم یہ ہے کہ کفار کی طاقت کو کچل کر ختم کرنا ہے۔ چونکہ غزوہ بدر میں فدیہ لے کر چھوڑنے کا مطلب یہ بن رہا تھا کہ ان کی طاقت کو اچھے طریقہ سے کچلے بغیررہاکیا جارہا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ناراضی کا اظہار فرمایا۔ بعد میں جب مسلمان اور اسلام طاقتور اور کفار کمزور ہو گئے تو پھر اس آیت والاحکم دے دیا گیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان حاکم کو قیدیوں کے متعلق چارقسم کے اختیار حاصل ہیں: قتل کر دے۔ غلام بنا دے۔ فدیہ لے کر آزاد کر دے (فدیہ میں پیسے بھی ہیں اور قیدیوں کا تبادلہ بھی ہے)۔ فدیہ کے بغیرآزاد کردے۔ گزشتہ آیات میں جہادوقتال کا بیان تھا۔ اب جنتیوں کے انعامات کو بیان کیا جارہاہے۔ دوسرے انعامات کے علاوہ اللہ تعالیٰ چارقسم کی نہریں بھی عطا فرمائیں گے: پانی کی نہر جو بالکل صاف ہوگی۔ دودھ کی نہر جس کا ذائقہ تبدیل نہیں ہو گا۔ شراب کی نہر جو لذت والی ہوگی،کڑوی نہیں ہو گی، بدبو دار نہیں ہو گی۔ شہد کی نہر جو بالکل صاف ستھری ہو گی۔ پھر اہل جنت کے انعامات کا ذکر ہو رہا ہے اہل ایمان یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مخلص تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے ساتھ ان کے عشق کی انتہا تھی، تویہ انتظار میں رہتے تھے کہ کوئی نئی سورۃ نازل ہو تاکہ ہمارا ایمان تازہ ہو اور جہاد کی اجازت بھی مل جائے۔ منافقین بھی زبانی طور پر یہی بات کہہ دیتے ہوں گے۔ جب کوئی سورۃ نازل ہوتی اور اس میں جہاد کا بھی ذکر ہوتاتو منافقین کی حالت (خوف کی وجہ سے) اس شخص کی طرح ہوجاتی جس پر موت کی غشی طاری ہو چکی ہو۔ اس کے بعد کفار کیلئے ایک وعید کا ذکر ہے اس وعید کا مصداق ہر وہ کافر ہے جو شریعت کے راستے سے روکتا ہے لیکن بطور خاص اس سے مراد بنوقریظہ اور یہود ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کی بہت مدد کی تھی۔ ان کے اعمال تباہ وبرباد ہوجائیں گے یعنی آخرت میں انہیں کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کا حکم دیا، اب اللہ تعالیٰ اپنی شانِ بے نیازی بیان فرما رہے ہیں کہ ہمیں تمہارے اموال کی ضرورت نہیں یعنی اس کا فائدہ تمہیں ہی ہونا ہے۔ بلکہ تم خود بھی اگر تبدیل ہو گئے تو تمہاری جگہ ہم اور لوگوں کو لائیں گے جو تمہاری طرح نہیں ہوں گے بلکہ وہ ہماری مکمل اطاعت کریں گے اور ہمارے حکموں کو مانیں گے۔
سورۃ الفتح
اس سورۃ میں فتح مکہ کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں لفظ فتح موجودہے۔ اسی وجہ سے اس کانام ''فتح'' رکھا گیاہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ کریں اور آپ نے خواب بھی دیکھا تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ سن 6 ہجری کو آپ عمرہ کرنے کیلیے اپنی جماعت کے ساتھ روانہ ہو ئے۔ مشرکین کی رکاوٹ کی وجہ سے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک کھلی فتح عطا فرمادی۔ جوسن 8ہجری کو فتح مکہ کی صورت میں پوری ہوئی۔ اس سورۃ میں لفظ ''ذنب'' کی نسبت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے اس '' ذنب'' کا کیا مطلب ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح دیگر تمام انبیا ء علیہم السلام معصوم ہیں۔ یہاں''ذنب''سے مراد گناہ نہیں بلکہ اجتہادی لغزش اور بھول چوک ہے۔ ''ذنب'' کا ایک معنی الزام ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرمکی اور مدنی زندگی میں جن لوگوں نے الزام لگائے تھے، اس کھلی اور شاندار فتح کی وجہ سے وہ آپ کے معتقد وموافق بن جائیں گے۔ اب وہ الزام کی بجائے آپ کی مدح کریں گے۔ پھر بیعت رضوان کا ذکر ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جماعت کے ساتھ عمرہ کے لیے جارہے تھے تو حدیبیہ کے مقام پر مشرکین کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی۔ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا کہ مشرکین کو اطلاع کریں کہ ہم صرف عمرہ کرنا چاہتے ہیں اور کوئی مقصد نہیں۔ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں شہید کردیے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثاروں سے بیعت (رضوان) لی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ’’ید‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفت اورمتَشابہات میں سے ہے جس کا حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں البتہ متأخرین حضرات درجہ ظن میں اس کا معنی قدرت کرتے ہیں۔ پھر درمیان میں منافقین کے حیلوں کا ذکر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کے سفر پر جانے لگے تو حضرات صحابہ کرام تو پہلے ہی سے تیار تھے۔ لیکن منافقین کے دل میں یہ تھا کہ اگر ہم عمرہ کے لیے مکہ گئے تو قتل ہو جائیں گے، واپس نہیں آ سکتے جبکہ زبان سے یہ کہتے ہیں کہ ہماری مجبوری تھی، کچھ مصروفیت تھی اس لیے ہم نہیں جا سکے۔ تو ان کی زبان پر کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور۔ اس کے بعد اصحاب ِ بیعتِ رضوان کیلئے رضا کا اعلان ہے جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ میں شریک تھے انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعتِ حدیبیہ کی جسے بیعتِ رضوان بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام شرکاء سے غزوہ بدرکے شرکاء کی طرح اپنی رضا کا اعلان فرمادیاہے۔ اس سے مراد فتح خیبرہے جو حدیبیہ سے واپسی کے بعد حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوبہت سارا مال غنیمت بھی عطا فرمایا جس سے معاشی خوش حالی حاصل ہوگئی۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حدیبیہ سے مکہ گئے تھے ادھر سے مشرکین نے 50 آدمی بھیج کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنیکی ناکام کوشش کرناچاہی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان افراد کو مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔ ادھر مشرکین نے حضرت عثمان اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ میں روک لیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پچاس افراد کو قتل کرنے سے مسلمانوں کے ہاتھوں کو روک دیا۔ ادھر مشرکین کے دل میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا وہ بھی حضرت عثمان اور ان کے ساتھیوں کو شہید کرنے سے رک گئے اور صلح پر آمادہ ہوگئے۔ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا جانے لگا تو مشرکین نے ضد اور تکبرکی وجہ سے کچھ ایسی چیزوں پر اصرار کیا جو صحابہ کرام کو ناگوار گزریں تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں تحمل پیدا کیااور انہیں تقویٰ پر ثابت قدم رکھااسی کو سکینت سے تعبیر کیا ہے۔ پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا ذکر ہے نبی کا خواب وحی ہوتا ہے۔ یہاں سے اس خواب کا ذکر ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سفر پر جانے سے پہلے دیکھا تھا کہ ہم عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس خواب کی تعبیر سن 6ہجری کے بجائے 7ہجری کو پوری ہوئی آپ نے اپنی جماعت کے ہمراہ امن وسکون کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا ''وہی ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دیکر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے اور اس کی گواہی کے لیے اللہ ہی کافی ہے''۔ غلبہ کی دوقسمیں ہیں: ایک ہے غلبہ برہانی اور ایک ہے غلبہ عملی۔ غلبہ برہانی یعنی دلیل کے ساتھ تمام ادیان پر دینِ محمد کا غالب ہونا؛ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہو چکا ہے اور غلبہ عملی؛ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور میں ہو چکا ہے اور پورے کرہ ارض پر غلبہ عملی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہو گا، ان شاء اللہ العزیز۔ صلح نامہ میں مشرکین نے اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے ''محمد رسول اللہ '' لفظ رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ''محمد رسول اللہ '' کونازل فرماکر قیامت تک کے لیے اس کو مستقل حصہ بنادیا۔ محمد پیغمبر کی ذات کو کہتے ہیں۔ رسول پیغمبر کی بات کو کہتے ہیں۔ پیغمبرکی ذات بھی محفوظ ہے۔ پیغمبر کی بات بھی محفوظ ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ہیں وہ کفار کے مقابلے میں سخت ہیں، آپس میں نرم ہیں، تم دیکھو گے کہ وہ رکوع کرتے ہیں، سجدے کرتے ہیں، اللہ کا فضل اور اللہ کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔ کثرتِ سجود کی وجہ سے ان کے چہرے پر نشان نظر آتے ہیں۔ ان کے اوصاف تورات و انجیل میں بھی بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی مثال ایسے ہے جیسے کھیتی ہو، جس نے پہلے تو اپنی کونپل نکالی ہو، پھر اس کو مضبوط کیا ہو، پھر تھوڑی سی موٹی ہوئی ہو، پھر اپنے تنے کے سہارے کھڑی ہوئی ہو کہ کسان اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ اس لیے کرتے ہیں کہ اس سے کافر وں کا دل جلے۔
سورۃ الحجرات
اس سورۃ میں حجرات یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہائشی حجروں کے پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دینے سے منع کیا گیاہے۔ اسی وجہ سے اس کانام حجرات رکھ دیا گیا ہے۔ سورۃ کی شروع والی آیات میں مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب کو بیان کیا جارہا ہے کہ جن معاملات کا فیصلہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کرنا ہو اور ان معاملات میں آپ نے مشورہ بھی طلب نہ کیا ہو توان میں نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے آگے بڑھنا اور پھر اس میں بحث ومباحثہ کرنا خلاف ِادب ہے۔ جیسے قبیلہ تمیم کے وفد کے امیر بنانے کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے پہلے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے مابین بحث ہوئی تھی۔ اس وقت یہ ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کریں (یہ حکم جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تھا اسی طرح آپ کی وفات کے بعد آج بھی مسجد نبوی کی حدود میں یہی حکم ہے) کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں۔ پھر آدابِ معاشرت کا بیان ہے ہر وہ بات جس سے معاشرے میں لڑائی یا فتنہ ہو یا اس سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچے اس سے ان دوآیات میں منع کیا گیا ہے۔ مثلاًکوئی مرد کسی مرد کا مذاق نہ اڑائے۔ نہ ہی کوئی عورت کسی عورت کا مذاق اڑائے۔ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیں۔ ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکاریں۔ بدگمانی نہ کریں۔ کسی کے عیب تلاش نہ کریں۔ کسی کی غیبت نہ کریں۔ پھر مختلف قبائل کی وجہ تسمیہ بیان کی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کے مختلف قبائل، اقوام اور خاندان بنائے ہیں۔ ان کا مقصد صرف پہچان ہے۔ یہ مقصد نہیں کہ ایک دوسرے پر بڑائی اور عزت جتائیں۔ عزت اور بڑائی کا دارومدار تقویٰ پر ہے۔
سورۃ ق
''ق'' حروف مقطعات میں سے ہے جس کا معنی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اس سورۃ میں زیادہ تر عقیدہ آخرت کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ ابتدائی آیات میں منکرین آخرت کے اعتراض کا جواب دیا جارہاہے۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے جسم کے تمام حصوں کو مٹی کھاجائے گی ان کو دوبارہ جمع کیسے کیاجائے گا؟انہیں جواب دیا گیا کہ زمین جن حصوں کو گھٹادے گی ان کا ہمارے پاس پورا علم ہے اور ہمارے پاس کتاب میں سب کچھ محفوظ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو تسلی دی ہے کہ یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس سے پہلے بھی نوح علیہ السلام کو جھٹلایا گیا۔ کنوئیں والی قوم نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا۔ قوم ثمود نے بھی حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا۔ قوم عاد نے بھی جھٹلایا۔ قوم فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا اور قومِ لوط نے بھی جھٹلایا۔ پھر کراماً کاتبین کا ذکر کیا قیامت کے دن ہر انسان کا اعمال نامہ بطور حجت اس کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ وہ خود دیکھ لے کہ دنیا میں کیا کرکے آیاہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے مقرر فرمائے ہوئے ہیں ایک انسان کے دائیں کندھے پر اور ایک انسان کے بائیں کندھے پر موجود ہے وہ جو بھی کام کرتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں۔ پھر فرمایا اس وقت کو بھی یاد رکھو جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ کیا تمہارا پیٹ بھر گیا ہے؟ تو وہ کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ جہنم سے یہ سوال صرف تحدیداً اور زجر کے لیے ہو گاکہ جو لوگ پہلے سے جہنم میں ہوں گے تو اس سے ان پر خوف طاری ہو جائے گا۔ پہلے جہنم اور اہل جہنم کا تذکرہ تھا۔ اب اہل جنت کا تذکرہ ہے کہ جنت کو متقین کے بالکل قریب کر دیا جائے گا اور یہ بالکل بھی دور نہیں ہوگی۔ یہ چیز ہر اس بندے کے لیے ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو اور اپنی حفاظت کرنے والا ہو۔ پھر فرمایا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فریضہ صرف لوگوں تک نصیحت کو پہنچادینا ہے لوگوں کو منوانا نہیں۔ بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا فریضہ ادا فرمادیں۔جس کے دل میں آخرت کے دن اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرلے گا۔