عوام کے حق میں تقریریں کرنے اور ان کے لیے واقعی ہی کچھ کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ عوام کے جذبات سے کھیلنے والی گفتگو کرنا یقینا بہت آسان عمل ہے۔آپ کو ایسے بہت سارے لوگ نظر آئیں گے جو عوام کا دم بھرتے ہیں لیکن عوام کے لیے حقیقت میں کچھ کرنے والے لوگ شاید پنجاب میں ہی نظر آتے ہیں۔ پنجاب میں جب سے مریم نواز کی حکومت آئی ہے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ اب حکومت خود چل کے ان کی دہلیز تک پہنچ رہی ہے جبکہ پہلے عوام حکومتی اداروں کے چکر لگاتے تھے پھر بھی ان کے کام نہیں ہوتے۔اب عوام کو گھر بیٹھے ریلیف مل رہا ہے اس کی سب سے بڑی اور تازہ مثال رمضان نگہبان پیکج کی میرٹ کی بنیاد پر تقسیم ہے۔ پنجاب حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 40 ارب روپے کا رمضان پیکج دیا ہے۔ پنجاب حکومت اپنے ٹارگٹ کا 95 فیصد حاصل کر چکی ہے۔اس میں ہر شہری کو میرٹ کی بنیاد پر رمضان نگہبان کارڈ دیے گئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کارڈ کسی حکومتی وزیر، مشیر یا رکن قومی اور صوبائی اسمبلی نے لوگوں کو نہیں دیے بلکہ انتظامیہ کے افسران اور عملے نے مستحق لوگوں تک یہ کارڈ پہنچائے ہیں۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت 30 لاکھ سے زیادہ کار ڈاضلاع کی انتظامیہ کو فراہم کر چکی ہے۔ جن میں سے 28 لاکھ دو ہزار سے زیادہ کارڈ شہریوں کو تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے 25 لاکھ 25 ہزار شہری ان کارڈ سے رقم بھی نکلوا چکے ہیں۔یہ پنجاب حکومت کے ہدف کا تقریبا 95 فیصد کے قریب بنتا ہے۔اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں مریم کے مہمان دسترخوان کے انتظامات بھی کیے ہیں یہ بھی پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ حکومت کے زیر اہتمام صوبے بھر میں 422 دسترخوان قائم کیے گئے ہیں۔ ان دسترخوانوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہری وں روزہ افطار کرتے ہیں۔اس کے ساتھ رمضان میں ہر مرتبہ مہنگائی کا جن باہر نکل آتا تھا جس کو مریم نواز کی حکومت نے بوتل میں بند کر دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سرپرستی میں ان کی ٹیم مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔ معاون خصوصی سلمی بٹ اور ان کے محکمے کی سیکرٹری کرن خورشید اور ان کی ٹیم مریم نواز کے ہر اول دستہ کا رول ادا کر رہی ہیں۔ پہلے حکومتی وزیر اور افسران سینٹرل پنجاب تک ہی محدود رہتے تھے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے ا ضلاع میں مہنگائی آئوٹ آف کنٹرول ہوتی تھی کیونکہ وہاں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔اس مرتبہ رمضان میں سلمیٰ بٹ اور سیکرٹری کرن خورشید نے خود جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کے دورے کیے سبزیوں پھلوں اور سبز مصالحہ جات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور سب سے اہم بات کہ ان کی قیمتوں کو بھی کنٹرول میں رکھا۔ میں اپنی زندگی میں کم از کم پہلی مرتبہ سب دیکھ رہا ہوں کہ رمضان المبارک میں آٹاسستا مل رہا ہے پھل اور سبزیاں بھی عام آدمی کی پہنچ میں ہیں جبکہ سبز مصالحہ جات کی قیمتیں بھی انتہائی کم ہیں۔پھلوں اور سبزیوں کی سرکاری ریٹ پر فروخت کو یقینی بنانے میں سلمی بٹ کا رول سب سے اہم رہا ہے۔ انہوں نے روزے کی حالت میں پنجاب کے ہر شہر اور گلی گلی میں جا کر اشیاء کی قیمتوں اور کوالٹی کو چیک کیا۔ رمضان بازاروں میں شہریوں کو سستی چیزیں مل رہی ہیں لیکن سلمی بٹ نے زیادہ اپنا فوکس عام مارکیٹوں پر رکھا کیونکہ زیادہ تر شہری عام مارکیٹوں سے خریداری کرتے ہیں۔ جس دکاندار نے ریٹ لسٹ سے زیادہ قیمت وصول کی اس کی دکان سلمی بٹ نے موقع پر ہی سیل کروائی جبکہ میڈیا کا محاذ کامیابی کے ساتھ وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری سنبھالے ہوئے ہیں۔پورا رمضان وزیراعلیٰ پنجاب کے اقدامات اور فیصلوں کی آگاہی اور عوامی ریلیف سے متعلق معلومات پبلک تک پہنچانے میں وزارت اطلاعات پنجاب نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔اسی لیے مریم نواز خود عظمیٰ بخاری کی کارکردگی کی معترف ہیں۔رمضان کا مہینہ آتے ہی ہر شہری کے ذہن میں مہنگائی کا تصور آتا تھا لیکن مریم نواز کی حکومت میں شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور تمام اشیائ ان کی با آسانی پہنچ میں ہیں اس کو ریاست کی رٹ کہتے ہیں۔جب کوئی حکمران اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کی طاقت رکھتا ہے تو پھر عوام بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ مریم نواز کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرتی بھی ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی کرواتی ہیں۔وہ کسی بھی معاملے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی جہاں عوام کی بات ہو وہاں مریم نواز کمپرومائز نہیں کرتی۔ اب پنجاب کی بیوروکریسی بھی اس بات کو بخوبی سمجھ چکی ہے اس لیے پنجاب کے افسران بھی بھرپور محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اسی لیے پنجاب آج ہر شعبے میں باقی صوبوں سے لیڈ کر رہا ہے۔ پنجاب کے عوام مریم نواز کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ مریم نواز عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہی ہوئے فیصلے کرتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کرواتی ہیں۔