Thu, September 17, 2026

امریکا جنگ ہار گیا، تیل کا بحران، اسلام آباد پر حملہ

امریکا جنگ ہار گیا، تیل کا بحران، اسلام آباد پر حملہ

ایران امریکی جنگ تیسرے ہفتہ میں داخل ہوگئی لیکن ٹرمپ اور یاہو کے ہاتھ سے نکل گئی۔ ایران تجربہ کار فائٹر ثابت ہوا، دشمن اناڑی، ٹرمپ کے سارے اندازے غلط ثابت ہوئے امریکا سمیت دنیا بھر میں رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا۔ ہٹ دھرمی تیرا آسرا، ’’رسوا جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ قسمت کا لکھا کون مٹا سکتا ہے، اللہ (امریکی صدر کا گاڈ) جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت، سب کچھ اس ذات باری کے دست قدرت میں ہے۔ امریکی عوام ایران کے خلاف بے مقصد جنگ پر ناراض، مقبولیت کا گراف گر گیا۔ ہر دس امریکیوں میں 8 ٹرمپ کے خلاف دو تین جنگیں بند کرانے کے دعوئوں سے قدرے مقبول ہوئے تھے۔ جنگ چھیڑ کر پندرہ دنوں میں مقبولیت کے زینے سے پھسل کر نیچے گرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ایرانی تیل پر نظریں تھیں، ونیز ویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر کے جی نہیں بھرا، لیبیا اور عراق کے تیل کے کنوئوں سے ہوس کی پیاس نہیں بجھی، یہودی مشیروں نے کہیں کا نہ رکھا مار کو روبیو اور وزیر دفاع نے تو یقین دلایا تھا کہ دو چار دنوں کی بات ہے لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکل کر آیت الاہی رجیم تبدیل کردیں گے ہم نے ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کے تمام وسائل ختم کردیے ہیں چند سو میزائلوں کے سوا اس کے پاس کچھ نہیں لیکن ایران نے 3600 میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر کے ٹرمپ کو حیران اور اسرائیل کے 67 لاکھ یہودیوں کو خوفزدہ کردیا، بنکروں میں پناہ لیے بیٹھے ہیں ایرانی آرمی چیف کے مطابق آئندہ دنوں میں ایک ہزار میزائلوں سے اسرائیل پر حملے کیے جائیں گے۔ ایران کے پاس کتنے میزائل ہیں۔ با خبر ذرائع کے مطابق ایران مکمل تیاری کے ساتھ امریکا اور اسرائیل سے نبرد آزما ہے اس کے پاس ایک لاکھ بیلسٹک اور دیگر میزائل، 60 ہزار سے زائد ڈرونز موجود ہیں دو ہفتوں کی جنگ کے دوران اس نے 20 ہزار میزائل فائر کیے اور اسرائیل کے بڑے شہروں کو تورا بورہ بنا دیا۔ 16 طیاروں کے ذریعہ مزید میزائل اور ڈرونز ایران پہنچ گئے۔ ایرانی حملوں سے اسرائیل کے 11 سو ایٹمی سائنسدان فنا فی النار ہوئے۔ 6 آئی ڈی ایف جنرل مارے گئے 198 ایئر فورس افسران 462 فوجی اور 32 موساد ایجنٹ جہنم واصل ہوئے۔ یو اے ای کی ریاستوں میں موجود اڈوں پر 3 ہزار حملوں سے بڑی تباہی ہوئی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اڈوں میں 45 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے جو ہوٹلوں میں جا چھپے 16 سو امریکا فرار ہوگئے۔ عرب ملکوں نے اس جنگ میں امریکا اور اسرائیل کی مدد سے انکار کرتے ہوئے اڈے خالی کرنے کا کہا ہے۔ ٹرمپ کو عرب ممالک کے ان رویوں سے بھی مایوسی ہوئی ہے کہ انہوں نے ایران پر جوابی حملوں سے انکار کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو توقع تھی کہ عرب ملکوں کو جاپان کی طرح تحفظ کا جھانسہ دے کر نہ صرف مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید پر اپنی چوہدراہٹ قائم رکھے گا بلکہ ان سے اربوں ڈالر سالانہ کرایہ یا بھتہ اور مکمل مراعات وصول کرتا رہے گا۔ (جاپان 1945ء کے بعد سے اب تک فوج سے محروم اور امریکا کو مسلسل 10 بلین ڈالر سالانہ بھتہ دے رہا ہے) امریکا ایران سے 11 ہزار کلو میٹر دور اور اس کے میزائلوں کی رینج سے پرے ہے لیکن ایران نے اس کے ناجائز بچے اسرائیل کو ادھموا کر کے سپر پاور کو دیوالیہ کے قریب پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ پندرہ دنوں کی جنگ میں امریکی خزانے پر 28 کھرب 94 ارب کا بھاری بوجھ پڑا ہے۔ وہ پرائی جنگ پر روزانہ 4 کھرب روپے خرچ کر رہا ہے جبکہ اس فضول جنگ سے عالمی معیشت کو 15938 کھرب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس کے برعکس متعدد شہادتوں اور تباہی نے ایران کے حوصلے پست نہیں کیے بریگیڈیئر جباری کے مطابق ایران 10 سال تک دشمن کا مقابلہ کرسکتا ہے جبکہ بیشتر یورپی ممالک ٹرمپ کی بڑھکوں سے تنگ دکھائی دیتے ہیں، اٹلی، اسپین، برطانیہ فرانس، جی سیون ممالک جنگ بندی چاہتے ہیں سلامتی کونسل میں جنگ بندی سے متعلق روسی قرارداد 13 ملکوں کی حمایت سے منظور کی گئی مگر امریکا نے اسے ویٹو کردیا، پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری کے ذریعہ جنگ کی آگ ٹھنڈی کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہا ہے، امریکا مرحلہ وار مسلم ممالک کی تباہی چاہتا ہے، ایران نے اس کے عزائم ناکام بنا دیے ہیں اور جنگ بندی کے لیے تین شرائط رکھی ہیں امریکا، ایران کو ہرجانہ ادا کرے، مستقبل میں حملہ نہ کرنے کی عالمی ضمانتیں دی جائیں، ایران کے خود مختار ملک 
کی حیثیت سے حقوق تسلیم کیے جائیں، امریکہ کی ایک ہی شرط ہے کہ ایران سرنڈر کرے تاکہ وہ دنیا کے 47 فیصد تیل کے ذخائر پر قبضہ کر کے امپورٹر سے ایکسپورٹر بن جائے وہ تیل کے ذخائر تباہ نہیں کرنا چاہتا ان پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے ایران کے تین آئل ڈپوئوں پر حملہ کیا جس سے ان میں آگ بھڑک اٹھی تو ٹرمپ، نیتن یاہو پر برس پڑا مگر تیل پر قبضہ کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، ایران نے اس جنگ کو نیا رخ دے دیا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا کردیا ہے۔ مختلف ممالک کے 7 سو جہاز گزرنے کے لیے ایران کے اجازت نامہ کے منتظر ہیں اس دوران صرف پاکستان کے دو اور ترکیہ کے ایک جہاز کو گزرنے کی اجازت ملی ہے۔ بحران زیادہ دن جاری رہا تو ٹرمپ پر جنگ بندی کے لیے دبائو بڑھے گا۔ عرب ممالک میں تیل کی پیداوار کم ہونے سے قیمتیں ڈیڑھ سو سے دو سو ڈالر فی بیرل ہوجائیں گی جس کی وجہ سے پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ممالک کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کیخلاف دھمکیوں کے بعد تحفظ دینے سے معذرت کرلی ہے۔ جس سے تیل کی قیمتوں میں پھر سے نو دس فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکا ہر روز ہار رہا ہے ایران ہر روز اپنی ثابت قدمی کا ثبوت فراہم کر رہا ہے، عرب ممالک امریکی اڈوں کے خاتمہ کا عندیہ دے رہے ہیں لیکن اربوں ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری اور امریکی بنکوں کی ان ممالک میں موجودگی کے باعث امریکا کے مکمل انخلاء کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، دفاعی ماہرین کو خطرہ ہے کہ امریکا جاپان کی طرح ایران پر بھی ایٹم بم گرانے کی حماقت نہ کر بیٹھے، لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو فیس سیونگ کی کوئی صورت نظر آئی تو وہ ہفتے عشرے میں جنگ بندی کی روسی تجویز قبول کرلیں گے۔ ایران جنگ کے علاوہ پاکستان افغان خوارج کے خلاف کارروائیوں میں بھی مصروف ہے۔ خوارج کے مسلسل حملوں اور دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف ہماری مسلح افواج نے ائرسٹرائیکس سے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے مگر بھارت پراکسی جنگ کی آڑ میں خوارج اور طالبان حکومت کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے گزشتہ جمعہ کی شام اسلام آباد، کوہاٹ اور کوئٹہ میں خوارج کی جانب سے ڈرونز فائر کیے گئے جنہیں فضا میں ہی تباہ کر کے حملہ ناکام بنا دیا گیا، تاہم اس کے بعد کابل قندھار، پل چرخی اور دیگر مقامات پر خوارج کے جن ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اس پر پورے افغانستان سے چیخیں بلند ہو رہی ہیں، درد سر سر بنے اس فتنے کا سر کچلنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگز: