Wed, September 16, 2026

جرائم، خواتین اور ٹیکنیکل ایجوکیشن 

جرائم، خواتین اور ٹیکنیکل ایجوکیشن 

جرم اور مجرم کی کوئی جینڈر نہیں ہوتی ، اپنے مفادات ، مقاصد ، سواد یا ذہنی دباو¿ کی بنیاد پر کسی سے اس کی زندگی ، آزادی ، خوشیاں ،وقار، عزت و ناموس چھین لینے والوں کو کسی قیمت پر ریلیف نہیں ملنا چاہیے ، چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور سماج کے کسی بھی طبقہ کا فرد ہو لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اشرافیہ کو گناہوں کی معافی مل جاتی ہے ، عدالتیں آو¿ٹ آف دا وے جا کر انہیں ریلیف دیتے ہیں اور بے گناہ غریب ساری عمر صفائیاں دینے میں گزار دیتا ہے لیکن بریت اسے مرنے کے بعد بھی نہیں ملتی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی خواتین میں شاٹ کٹ سے پیسے کمانے کا رحجان فروغ پانے لگا ہے، صبا ایزی لوڈ اسی شارٹ کٹ نظریہ کی ابتدا تھی۔ جس نے موبائل فون کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی فراڈ کے نئے نئے ذائقوں کو روشناس کروایا۔ بنیادی طور پر پاکستانی مڈل اور لوئر مڈل کلاس کو اپنے معاشی حالات پر توجہ دینی ہو گی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کو بابو صاحب بننے اور کسی شہزادے کے آنے کے خواب دیکھنے کی بجائے بنیادی تعلیم دلوا کر ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف جانا ہو گا۔
 پاکستان میں خواتین کی کثیر تعداد جرائم کی طرف راغب ہو رہی ہے جس کی اہم ترین وجہ معاشی ناہمواریاں اور ناآسودگی ہے۔لیکن جرائم کی ایک وجہ محض معاشی مسائل کی نہیں ہے بلکہ ذاتی بھی ہیں اور کہیں کہیں نفسیاتی بھی لیکن یہ سب مجرم ہیں اور کسی رعایت کی مستحق نہیں ، کہیں خوف بھی جرم کی طرف مائل کرتا ہے تو کہیں ظلم کا بدلہ بھی ظلم سے لیا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر دنیا بھر کی جیلوں کی آبادی میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کے حوالے سے بات کریں تو یہاں بھی خواتین جیلوں کی آبادی میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا ہے، 2024 میں 1,550 خواتین قیدیوں کی تعداد 1.5 فیصد بنتی ہے۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ نارکوٹکس آفنسز فیکٹ شیٹ 2025 کے مطابق، پاکستان بھر میں، 375 خواتین قیدیوں کو منشیات سے متعلق الزامات کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔حکومتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جیل میں بند قیدیوں کا 1.5 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں ک±ل 96 جیلیں ہیں لیکن ان میں سے صرف چار خواتین کے لیے ہیں۔ ان 4 جیلوں میں سے 3 سندھ (کراچی، حیدرآباد اور سکھر) میں ہیں جب کہ پنجاب میں خواتین کے لیے صرف ایک جیل ہے، بصورت دیگر، خواتین کو مردوں کی جیلوں کے اندر الگ بیرکوں میں رکھا جاتا ہے۔توہین مذہب کے الزامات کے ساتھ ساتھ محدود معاشی مواقع پاکستانی خواتین کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کر رہے۔ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن (این سی ایس ڈبلیو) نے گزشتہ چند برسوں میں سلاخوں کے پیچھے خواتین کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک میں 150 خواتین قیدیوں کے ساتھ ان کے نابالغ بچے بھی ہیں۔ قوانین بچوں کو پانچ سال کی عمر تک اپنی زیر حراست ماو¿ں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن رپورٹیں ثابت کرتی ہیں کہ بعض صورتوں میں ایسے بچے وہاں نو یا 10 سال کی عمر تک بھی رہتے ہیں۔آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق فراہم کرنے میں ریاست کا کردار غیرمو¿ثر رہا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ جیل خانہ جات اور اصلاحی خدمات ایکٹ 2019ئ کے سیکشن 55 کے تحت قائم کی گئی کمیٹی برائے جیل خانہ جات، ’گھناو¿نے جرائم‘ بشمول منشیات سے متعلق جرائم میں قانونی نمائندگی فراہم نہیں کرتی۔ اس سے جھوٹے الزام میں مقدمات اور جیل کی سزا جھیلنے والے افراد کو قانونی تحفظ نہیں مل پاتا۔
یہاں ایک دو واقعات کا ذکر ضرور کرتی چلوں اگست دو ہزار 23 میں ضلع سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں خاتون نے بے اولاد بیٹی کے لیے بچہ حاصل کرنے کے لیے دوسری حاملہ خاتون کو قتل کیا تھا۔بعد ازاں پولیس نے ملزمہ، اتائی اور اس کی بیٹی کو حراست میں لے لیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزمہ خاتون اپنی بے اولاد بیٹی کے لیے بچہ حاصل کرنا چاہتی تھی، ملزمہ نے حاملہ خاتون کی لاش صندوق میں چھپادی تھی اور محلے کے لڑکوں کی مدد سے صندوق کو ملزمہ نے اپنے گھر منتقل کیا۔اس کے علاو¿ہ شاید دسمبر 2023 میں ہی ایک پریمی جوڑے نے اپنے اپنے گھر والو کی جانب سے انکار کے بعد ایک ساتھ شادی کرنے کے لیے لمبی گیم کھیلی۔پہلے ان کی شادی کہیں اور ہوئی، کچھ عرصے کے بعد دونوں نے اپنے اپنے میاں بیوی کو مار ڈالا، کچھ عرصہ کے بعد دوسری شادی کی وہ بھی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں بلکہ کہیں اور ، دوسرے شہروں میں۔ پھر انہیں بھی کچھ عرصے کے بعد مار دیا۔ شاید تیسری یا چوتھی واردات کی پلاننگ میں وہ دھرے گئے۔کہنا یہ چاہتی ہوں کہ اغوا ، ریپ ، قتل اور بہت سارے واقعات میں مردوں کی معاونت خواتین نے ہی کی ، حتیٰ کہ کئی واقعات میں ماسٹر مائنڈ بھی خواتین ہی تھیں یعنی جہاں عورت مظلوم ہے وہاں سفاکیت میں مرد سے بھی چار ہاتھ آگے نکل جاتی ہے۔ 
عام شہریوں کو بھی جیلوں کا وزٹ کروایا جائے تاکہ وہ لوگ جو عورت کو ظالم تسلیم نہیں کرتے وہ بھی یہ سب دیکھ اور سمجھ سکیں۔ یاد رکھئیے کہ ظلم اور ظالم کی کوئی جینڈر نہیں ہوتی ،جب جسے موقع ملا اس نے وار کر ڈالا۔ حتی کہ آپ کے کئی دفاتر میں خواتین ہی دوسری خواتین کے خلاف سازشوں میں ملوث ہوتی ہیں،اپنی ہی کولیگ کے ساتھ وہ غلط کروا دیتی ہیں۔ریاست کو جرم کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے، اس کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے، اور بحالی کے ایسے موثر پروگرام بنانا چاہیے جو سخت قید کی سزاو¿ں پر انحصار کرنے کے بجائے دوسرے مواقع فراہم کریں۔ یعنی کرائم روکنے یا کم کرنے کی طرف توجہ دینے کے لیے معاشی ترقی بہت زیادہ ضروری ہے اور معاشی ترقی تبھی ممکن ہے جب ہم نوجوانوں میں بلا تخصیص مرد اور عورت کے ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دیں گے۔عورتوں بھی تبھی معاشی دباو¿ سے آزاد ہوں گی جب ان کی بیٹی کے ساتھ ساتھ ایک مفید شہری کی تربیت بھی ہو گی اور وہ بنیادی اور ٹیکنیکل ایجوکیشن سے ہی ممکن ہے۔

ٹیگز: