وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب تحسین کے مستحق ہیں کہ اپوزیشن ارکانِ اسمبلی کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باوجود وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں مالی سال 2026-27 کا میزانیہ یا بجٹ خوش اسلوبی سے پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف نے انہیں اس پر مبارکباد دی ہے تو وہ بجا طور پر اس کے مستحق گردانے جا سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں بجٹ پیش کرنے کے موقع پر اپوزیشن ارکان کا شورشرابہ، ہنگامہ آرائی اور وزیرِ خزانہ کی تقریر میں مداخلت کرنا، اس کے ساتھ حکومتی ارکان کی طرف سے وزیرِ خزانہ کی حوصلہ افزائی اور دلجوئی کرنا بھی ایک ایسا معمول ہے جو کب سے جاری و ساری ہے۔ سو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جا سکتا تاہم اس سے ہٹ کر یہ بات زیادہ اہم اور ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اُس کی جزئیات اور تفصیلات کیا ہیں اور عوام الناس کے مختلف طبقات اور قومی زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عام افراد، سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اور کم آمدنی والے طبقات اور صنعتوں و سرمایہ کاری سے وابستہ افراد کی اس بارے میں کیا آرا ہیں اور وہ بجٹ کو کس انداز سے دیکھ رہے ہیں۔
سچی بات ہے کہ مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے کہ میں کوئی ماہر معیشت نہیں اور یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ میرے جیسا ایک عام شخص جسے اقتصادیات اور معاشیات کی کوئی زیادہ سُدھ بُدھ نہیں وہ بجٹ کی تفصیلات، جزئیات اور اعداد و شمار کی بھول بھلیوں کوکچھ زیادہ سمجھ نہیں سکتا۔ تاہم وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے کچھ باتیں، کچھ اعداد و شمار اور کچھ وضاحتیں اور کچھ تفصیلات اتنی ظاہر اور اتنی واضح ہیں کہ بجٹ کے بارے میں کچھ نہ کچھ رائے کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ پھر بطور ایک سینئر سٹیزن ، ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ، ایک کنبے کا سربراہ ، ایک کھیتی باڑی کرنے والا چھوٹا کسان اور ایک اوسط درجے کی آمدنی کے ذرائع رکھنے والے عام فرد کی حیثیت سے بجٹ کے بارے میں کچھ جذبات، احساسات اور تحفظات پیش کیے جا سکتے ہیں۔
18771 ارب روپے کے حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ سے بلا شبہ پاکستان کی معیشت کے پھیلاو¿، وسعت اور ترقی کا تصور اُبھرتا ہے لیکن جب اس کے تحت اخراجات پر نظر ڈالتے ہیں تو پھر پاکستانی معیشت کی وسعت، ترقی اور پھیلاو¿ کے دعوے بے
معنی نظر آتے ہیں۔ 18 کھرب 771 ارب یا 18 ہزار 771 ارب روپے کے حجم کے بجٹ میں سے 8054 ارب روپے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی یعنی سالانہ بجٹ کے کل حجم کا 42.9 فیصد اس اکیلی مد میں نکل جاتا ہے۔ دفاع پر 3000 ارب یعنی کل بجٹ کا 16 فیصد، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 838 ارب، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لئے 1000 ارب، سول انتظامیہ کے اخراجات پر 1071 ارب، پنشن کی ادائیگی پر 1169 ارب اور سبسڈیز پر 1071 ارب روپے اور ان کے ساتھ وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ 8838 ارب روپے۔ یہ سب مل ملا کر اتنا بھاری بھرکم ٹوٹل بنتا ہے کہ 7020 ارب روپے کا خسارہ سامنے آتا ہے۔ یہ خسارہ کیسے پورا ہو گا اس کے بارے میں حکومت کے معاشی ماہرین جن میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ جناب محمد اورنگزیب اور وزیر ِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی شامل ہیں بہتر بتا سکتے ہیں لیکن اس سے ہٹ کر نوشتہ دیوار کے طور پر 650 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات سامنے آ چکے ہیں جن کی بنا پر 36 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ ان میں اضافے کا سلسلہ ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔
بجٹ میں جن چھتیس اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنائی گئی ہے الا ماشاءاللہ یہ ساری کی ساری عام استعمال کی اشیا ہیں اور کم آمدنی سے لےکر زیادہ آمدنی والے سبھی طبقات کی ضروریات زندگی میں شامل ہیں۔ ذرا ان کی تفصیل دیکھئے۔ دودھ، ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام جیلی، کیچپ، مسالا جات، خوردنی تیل، گھی، کراکری، ہئیر آئل، شیمپو، جوتے، پرفیوم، بیکری آئٹم، پلاسٹک کی گھریلو اشیا، سینیٹری اور باتھ روم آئٹم، سوٹ کیس، زرعی ادویات اور جراثیم کش مصنوعات وغیرہ ان پر سب جی ایس ٹی نافذ کیا گیا ہے یا پہلے سے نافذ جی ایس ٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مہنگی ہونے والی اشیا کی اس فہرست کو دیکھ کر بجٹ بنانے والوں کی دانائی، سمجھداری اور عدل پروری کی تعریف کرنا پڑتی ہے کہ انہوں نے پوری کوشش کی ہے کہ ان اشیا کے مزید مہنگے ہونے سے اگر زیادہ آمدنی والے متاثر ہوں تو خط ِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اُن سے بھی زیادہ متاثر ہوں۔ آخر دودھ، خوردنی تیل، گھی، مسالا جات، بیکری آئٹم، جوتے اور پلاسٹک کی گھریلو اشیا ہر گھر کی ضرورت ہیں یا نہیں؟ یقینا یہ ہر گھر کی ضرورت ہیں۔ ایف بی آر کے حکام کا کہنا ہے کہ ان اشیا کے مہنگے کرنے سے 70 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہو گی تو اس کے ساتھ ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات، نفاذِ قانون اور انتظامی اقدامات سے 400 ارب روپے کے اضافی وسائل بھی حاصل ہونگے۔ اللہ کرے ایف بی آر کے حکام کی یہ توقعات پوری ہوں اور بجٹ میں دئیے گئے اعداد و شمار کے مطابق آمدنی کے وسائل حاصل ہو سکیں لیکن اس کے لئے ایف بی آر کے ڈھانچے میں تبدیلی، انتظامی اصلاحات کے ساتھ بدعنوانی اور رشوت ستانی کو بھی ختم کرنا ہو گا جو شاید اتنا آسانی سے نہ ہو سکے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 کے دیگر پہلوو¿ں کی طرف آئیں تو اس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی نوید سنائی گئی ہے توریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہوش رُبا مہنگائی کے اس دور میں جب افراطِ زر کی شرح ہر روز بلند سے بلند ہوتی رہتی ہے، سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اُونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہو سکتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ بلا شبہ انتہائی کم ہے لیکن بجٹ ساز جو سرکاری اہلکار ہوتے ہیں وہ اپنے بھائی بندوں کے لئے کہیں نہ کہیں کسی اور مد یا مدات سے اضافی آمدنی کی کوئی نہ کوئی سبیل نکال لیتے ہیں۔ اس بجٹ میں بھی سرکاری ملازمین کے کنوینس الاﺅنس اور ڈسپیریٹی الاﺅنس میں اضافے متوقع ہیں جس سے صرف 7 فیصد تنخواہ میں اضافے کے علاوہ سرکاری ملازمین کو مزید معقول اضافے بھی مل جائیں گے۔ لیکن پنشنرز کو صرف 7 فیصد اضافے پر ٹرخانہ انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک سمجھا جا سکتا ہے۔
بجٹ 2026-27 کے حوالے سے یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ اس میں بڑے قومی منصوبوں کے لیے کم رقوم رکھی گئی ہیں۔ جیسے دیا میر بھاشا ڈیم کے لئے 14 ارب، مہمند ڈیم کے لئے 22 ارب اور داسو پن بجلی منصوبے کے لئے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ریلوے کے 25 کھرب 13 ارب سے زائد کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف 40 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئی شاہراہوں اور موٹر ویز کی تعمیرات کے لئے بھی کچھ زیادہ رقوم مختص نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم اچھی بات ہے کہ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ضم شدہ قبائلی اضلاح کے لئے معقول رقوم مختص کی گئی ہیں۔