پولیس کے پاس کسی بھی وقت روکنے اور آپ سے پوچھ گچھ کرنے کا اختیارہے ، وہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کی تلاشی کرسکتے ہیں۔ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکتے ہیں جیسے کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ آپ کا اس علاقے میں کیا کام؟ یا آپ کہاں جا رہے ہیں؟آپ اپنا شناختی کارڈ دکھائیں ؟گاڑی چیک کروائیں؟
نفرت انسانوں سے نہیں بلکہ جرم سے ہے یہ وہ جملہ ہے جوآپ نے تھانوں میں لکھا ہوا دیکھا ہوگا۔ اس عبارت کو پڑھنے کے بعد یہ محاورہ یاد آنے لگتا ہے کہ ’’ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور‘‘ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت ساے لوگ پولیس کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے کیونکہ پولیس نے شرفاء کو چھوڑ کر ہر طرح کے جرم کرنے والے سماج دشمن عناصر سے دوستی کر رکھی ہے جس سے نہ صرف شرفاء کا پولیس سے اعتماد اٹھ چکا ہے بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان مزیدنفرت بڑھ چکی ہے۔حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کوئی بھی باعزت شخص حصول حق کے لئے آج بھی تھانے کا رخ نہیں کرتا۔ یہاں ایک بڑی وجہ پولیس کی عوام کے ساتھ دست درازی اور بد زبانی بھی ہے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر جائز کام کے لئے کسی نے پولیس اسٹیشن مدد کے لئے قدم رکھ لیا تو وہ بھی انصاف کے حصول کے لئے دربدر ٹھوکر یں کھاتا ہے کوئی سائل کو دیکھنے اور سننے والا نہیں ہوتا ،سب تھانے میں اپنے ریٹ مقرر کر کے بیٹھے ہوئے ہیں۔کسی کے ہاتھ کسی کی جیب اور کسی کے کارخاص کو کیش پیمنٹ نہ کی گئی تو آپ کو جائزکام کے بدلے انصاف کی فراہمی بھی نا ممکن بنا دی جاتی ہے۔کیا عام شہری کے ساتھ ایسے ہی رویے کو اپناتے ہوئے جس کی اجازت اخلاقیات ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی قانون نہیں دیتا۔
آخر کیوں افسران بالا اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کا مظاہرہ کر رہے ہیں پولیس کوروکنے اور تلاشی کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے قوانین کی پاسداری کرنے میں ناکام ہے۔ اس سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے اور حکومت کو روکنے اور تلاشی کے قابل عمل معتدل طریقہ کار کو بنانے کے لئے باقاعدہ قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ ناکہ پر پولیس کی لوٹ مار اور جرائم میں اضافہ کا سبب بننے والے پولیس افسران اورجوانوں کوآڑے ہاتھوں لینا لازم و ملزوم ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جس طرح کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لا کر شہریوں کے جان و مال کو صحیح معنوں میں تحفظ دینے کے لئے قدم اٹھا یا اسی طرح لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں کے ناکہ جات پر تلاشی کا طریقہ کار بھی متعارف کروایا جائے تاکہ پولیس صرف جرائم پیشہ عناصر کو نکیل ڈال سکے نہ کہ معصوم افراد کو روک کر تنگ اور حراساں کیا جاسکے۔ واضح رہے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی حالیہ دنوں کی چند کامیاب کارروائیاں پنجاب پولیس کے دہائیوں میں ہونے والے اچھے کاموں پر بھاری ہیں۔ غیر قانونی طور پر روکنے اور تلاشی کے خلاف مؤثر طریقے نافذ کرنے میں اصلاحات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوز شریف ممکن بنا سکتی ہیں۔جبکہ دوسری جانب آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو چاہیے کہ فوری طور پر اصلاحات لانے کے لئے خود بھی اقدامات کریں خاص طور پرافسران کوناکہ جات پر شفٹوں میں تعینات کیا جائے اور وہ ڈیوٹی اوقات میں حاضری یقینی بنائے بلکہ ناکہ جات پر کھڑے پولیس ملازمین پر نظر رکھے اور ان قواعد و ضوابط کو لاگو کرنے میں ہر جوان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انورناکہ جات پر تعینات افسران اور دیگر پولیس ملازمین کو فراہم کردہ تربیت ، جو ہر ایک وقوعہ کی بنیاد پر ، موقع اور حالات کی مناسبت سے درست فیصلے کر کے اختیارات کا مناسب اور متناسب استعمال کرنے کا اہل بنائے جو ہر لحاظ سے جائز اور قواعد و ضوبط کے مطابق ہو۔
ڈیوٹی پر تعینات افسران اورپولیس جوان کو قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے پاس اختیارات کو استعمال کرنے کے لئے معقول وجہ ہونی چاہیے کسی قانونی مقصد کے حصول کے لئے طاقت اور اختیارات کا اتنا ہی استعمال کرنا چاہیے جتنا ناگزیر ہو اور ایسے اختیارات کا استعمال صرف اور صرف ریاست اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہو۔
وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب واقف ہونگے کہ پنجاب اور ملک دیگر حصوں میں شرفا ء پولیس کو دیکھ کر خوف اور جرائم پیشہ افراد پولیس کی سرپرستی میں وارداتیں کرتے ہیں۔ یقینا ناکے اور تلاشی کے اختیارات کا ناجائز استعمال پولیس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے ، پولیس کے ظلم و زیادتی اور بربریت کے کئی واقعات کی وجہ سے عوام پولیس کی ان عظیم قربانیوں کو فراموش کر دیتی ہے جس میں پولیس نے دہشت گردوں ، خود کش حملہ آوروں اور خطرناک مجرموں کے خلاف کاروائی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور بے شمار معصوم پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس کا محکمہ ہر لحاظ سے ’’حقیقی بدنام‘‘ ہوچکا ہے وسیع تر اختیارات کا مالک محکمہ پولیس ایسا ادارہ بن چکا ہے جس نے ظلم و بربریت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں بے گناہ شرفاء کو تھانوں میں لاکے خوب ذلیل کیا جاتا ہے بلکہ نوٹ کمانے کے لئے انہیں چھترول بھی کرنی پڑے تو اس سے بھی گریز نہیںکرتے کتنے افسوس کی بات ہے کہ دوسری طرف سماج دشمن عناصر کو عزت بخشی جاتی ہے۔ خواتین کو ذلیل حتیٰ کہ تھانوں میں عورتوں کو عصمت دری کے بے شمار واقعات ہوچکے ہیں۔ ہمارے ہاں پولیس کے غلط رویہ اور لوٹ مار کے حوالے سے بہت ساری باتیں جن میں شہریوں پر تشدد کے واقعات شامل میں ہر روزنیوز چینل ،سوشل میڈیا اور اخبارات کی مین سرخیوں میں نیا کیس سامنے آتا ہے۔
ناکے اور تلاشی کے مناسب استعمال کا مطلب یہ بھی ہے کہ افسران ایک ’’ منصفانہ طریقہ کار‘‘ کو اپناتے ہیں ، یعنی منصفانہ فیصلے کرتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آتے ہیں۔ تھانوں اور خاص طور پرناکوں پر موجود افسران حقائق کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ فیصلے کرنے کے پابند ہیں اور ان فیصلوں کی وضاحت کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ محکمہ پولیس کا ہر افسر ،جوان لوگوں کو کسی واقعہ کے متعلق ان کا نقطہ نظر سننے اور سنانے کا موقع فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، پولیس کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ قابل اعتماد ہیں۔ انہیں لوگوں کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ناکہ لگانے اور تلاشی لینے سے جرائم کی کھوج اور روک تھام میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور اختیارات کا منصفانہ استعمال اسے زیادہ موثر بناتا ہے۔ انصاف کے اصولوں کے مطابق افسران کے ذریعے ناکے اور تلاشی کے جائز اور مناسب استعمال سے عوام کا اعتماد ،اور پولیس کے جواز کو باہمی رضامندی کے ساتھ برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے لوگوں کے رویوں پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے اور عوام کی جانب سے شکایات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
محض ناکے اور تلاشی بڑھا کر اور جاسوسی اور انٹیلی جنس کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کا بروقت استعمال کیے بغیر ، جرائم کو کم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ناکے اور تلاشی کے ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے کا یہ انداز کم نتیجہ خیز ہوگا اور اس کے غلط استعمال کا امکان ہے۔ اختیارات کا ناجائز استعمال نہ صرف انتظامیہ کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ پولیس پر عدم اعتماد کا باعث بنے گا۔ناکے پر غریب آدمی کی جیب خالی کرنے میں پولیس پیش پیش اور غیر قانون دھندہ میں ملوث کریمینلز کی جانب سے پولیس کی جیبیں بھرنے کا دھندہ تیزی سے چل رہا ہے۔ناکہ کی آر میں پولیس کے اس غیر قانونی فعل کی روک تھام میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ہی امید لگائی جا سکتی ہے۔