بھارت کی بیک وقت روس اور یوکرین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بھونڈی کوشش بے نقاب ہونے سے مودی سرکار کی عالمی سطح پر دوغلی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یوکرینی فوج روس کے خلاف جو اسلحہ استعمال کر رہی ہیں وہ بھارتی ساختہ ہے جب کہ بھارت ہمیشہ سے روس یوکرین جنگ میں غیرجانبداری کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔ بھارت کئی بار روس کو یقین دلا چکا ہے وہ یوکرین سے جنگ میں غیر جانبدار ہونے کی اپنی پالیسی پر کاربند ہیں تاہم یہ جھوٹ پکڑا گیا۔یوکرینی فوج کے پاس بھارتی ساختہ اسلحے کے ثبوت منظرعام پر آنے کے بعد بھارت کی اس جنگ میں غیر جانبداری کا موقف محض ڈھونگ ثابت ہوا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کو گولہ بارود اور اسلحے کی فراہمی سے بھارت کے روس کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا سبب بنیں گے۔ یاد رہے کہ ہندوستان اس سے قبل بھارت ساختہ اسلحہ آرمینیا کی فوج نے بھی آزربائیجان کے خلاف استعمال کیے تھے۔
بھارت خودکو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہہ کر پکارتا ہے مگر نریندر مودی کے دور میں یہ جمہوریت ایک ایسے فاشسٹ نظام میں بدل چکی ہے جو صرف جنگ، نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ نشست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی اس مکروہ حقیقت سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر جنگ کو مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ نریندر مودی کی روس نواز پالیسیوں نے بھارتی نوجوانوں کو غیر ملکی جنگ کا ایندھن بنا دیا ہے۔روس یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نوکریوں کا جھانسہ دیکر روس لے جایا گیا اور وہاں بغیر کسی فوجی تربیت کے زبردستی جنگ کے محاذ پر دھکیل دیا گیا۔ بھارتی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ انہیں بنیادی سہولتیں، کھانا اور پانی تک فراہم نہیں کیا جا رہا اور اگر آواز بلند کریں تو دھمکایا جاتا ہے کہ”آپ یوکرین میں ہیں، یہاں کوئی آپ کی نہیں سنے گا”۔ ایک ویڈیو پیغام میں بھارتی نوجوانوں نے کہا کہ یہ ان کی آخری ویڈیوہو سکتی ہے۔ کچھ روز قبل کانگریس کے ایم ایل اے پرگت سنگھ نے اس حقیقت کو مزید کھول کر بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے نوجوان غیر ملکی میدان جنگ میں مر رہے ہیں اور حکومت نے ان کے خاندانوں کو بھی بے خبر چھوڑ دیا ہے۔ یہ بیانیہ صرف ایک اپوزیشن لیڈر کا الزام نہیں بلکہ بھارتی عوام کی ایک گہری تشویش ہے۔ جب ملک کے اندر اپنے ہی عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہو تو پھر بیرونی دنیا میں بھارت کی پالیسیوں سے خیر کی توقع رکھنا محض بھول ہے۔
روس یوکرین جنگ میں بھارتی نوجوانوں کا بطور ایندھن استعمال ہونا اس المیے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے، جہاں نوجوان نسل جھوٹے وعدوں اور لالچ کے ذریعے غیر ملکی جنگ کے میدانوں میں دھکیل دی جا رہی ہے۔ روس۔یوکرین جنگ میں بھارت کا منافقانہ دوہرا کھیل، امن کا دعویدار بن کر منافع کی خاطر اپنے ہی شہریوں کی قربانی دی گئی۔ بھارت کی ”اسٹریٹیجک خودمختاری“ دراصل کھلی موقع پرستی اور اپنے ہی شہریوں کے استحصال کا مظہر ہے۔217 بھارتی شہریوں کو سول ملازمتوں، باورچی اور سیکیورٹی گارڈ کی نوکریوں کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دے کر روسی فوجی خدمت میں دھکیل دیا گیا۔جن میں سے 139 افراد کو رہا یا فارغ کیا گیا، 49 کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، 6 لاپتہ ہیں، 26 خاندانوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جبکہ صرف 8 افراد کی باقیات ڈی این اے شناخت کے بعد وطن واپس لائی جا سکیں۔ 49 ہلاک ہونے والے بھارتی شہری اس کی قیمت کا ثبوت ہیں، نئی دہلی اپنے ہی کمزور شہریوں کو تیل پر رعایت، تجارتی فوائد اور جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے بے رحمی سے استعمال کرتا ہے۔ یہ سفارت کاری نہیں بلکہ اپنے ہی عوام سے غداری ہے۔ نئی دہلی منافع کے لیے ہر فریق کے ساتھ کھیل کھیلتا ہے۔اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں، بشمول فروری 2022 کی اہم ووٹنگ، روس کے حق میں بالواسطہ تحفظ فراہم کیا، جبکہ ڈھائی سال تک رعایتی نرخوں پر روسی تیل خریدنے والا سب سے بڑا خریدار بھی بن گیا۔مالی سال 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 68.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ 2030 تک اسے 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دسمبر 2025 میں ولادیمیر پیوٹن کا نئی دہلی میں شاندار استقبال کیا گیا۔اسی دوران بھارت مغرب اور امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات مضبوط کرتا رہا، جس کےلئے نریندر مودی کے کیف کے دورے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منتخب انداز میں ووٹنگ، اور ثالثی کے دعوے استعمال کیے گئے۔وہ ایک طرف پیوٹن کے سامنے اپنے شہریوں کے مسائل اٹھاتا ہے، جبکہ دوسری جانب توانائی اور دفاعی شعبوں میں اپنے منافع بخش تعلقات بدستور برقرار رکھتا ہے۔ بھارت خود کو قابلِ اعتماد امن کا داعی ثابت نہیں کر سکتا۔ اس کا دوہرا کھیل، موقع پرستی اور ہر فریق سے فائدہ اٹھانے کی پالیسی اس کی گہری منافقت کو بے نقاب کرتی ہے۔