کبھی لاہور وہ شہر تھا جہاں فضا میں بلھے شاہؒ کی سرگوشیاں گونجتی تھیں، علامہ اقبالؒ اسے فردوس بریں کہتے تھے اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سے اس کے باغ مہک اٹھتے تھے۔روحانیت، علم اور ثقافت کا امتزاج رکھنے والا یہ شہر ہمیشہ قدرتی حسن، درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں، کھیتوں کی فراوانی اور خوشگوار فضاؤں کی علامت رہا ہے۔ یہاں کی شامیں رنگین تھیں، صبحیں معطر تھیں، لوگ خوش دل اور موسم شاداب تھے۔ اسی لاہور کی محبت میں مشہور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے کہا تھا کہ ’لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا‘ لیکن پھر انسان کی لالچ نے وہ سب کچھ لوٹ لیا جو قدرت نے صدیوں میں بخشا تھا۔ ہم نے درخت کاٹ کر کاغذ کی دولت بنائی، زمین بیچ کر کنکریٹ خریدا اور اس شہر کا حلیہ بگاڑ دیا۔
آج لاہور کی جو حالت ہے وہ کسی سانحے سے کم نہیں۔ 1993 میں لاہور کے گرد جو ذرخیز زمینیں اور سبز کھیت تھے وہ 2025 میں آدھے سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ رہائشی آبادیاں تین گنا بڑھ گئیں اور شہر کے گرد پھیلتی ہوئے ہاؤسنگ سوسائٹیز نے درخت چھوڑے نہ دریا کے کنارے۔ 35 فیصد زرعی زمین ہڑپ لی گئی اور 28 فیصد مزید کنکریٹ کھڑا کردیا گیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج لاہور کا ہر شہری محض 3.7 مربع میٹر سبز جگہ میں جینے پر مجبور ہے جبکہ دنیا میں صحت مند زندگی کے لیے کم از کم 9 مربع میٹر فی کس درکار ہوتے ہیں۔
گرمی کا عالم یہ ہے کہ جہاں کبھی بہار کی ہوا چلتی تھی وہاں اب دھوپ میں لو کے تھپیڑے لگتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گزشتہ چالیس برس میں لاہور کا درجہ حرارت اوسطاً 3 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ جو علاقے درختوں سے بھرپور تھے وہاں موسم خوشگوار تھا لیکن اب سڑکیں، پل، عمارتیں اور بے ہنگم آبادیاں گرمی کو کئی گنا بڑھا رہی ہیں۔ اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ لاہور کو ایک دہکتا ہوا تندور بناتا جا رہا ہے۔ پانی کے بحران نے لاہور کے شہریوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔ بارش کا پانی جسے زمین میں جذب ہو کر زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنا تھا وہ اب سڑکوں پر سیلاب بن کر تباہی مچا رہا ہے۔ دوسری طرف پانی زمین میں جذب نہ ہونے کے باعث ٹیوب ویل کا پانی خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے۔ کچھ علاقوں میں زیر زمین پانی 700 فٹ سے زیادہ نیچے ہے اور ماہرین کے مطابق اگر یہی روش جاری رہی تو آئندہ دہائی میں لاہور شدید پانی کی قلت کا شکار ہو جائے گا۔
لاہور کے مشہور درخت جیسے شیشم، کیکر، نیم اور بوہڑ اب نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ جگہ جگہ غیر مقامی درخت لگا دیئے گئے ہیں جو پرندوں کو آشیانہ دیتے ہیں اور نہ قدرتی توازن کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ سموگ نے سانس لینا دشوار کر دیا ہے اور لاہور ہر سال دنیا کے بدترین فضائی آلودگی والے شہروں میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔لاہور کی معیشت پر بھی اس ماحولیاتی تباہی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ شدید گرمی کے باعث بجلی کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، پانی کی قلت نے صنعتوں کو نچوڑ دیا ہے اور سموگ نے صحت کے اخراجات کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ ہر سال ماحولیاتی آلودگی لاہور کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے لیکن افسوس ہمارے پالیسی ساز خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔اس بگاڑ کی بنیادی وجہ ناقص حکمرانی اور کمزور قانون سازی ہے۔ لاہور کے ماسٹر پلان محض کاغذوں پر موجود ہیں جن پر کوئی عمل نہیں ہوتا۔ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو قانونی تحفظ دے کرسر سبز زمینوں کو کنکریٹ میں دفن کر دیا گیا ہے۔ متعدد سرکاری ادارے ایک ہی کام میں الجھے ہوئے ہیں لیکن نتیجہ صرف بگاڑ اور تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
دنیا کے کئی شہروں نے ہم سے زیادہ سنگین حالات کے باوجود اپنی شناخت بچا لی۔ سنگاپور نے ’سٹی اِن اے گارڈن‘ وژن اختیار کیا، جہاں ہر نئی عمارت کے ساتھ درخت لگانا لازمی ہے، ہر سڑک کے ساتھ پارک بنایا جاتا ہے اور پورے شہر کو قدرتی خوبصورتی میں بسایا گیا ہے۔ وہاں ترقی بھی ہے اور سرسبزی بھی، بلند عمارتیں بھی ہیں اور چھاؤں والے درخت بھی۔ برازیل کا شہر کیوریچیبا اس کی ایک اور عمدہ مثال ہے جہاں دریا کے کنارے رہائشی سوسائٹیز بنانے کے بجائے پارک بنائے گئے۔ وہاں بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے، عوام کو تفریح میسر ہے اور شہر میں سیلاب کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر لاہور کو بچانا ہے تو ہمیں بھی فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ہمیں صرف شجرکاری کے نمائشی منصوبے نہیں بلکہ مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ ماسٹر پلان کو قانونی تحفظ دینا ہوگا اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہوگا۔ غیر قانونی تعمیرات کو ختم کر کے زمین واپس سبزہ زاروں میں بدلنا ہوگا۔ ہر نئی تعمیر میں 20 فیصد رقبہ سبزے کے لیے لازمی قرار دینا ہوگا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو بارش کا پانی زمین میں جذب کرنے کے لیے پابندکیا جائے، پارکوں کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو، اور ہر نئی عمارت میں گرین انفراسٹرکچر لازم قرار دیا جائے۔
ٹیکنالوجی کے استعمال سے بارش کے پانی کو سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ری چارج کیا جائے، گرین بیلٹس کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے تحت رکھا جائے اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سمارٹ ایئر پیوریفیکیشن زونز بنائے جائیں۔ پانی کو بچانے کے لیے گھروں میں واٹر ری سائیکلنگ سسٹمز کو لازمی قرار دیا جائے۔
اس کے ساتھ سب سے اہم بات عوام کی شرکت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ لاہور اپنے حسن کو دوبارہ حاصل کرے تو ہمیں خود بھی ذمہ داری لینا ہو گی۔ ہر شہری کو سال میں کم از کم پانچ درخت لگانے، پانی کے ضیاع کو روکنے، اور سبز جگہوں کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو ماحول دوستی کی تربیت دینا ہو گی اور میڈیا کو شعور بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم چاہیں تو چند پیسوں کی خاطر اپنی نسلوں کا مستقبل بیچ سکتے ہیں یا پھر ایک سبز اور خوبصورت لاہور اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں۔ وقت کی گھڑی خطرناک حد تک آگے نکل چکی ہے لیکن امید اب بھی زندہ ہے۔ اگر آج ہم نے درست فیصلہ کر لیا تو لاہور دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی پہچان پا سکتا ہے۔