میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ کتنا احمق شخص تھا جس نے کہا تھا کہ ” حضرت عیسیٰؑ کا تو تاریخ میں کہیں ذکر ہی نہیں ملتا۔“جس بزرگ ہستی کی پیدائش ¾ موت اوردوبارہ پیدا ہونے کے دن پر قرآن نے سلامتی بھیجی ہو ۔ جو زمانوں کے درمیان کھڑا ہوں یعنی قبل ازمسیح اوربعد از مسیح ¾ جن کومصلوب کرنے پرمسیحی چرچ نے 1965ءمیں دوسری نوسٹرا ایٹیٹ(Nostra Aetate) نامی بیان جاری کرکے یہودیوں کو جناب ِ مسیح کو مصلوب کرنے کے جرم سے بری الذمہ کیا یعنی یہ مقدمہ 1965ءتک تو عالمی عدالت ِ ضمیر میں تو چلتا رہا ۔ 18دسمبر کو استحکام پاکستان پارٹی نے اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ مل کر جناب مسیح علیہ سلام کا یوم ِ ولادت منایا۔ اس پروگرام کی صدارت وفاقی وزیرِ مواصلات عبد العلیم خان نے کی جبکہ تنظیم کے دوسرے عہدیداروں اورکارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جس میں مسیحی اور مسلمان بھائیوں کا یہ ایک عالی شان اکٹھ بن گیا۔ عبد العلیم خان نے اپنی تقریر میں قائد اعظم کے حوالے سے مسیحیوں کی خدمات کاذکر کیا اور ایک عظیم ریاست پاکستان کو بچانے کیلئے بلا امتیاز مذہب و مسلک ہر طرح کی قربانی دینے کے عہد کی تجدید بھی کی ۔ پاکستان کو درپیش خطرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عبد العلیم خان نے اندرونی اوربیرونی سازشوں کا ذکر کیا اور افواج پاکستان کو دفاعِ پاکستا ن کی سب سے مضبوط دیوار قراردیا جس کی حفاظت میں پاکستان کے عوام دل و جان سے اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ پروگرام کے اختتام میں جناب مسیح علیہ سلام اور قائد اعظم رحمہ اللہ کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیا جس میں مسیحی رہنما سابق ایم پی اے ہارون گلِ نے مسیحیوں کی نمائندگی کی ۔ اس پروگرام میںمرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد ¾مرکزی سکرٹری اطلاعات سید صمصام بخاری ¾استحکام پاکستان پارٹی پنجاب کے صدر رانا نذیر ¾ جنرل سیکرٹری شعیب صدیقی ¾ خواتین ونگ پنجاب اور لاہور کی صدور کے علاوہ لاہور کے صدر اورجنرل سیکرٹری نے بھی شرکت کی ۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا عبد العلیم خان واحد سیاسی لیڈر ہیں جواپنی وزارت کو پوری دیانتداری سے دیکھتے ہوئے بھی عوامی سیاست میں مکمل شریک ہیں۔یہ اُس بیانیے کی موت ہے جس میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران نیازی کے مخالف جیتنے والے اپنے حلقوں میں بھی نہیں جا سکتے ۔ گزشتہ سے پیوستہ اتوار کو وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے اپنے حلقہ این ۔ اے 117کا دورہ کیا جہاں نہ صرف اُن کا پُر تپاک استقبال ہوابلکہ علاقہ مکینوں نے گزشتہ بیس سال کی محرومیوں کا ازالا کرنے پر وفاقی وزیر عبد العلیم خان کا شکریہ ادا کیا ۔ جہاں سرکاری فنڈز سے بچیوں کے سکولوں کی تزئین و آرائش ہو رہی ہے وہیں عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن کے جناب سے اب تک 50پینے کے پانی کے فلٹر پلانٹ نصب کردئیے گئے ہیں اور مزید 50کا فوری لگوانے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہبں۔ لا تعداد سکولوں میں عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن کی جانب سے بچوں کو صاف پانی اورنئے واش روم بھی بنوا دیئے ہیں جن کا سلسلہ تا حال جاری ہے۔ عبد العلیم خان عوام کی سیاست عوام میں جا کرکرنے پر یقین رکھتے ہیں اور چونکہ وہ اپنے جیب سے خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے سو دوسرا کوئی سیاستدان اُن کے قریب سے بھی نہیں گزرتا ۔ بانٹنے والے اور لوٹنے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے ۔ عبد العلیم خان اپنی تقاریر میں پاک بھارت جنگ میں بھارت کی درگت بنانے پر پاک فوج کو خراج تحسین اور شہدا ءکے احترام کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جن کے باپ ¾ بیٹے اورخاوند تمہارے سہاگ اورعزتیں بچاتے جان دے دیتے ہیں اُن کا اخترام کرو ۔ سیاست ضرور کرو لیکن ریاست اورحکومت کے فرق کو سمجھ کر کرو ۔ ہم خدمت کرنے والے لوگ ہیں سو کسی سے بھی خوفزدہ نہیں ہیں کہ خوف نام کی کوئی چیز ہمارے قریب سے بھی نہیں گزری کہ اللہ کے بعد ہماری بہادر افواج وطن ِ عزیز کے دفاع کیلئے ہر وقت موجود ہیں ۔ اس وقت دفاع اور وفا کرنے والوں کا مقابلہ بیماری اور غداری سے ہے ۔ ہزاروں افراد نے شاہدرہ لاہور میں اُن کے انتخابی حلقہ میں اُن کا استقبال کیا اور اُن کی خدمات کو سراہا جو اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ عوام کلٹ سے نکل رہی ہے۔ عبد العلیم خان نے عوام اور پاکستان مخالفین کا پروپیگنڈا زائل کردیا کہ ”بدتمیز برگیڈ “ کوئی کارستانی کر سکتی ہے۔ جب آپ عوام کی خدمت کرتے ہیں تو عوام ہی آپ کے آگے سب سے بڑی دیوار بن کرکھڑ ی ہوتی ہے۔
اتوار کو کامونکی میں صدر استحکام پاکستان پارٹی پنجاب وسابق وزیر رانا نذیر جو بے مثل سیاسی شہرت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کامونکی میں استحکام ِ پاکستان ورکر کنونشن کا اہتمام کیا جس میںوفاقی وزیر عبد العلیم خان کے علاوہ مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود اور جنرل سیکرٹری پنجاب شعیب صدیقی نے بھی شرکت کی ۔ یہاں بھی انسانوں کا ہجوم تھا ۔ ڈھول کی تھاپ تھی ۔ محب وطن پاکستانی تھے جو عبد العلیم خان کی قیادت میں تشدد کی سیاست کی نفی کررہے تھے ۔ نوجوانوں اورخواتین کی ایک کثیر تعداد نے اپنے قائد عبد العلیم خان کا استقبال کیا جو ہجوم میں گھل مل گئے ۔ لوگوں سے اُن کے مسائل بارے پوچھا اور انہیں حل کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی گو کہ بہت سے مسائل حل کرا کر انہوں نے اس ورکنگ کنونشن میں شرکت کی ۔ جس پر علاقے کے لوگوں نے نہ صرف اُن کا شکریہ ادا کیا بلکہ اُن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ایک وقت آئے گا جب مورخ کو لکھنا پڑے گا کہ جب سارا پاکستان ایک جھوٹے پروپیگنڈا کا شکار تھا ¾ جب افواج پاکستان بارے نازیبا الفاظ استعمال کیے جا رہے تھے ¾ جب ملک دشمن اندرونی اور بیرونی قوتوں کے تانے بانے وطن کے رکھوالوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں ۔ جب سازشیں بے نقاب ہو چکیں اوراس سماج کو قاتلوں کا سماج بنانے کی ہر کوشش کر لی گئی تو واحد عبد العلیم خان تھا جو عوا م میں موجود تھا ¾ اپنے سیاسی پروگرام لئے جرا¿ت کے ساتھ کھڑا منفی پروپیگنڈا کا بھرپور جوا ب دے رہاتھا اور اُس کے ساتھی ہر محاذ پر ڈٹ کر اپنے اس عظیم قائد کے شانہ بشانہ تھے۔ عبد العلیم خان اس حوالے سے صاف ستھرا انسان ہے کہ اُس کی دوستی اور دشمنی کھلی ہے۔ وہ منافقت کر ہی نہیں سکتا کہ اللہ نے اُسے ایسا بنایا ہی نہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اورہر وہ شخص جو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے وہ عبد العلیم خان کے ساتھ ہی کھڑا ہے ۔ یہ وقت بھی گزر جائے گا ۔سدا نام اللہ کا رہے گا لیکن انسانوں کے کردار کا پتہ مشکل میں ہی چلتا ہے ۔ وقت بدل جائے تو خود نہیں بدلناچاہیے بلکہ وقت کو بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے اوریہی کام وفاقی وزیر و صدر استحکام ِ پاکستان پارٹی عبد العلیم خان پوری تندہی سے کررہا ہے۔ ایسے شخص کا ساتھ کیوں نہ دیا جائے؟۔