پنجاب میں پولیس اصلاحات کے حالیہ اعلانات نے ایک بار پھر امید اور شکوک کو ساتھ ساتھ جنم دیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت حالیہ اجلاس میں پنک بٹن، باڈی کیمز، آن لائن ایف آئی آر اور خوش اخلاقی کی ہدایات جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ بظاہر یہ سب ایک جدید، شفاف اور عوام دوست پولیس نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصلاحات اس بنیادی تضاد کو بھی حل کرسکیں گی جو خود حکومتی فیصلوں میں نظر آتا ہے؟
اجلاس میں ایک اہم اعتراف سامنے آیا کہ افسران کے تقرری پینل میں بعض کے بارے میں کرپشن میں ملوث ہونے کی نشاندہی درج ہوتی ہے، مگر انہیں پروفیشنل آفیسر قرار دے کر آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر وزیراعلیٰ کو خود معلوم ہے کہ کسی افسر پر کرپشن کے الزامات ہیں تو پھر ایسے افسران کی تعیناتی کیوں جاری رہتی ہے؟ کیا سیاسی ضرورت، وفاداری یا انتظامی مجبوری میرٹ پر فوقیت حاصل کر لیتی ہے؟ان کے خلاف کیوں کارروائی نہیں بڑھائی گئی؟
یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب دیئے بغیر کسی بھی اصلاحاتی پیکیج کی ساکھ مکمل نہیں ہو سکتی ۔اصلاحات کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے۔ اگر اعلیٰ سطح پر متنازع یا بدعنوان افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے گا تو نچلی سطح پر دیانت داری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ پولیس کلچر محض تھانے کے دروازے پر پنک بٹن لگانے یا اہلکار کو سر کہنے کی ہدایت دینے سے تبدیل نہیں ہوتا۔ یہ تقرریوں، تبادلوں اور احتساب کے شفاف نظام سے بدلتا ہے۔ باڈی کیمز کی تنصیب اور انوسٹی گیشن کی ویڈیو آڈیو ریکارڈنگ بلاشبہ مثبت اقدامات ہیں، مگر ان کی افادیت اسی وقت ثابت ہوگی جب ان سے حاصل ہونے والا ریکارڈ غیرجانبدارانہ احتساب کے لیے استعمال ہو۔ اگر بااثر افراد یا من پسند افسران کے خلاف شواہد ہونے کے باوجود کارروائی نہ ہو تو یہ ٹیکنالوجی محض نمائشی اقدام بن کر رہ جائے گی۔ اسی طرح آن لائن ایف آئی آر اور ٹریکنگ سسٹم شہریوں کو سہولت تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر اصل مسئلہ مقدمات کے اندراج میں سیاسی دباؤ اور اثر و رسوخ کا ہے۔ اگر نظام کے اندر طاقت کا توازن تبدیل نہ ہوا تو ڈیجیٹلائزیشن بھی پرانے مسائل کو نئے سانچے میں ڈھال دے گی۔
تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ اصلاحات میں نیت کا اظہار تو ہے، مگر مستقل مزاجی اور خود احتسابی کی عملی مثال کم نظر آتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازاگر واقعی کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے انہیں تقرریوں کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنانا ہوگا، متنازع افسران کو کلیدی عہدوں سے ہٹانا ہوگا اور احتساب کو سیاسی وابستگی سے بالاتر کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوگا کہ کرپشن کے خلاف بیانیہ اور تقرریوں کی حقیقت میں تضاد موجود ہے۔
عوام کو خوش اخلاقی سے مخاطب کرنا اچھی بات ہے، مگر اصل عزت انصاف کی بروقت فراہمی سے ملتی ہے۔ جب تک عام شہری کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔چاہے وہ بااثر ہو یا عام آدمی۔تب تک ہر اصلاح ادھوری رہے گی۔
پولیس اصلاحات کا اصل امتحان اعلانات نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر حکومت اپنے ہی فیصلوں میں تضادات ختم کر کے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنائے تو یہ اقدامات واقعی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر یہ سوال بار بار اٹھتا رہے گا۔کیا اصلاحات نظام بدلنے کے لیے ہیں، یا صرف تاثر سنوارنے کے لیے؟
بوڑھے چچا حوالدار کا کہنا تھا کہ عوام آج بھی اپنے مقدمات کی تفتیش کے لئے خود اخراجات کا بوجھ اٹھاتی ہے۔محکمہ پولیس کا پٹرول تک پورا کرنے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔
وزیر اعلی نے اجلاس میں آئی جی پنجاب کو بار بار مخاطب کیالیکن احتساب کا عمل خود بھی تو شروع کیا جا سکتا ہے ۔
پنجاب کی سات لاکھ کی نفری کہاں ہے؟ دراصل ایک علامتی سوال ہے۔ یہ نفری صرف اعداد و شمار میں ہے یا میدانِ عمل میں بھی؟ بوڑھے چچا حوالدار نے انکشاف کیا کہ زیادہ تر حاضر ڈیوٹی افسران اور ریٹائرڈ افسران کے گھروں پر موجود ہے۔ اگر پولیس فورس کی استعداد اور کارکردگی میں واضح خلا موجود ہے تو اس کی ذمہ داری صرف ماتحتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ کمانڈ اسٹرکچر، تبادلوں کی پالیسی، اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے۔
پولیس اصلاحات کا اصل امتحان بیانات یا برہمی نہیں بلکہ عملی نتائج ہیں۔ اگر حکومت واقعی تبدیلی چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے فیصلوں میں موجود تضادات ختم کرنا ہوں گے۔ بصورتِ دیگر یہ سوال گونجتا رہے گا: نفری بھی موجود، اختیارات بھی وسیع ،پھر نظام کمزور کیوں ہے؟