Wed, September 16, 2026

امراض چشم، معجزاتی تبدیلی، سولر صارفین

امراض چشم، معجزاتی تبدیلی، سولر صارفین

آنکھوں کی دھندلاہٹ نے بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ پورا سیاسی منظر نامہ دھندلا گیا۔ اڈیالہ جیل میں 2 سال 4 ماہ سے قید بہتوں کے پیارے خان کے بقول ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی (یہ کسی ماہر امراض چشم کی رائے نہیں تھی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان کے وکیل کو ہی فرینڈ آف کورٹ کی حیثیت سے خان کی صحت اور دیگر مراعات کا جائزہ لینے جیل بھیجا، دو گھنٹے چالیس منٹ ملاقات ہوئی، مراعات تسلی بخش دائیں آنکھ بیمار نکلی، آنکھوں سے پانی بہتا رہا، چشمۂ آب رواں، آنکھوں کا پانی مرنا اردو شاعری میں مستعمل محاورے معانی مختلف، بیماری کی تشخیص میں تاخیر کی شکایت، خان نے بتایا کہ تین چار ماہ قبل آنکھیں ٹھیک تھیں، اچانک بینائی متاثر ہونے لگی جیل حکام نے ڈاکٹر بھیجا اس نے ڈراپس دئیے افاقہ نہ ہوا۔ پچھلے دنوں ایک آنکھ کی بینائی ختم، پمز ہسپتال لے جایا گیا۔ انجکشن لگا بینائی 15 فیصد بحال ہوئی۔ باقی خیریت ہے بس تنہائی ستاتی ہے۔ محترم وکیل نے 7 صفحات میں 22 پیراگراف پر مشتمل رپورٹ تیار کی اور چیف جسٹس کی خدمت میں پیش کر دی، آنریبل چیف جسٹس نے حکم صادر فرمایا کہ 16 فروری تک ماہرین چشم سے علاج کرایا جائے اور خان کے بچوں سے ان کی بات کرائی جائے۔ حکومت حکم کی تعمیل کے لیے دل و جان سے آمادہ لیکن بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ اک شور قیامت، ٹاک آف دی کنٹری تمام مسائل پس منظر میں چلے گئے، خان کا یہی کمال ہے اس لیے ہم انہیں ’’بڑے خان صاحب‘‘ لکھا کرتے ہیں۔ حکومت شاید گھبرائی تھرائی ایوانوں میں زلزلہ، حدی خوان ایک ہی دن میں حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لے آئے، کسی اچھے ہسپتال میں خان کی آنکھیں دکھانے کی بجائے فدائین حکومت کو آنکھیں دکھانے لگے، خان کا سوشل میڈیا، ٹی وی کے مختلف چینلز پر بیٹھے اینکر پرسنز، باتوں سے کھیلنے والے لکھاریوں، سنسنی خیز شہ سرخیاں جمانے والے تجزیہ کاروں اور ویلاگرز نے دو تین روز میں وہ طوفان اٹھایا کہ الامان والحفیظ ’’بات پہنچی تیری رہائی تک‘‘ کچے پکے وزراء نے لاکھ سمجھایا کہ خان قوم کا اثاثہ، قوم یوتھ کی آنکھوں کا تارا دلوں کا سہارا حکومت کی ذمہ داری، جہاں چاہیں علاج کرا لیں، پی ٹی آئی کے سیاسی ونگ نے پانچ چھ ڈاکٹروں کی فہرست بنائی صحافیوں کو دکھائی اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ آنکھوں کا علاج مقصود تھا یا سیاسی ہنگامہ آرائی کے ذریعہ چند روزہ ہلچل، اکتوبر سے اب تک قائد حزب اختلاف، خان کی بہنیں اور پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت خان کی صحت پر اطمینان کا اظہار کرتی رہیں۔  علیمہ باجی اور ان کے بیٹے گڈیاں اڑاتے رہے ثقافت نے سیاست کو شکست دے دی، 8 فروری ڈیزاسٹر ثابت ہوئی، اچانک چند بزرجمہر مل بیٹھے کچھ نہ ہونے پر شرمندہ ہوئے کچھ کرنے کا عزم کیا چیف جسٹس سے ملنے کا فیصلہ ہوا اور یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے، دعا کرنی چاہیے کہ خان کی بینائی 100 فیصد بحال ہو جائے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ شفائے عاجلہ عطا فرمائے تاکہ وہ کھلی آنکھوں سے اپنی پارٹی میں ہونے والی لڑائی اور ان کی قید کو سیاسی مفادات میں رنگ بھرنے والوں کی رنگ بازی دیکھ سکیں، آنکھوں کی بیماری خطرناک لیکن قابل علاج ہے۔ ماہرین امراض چشم کو یقین ہے کہ خان صاحب بہت جلد صحتیاب ہو کر اندھیرے اجالے میں ہر چیز دیکھ سکیں گے۔ اللہ اپنا کرم کرے ۔ سیاسی بازی گروں کا احوال سنتے جائیے، نئے پرانے مہربانوں نے بیماری کی آڑ میں اپنی خواہشات کو خبریں بنا کر میڈیا میں اچھالنا شروع کر دیا۔ ڈیل ڈھیل، بنی گالہ منتقلی، جمائمہ کی کوششوں سے برطانیہ روانگی، یو اے ای اگلی منزل، سیانے بیانے دانشور مشاہد حسین سید کو خواک میں ترک صدر طیب اردوان کا پیغام ملا کہ خان کو ترکیہ بھیج دو، کسی نے سعودی عرب پہنچنے کا آپشن کیا۔ ایک بھلے مانس نے خبر دی کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ پس پردہ کچھ ہو رہا ہے خان کی اپنے وکیل سے طویل ملاقات کے بعد فیصلے آنا شروع ہو گئے۔ برف پگھل رہی ہے۔ خان کا ٹوئٹر خاموش ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق خان نے کہا کہ میں آئندہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کال نہیں دوں گا۔ خان اور ان کی پارٹی ایک دو نہیں کئی قدم پیچھے ہٹی مستقبل کے بارے میں قابل اعتماد تجزیے دینے والے سہیل وڑائچ نے حالات کی کوکھ سے 3 سالہ اور 5 سالہ قومی حکومت کی خوشخبری سنائی جس میں خان کی پارٹی بھی شامل ہو گی کیا واقعی؟ لیکن مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا کیا ہو گا۔ ’’جن کو تہذیب نہ آداب محبت معلوم، ایسے لوگوں کو یہاں کون دوبارہ لائے‘‘ فیصل واوڈا 5 سو سے پانچ ہزار سیاستدانوں کی فہرست بنائے بیٹھے ہیں جنہیں سڑکوں پر پھانسی دی جانی چاہیے تب ہی ملک کے حالات درست ہوں گے ایک نوخیز ویلاگر نے خبر دی کہ خان ہی نہیں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی صحت بھی رہائی یا منتقلی کی متقاضی ہے۔ درود شریف پڑھ کر جھوٹ بولنے والے بھاری بھرکم ویلاگر نے شیخی بگھاری بڑی خبر دے رہا ہوں 8 فروری کو بڑا دھماکہ ہو گا خان سمیت سب باہر ہوں گے 8 فروری سے آگے دن نہیں جائے گا۔ کئی دن گزر گئے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے کچھ نہیں بدلا، پلان کے تحت سب کچھ بدلے گا، پی ٹی آئی کے سارے بیانئے زمیں بوس، رہائی ممکن نہیں، باسی کڑھی میں ابال خان کے آئندہ مقدمات میں سزائوں کا خوف قرار دیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ ہائوس پر دھرنوں سے کیا ہو گا، 2014ء کے دھرنوں کی طرح سائیں پیچھے نہیں ہیں، گریباں چاک ہوں گے بالوں سے پکڑ کر کھینچا تانی ہو گی سب کو اپنی اپنی حدود کا علم ہے اسی لیے مذاکرات کی خواہش اور آزادی یا موت کے نعروں والا کنٹینر بیک وقت تیار ہے۔ حیرت ہے خان کی آنکھ کی کسی کو فکر نہیں۔
حکومت پُر سکون ہے لیکن نہیں جانتی کہ دائیں بائیں کے فرشتے رجسٹر کھولے فرد جرم تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ 22 ماہ کے دوران حکومتی قرضوں میں 13 ہزار 719 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، سرکاری ملکیتی اداروں کا خسارہ تین سو فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ بہت دور تہہ میں کہیں خوفناک طوفان پل رہے ہیں۔ عوام دکھی ہیں مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں پریشان، رمضان المبارک میں تاجر اپنی عادت کے مطابق قیمتیں بڑھائیں گے غریبوں کی اکثریت ووٹرز کی ہے وہ درآمدات کے بڑھتے حجم اور برآمدات میں کمی سے حیران ہیں حکومت کے اقدامات، سرمایہ کاروں کی بد اعتمادی اور فیکٹریوں کی بندش سے پریشان اور سولر صارفین پر حالیہ مالی بوجھ پر برہم ہیں۔ طرفہ تماشا ہے کہ بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے سولر سسٹم کو فروغ دیا گیا۔ شہروں قصبوں میں سولر کی شیٹس لگ گئیں بجلی ضرورت سے زیادہ ہو گئی تو سولر صارفین سے کہا گیا کہ حکومت ان سے دس گیارہ روپے یونٹ بجلی خریدے گی جبکہ وہ حکومت سے 40 روپ یونٹ بجلی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ اسی طرح پروٹیکٹڈ کنزیومرز پر 132 ارب کے ٹیکس عائد کر دئیے گئے وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا لیکن نیپرا شاید پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہو گا، ’’مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟‘‘

ٹیگز: